بہتر تو یہ ہے کہ۔۔۔

بہتر تو یہ ہے کہ۔۔۔
بہتر تو یہ ہے کہ۔۔۔

  


یہ جو وقت گذر رہا ہے، ہمارے لئے تعجب کے کئی مظہر لے کر آتا ہے۔ گھر سے دفتر کے لئے روانہ ہوئے، تو نئی سیاسی صورتِ حال پر غور کرتے ہوئے پنجابی فلموں کے منظر نظر سے گذر رہے تھے اور سلطان راہی کا گنڈاسا، مصطفی قریشی کی آواز سنائی دے رہی تھی، انہی حالات کی روشنی میں بچپن اور جائے پیدائش اور لڑکپن کا ماحول بھی یاد آیا، دفتر میں آئے تو میاں اشفاق انجم کو بھی کچھ ایسی ہی سوجھی اور پوچھ بیٹھے ’’آپ کی پیدائش کہاں کی ہے‘‘ غالباً ٹوپی اور مفلر کے باعث انہوں نے خیال کیا کہ ہم بھی شاید مہاجر ہیں(مطلب مشرقی پنجاب سے ہجرت کرنے والے) تاہم ایسا نہیں تھا،ہماری پیدائش اندرون اکبری دروازہ لاہور کی ہے اور کھیلے کودے سرکلر اور باغ بیرون موچی دروازہ میں تھے، حالات حاضرہ ہی کی روشنی میں یہ دور یاد بھی آ رہا تھا کہ ہمارے لڑکپن کے زمانے میں تھیٹر مقبول اور بڑھک مشہور تھی اور عام لڑائیاں بڑھک بازی ہی کے باعث ہوتی تھیں، تب کسی کلاشنکوف اور جرمن لوگر کا نہیں۔ گھونسے،مکے، لاتوں اور چاقو کا دور تھا۔ زیادہ سے زیادہ لاٹھیاں چلتی تھیں اور یہی کلچر بعد میں پنجابی فلموں میں گنڈاسے تک پہنچا، ’’نوری نت تے مولا جٹ‘‘ مشہور ہوئے۔ تب دو ڈائیلاگ بہت ہی مقبول تھے۔ ایک تو مولا جٹ کا یہ ’’مولا نوں مولا نہ مارے تے اوہنوں کوئی نہیں مار سکدا‘‘ اور دوسرا مصطفی قریشی کی دھیمی آواز میں ’’نواں آیا ایں سوہنیا‘‘ تھا۔

یہ سب یوں یاد آیا کہ ہماری صحافیانہ زندگی کے پچپن سال کے دوران سیاسی میدان میں ایسا مولا جٹ اور نوری نت والا ماحول نہیں تھا جو اب ہے اور نہ ہی کسی سیاست دان پر منور ظریف کا گمان گزرتا تھا،لیکن اب جدھر دیکھتا ہوں والی بات ہے۔ ابھی گزشتہ روز وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی ایک ویڈیو ٹیلی ویژن پر دیکھی اور ان کی گفتگو سُنی، اسی حوالے سے ہم ماضی میں ڈبکی لگانے پر مجبور ہوئے۔کچھ ایسا ہے کہ آج کل قومی اسمبلی میں مہمند ڈیم کے ٹھیکے کی بات چل رہی ہے تو کراچی میں سندھ کی تبدیلیوں کا چرچا ہے،جس کے باعث پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے رہنماؤں میں ڈائیلاگ کا تبادلہ ہو رہا ہے۔فیصل واوڈا اسی حوالے سے کہہ رہے تھے۔ قائد حزب اختلاف نے قومی اسمبلی میں میری غیر موجودگی میں مہمند ڈیم کے ٹھیکے کی بات کی ہے۔ اس کا جواب تو مَیں پیر کو اسمبلی میں آ کر دوں گا‘‘ یہ ڈیم رکوانا چاہتے ہیں،مَیں کہتا ہوں، ڈیم بنے گا کسی کے باپ کی مجال نہیں کہ ڈیم کی تعمیر روک سکے‘‘ پھر ان کا روئے سخن سندھ حکومت کی طرف ہوا تو انہوں نے مخاطب کرتے ہوئے کہا، سندھ حکومت گرانے کا کوئی ارادہ نہیں، مراد علی شاہ باز آ جائیں۔ اگر وہ نہ ٹلے تو مجھے جانتے ہیں، پھر مجھے کچھ کرنا پڑے گا‘‘۔

یہ دیکھ کر ہمیں تو اپنے بھائی فواد چودھری کا ٹوئٹ بھی یاد آیا،’’تمہی کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے‘‘ ہم تو فواد چودھری سے کہنے والے تھے وہ گنڈاسا نہ اٹھائیں، یہاں فیصل واوڈا تشریف لے آئے جن کے دم قدم سے موچی دروازہ یاد آ گیا اور پھر یہ کہ ’’پہلے ڈراؤ، اور کوئی نہ ڈرے تو خود ڈر جاؤ‘‘ لیکن فیصل صاحب والا یہ مسئلہ نہیں لگتا وہ تو پستول لگا کر اور بلٹ پروف جیکٹ پہن کر چینی قونصل خانے پہنچ گئے تھے۔

ہم نے طویل عرصہ پارلیمانی اور سیاسی رپورٹنگ کی، مُلک میں اہم ترین سیاسی تحریکوں کی کوریج بھی کی،لیکن جو کلچر اب متعارف کرا دیا گیا وہ پہلے کبھی نہیں تھا۔ یہ درست کہ ماضی میں بھی بے ہودگی کے مظاہرے ہوئے تاہم ان پر جلد قابو پا لیا گیا،لیکن اب کنٹینرز کی مہربانی سے جو ماحول بنا وہ درست ہی نہیں ہو پا رہا، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کے وزرا بھائیوں کو ابھی تک یقین نہیں آیا کہ وہ اس ریاست کے حکمران اور وزیر ہیں،جس میں 22کروڑ انسان بنتے ہیں اور ان کی ضروریات بڑے بڑے ڈائیلاگ اور دوبدو سوال و جواب نہیں، صحت، روزگار، تعلیم اور ضروریات زندگی ہیں۔ یوں بھی ہمیں اب تو ایک مستحکم سیاسی نظام چاہئے، تاکہ معاشی ناہمواری کا کوئی سدباب ہو سکے اور بدقسمتی سے جو اقتصادی صورتِ حال بن چکی اُسے سدھارا جا سکے،لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تحریک انصاف والے حاصل(آئین کے تحت) اختیارات سے مطمئن نہیں اور وہ کلی اختیار چاہتے ہیں

تاکہ وہ اپنے منصوبوں اور پروگرام کے مطابق عمل کریں اور ان کو کوئی پوچھنے والا نہ ہو، دوسرے معنوں میں ان سب کو ہی صدارتی نظام حکومت پسند ہے،لیکن یہاں تو پارلیمانی طرز ہے اور اب پارلیمان میں نمائندگی کے تناسب سے تحریک انصاف کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی پسند کے نظام کے لئے آئین میں تبدیلی کرا سکے۔ کئی دانشور حساب لگا لگا کر بتاتے ہیں کہ وفاق اور پنجاب میں جو تناسب ہے اس میں اِن ہاؤس تبدیلی ممکن ہے،لیکن سندھ اسمبلی میں نمائندگی کا تناسب یہ اجازت نہیں دیتا، تاوقتیکہ کراچی سے تحریک انصاف کو 14نشستیں دلانے والی ’’طاقت‘‘ ہی یہ فیصلہ نہ کر لے۔بہرحال وزراء کے حملے اور پارٹیوں کے جوابی وار جمہوری اور پارلیمانی انداز نہیں ہے، کیونکہ سیاست کے میدان میں جمہوری اور پارلیمانی روایت یہ ہے کہ دلیل سے جواب دو، دوسرے معنوں میں ’’جیو اور جیتے رہنے دو‘‘ پر عمل کرنا ہوتا ہے، جو نہیں ہو رہا، بہرحال ایک بات پر غور کر لیں کہ اب ایسا نہیں ہو گا،یعنی ماورائے آئین کوئی اقدام نہیں ہو سکے گا، چاہے کوئی بھی کوشش کرے۔

مزید : رائے /کالم