بجلی چوری ہوتی ہے، مگر؟

بجلی چوری ہوتی ہے، مگر؟

وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب نے یہ کوئی غیر معمولی انکشاف نہیں کیا کہ پشاور، حیدر آباد، سکھر اور کوئٹہ ریجن میں سب سے زیادہ بجلی چوری ہوتی ہے۔ انہوں نے محکمے کی کارروائیوں کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ سینکڑوں کنڈے اُتار دیئے گئے ہیں، عدالت عظمیٰ میں آئی پی پیز کو زیادہ ادائیگیوں کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران رپورٹ پیش کئے جانے کے بعد انہوں نے مزید بتایا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور اب کہیں بھی لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی۔البتہ چوری والے علاقوں میں اعلانیہ ایسا کیا جاتا ہے اور دیگر کسی جگہ بجلی بند ہو تو وہ مرمت کے لئے ہوتی ہے۔انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ گیس نہ ملنے کی وجہ سے کئی بجلی گھر فرنس آئل پر چلائے جانے کی وجہ سے بجلی مہنگی پیدا ہوتی ہے۔وزیر توانائی کے یہ انکشاف کوئی نئے اور حیران کن نہیں ہیں۔سابقہ ادوار میں بھی یہی مشکل بیان کی جاتی تھی اور وزراء بڑے بڑے اعلان بھی کرتے تھے،لیکن ابھی تک نہ چوری روکی جا سکی اور نہ ہی بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگیوں کا مسئلہ حل ہوا۔ وزیر موصوف نے اِس حوالے سے صرف نشاندہی پر اکتفا کیا، حالانکہ قبائلی علاقوں میں جو اب کے پی کے کا حصہ ہیں تو بجلی کے بل دیئے ہی نہیں جاتے اور بجلی بھی بند نہیں کرنے دی جاتی۔ اب جبکہ فاٹا اور پاٹا خیبرپختونخوا میں ضم کئے گئے ہیں تو ان علاقوں میں بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔ بہرحال جہاں تک بجلی چوری روکنے اور بلوں کی وصولی کا تعلق ہے تو وزیر موصوف کو واضح پالیسی اور اقدامات کا اعلان کرنا چاہئے۔مہنگی بجلی پیدا کرنے کی اطلاع تو صارفین کے لئے بجلی مہنگی کرنے کا جواز ہے۔صارفین تو یہ چاہتے ہیں کہ ان پر ناروا بوجھ نہ ڈالا جائے اور جو چوری کرتے ہیں، ان کا نقصان بل دینے والوں سے پورا نہ کیا جائے۔ حکومتِ وقت اگر الزام لگاتی ہے تو اس کا اب سدِ باب بھی اسی کی ذمہ داری ہے، بجلی چوری یقیناًایک قبیح جرم ہے،لیکن اس کا جرمانہ چوری نہ کرنے والوں پر ڈال دینا بھی درست نہیں۔ بہتر عمل یہ ہے کہ سمت درست کی جائے اور حق داروں کو حق دیا جائے، جو جرم کرتے ہیں، صرف ان کو پکڑا جائے۔

مزید : رائے /اداریہ