فیس بُک کا دس سالہ چیلنج

فیس بُک کا دس سالہ چیلنج
فیس بُک کا دس سالہ چیلنج

  


رواں صدی کی اصطلاح برتوں تو آج کل سوشل میڈیا پہ زور پکڑنے والا ’ دس سالہ چیلنج‘ سب سے مقبول ٹرینڈ قرار پائے گا ۔ جسے دیکھو ’فیس بُک‘ پر اپنا د س برس پرانا فوٹو اور اُس کے ساتھ ایک نوِیں نکور سیلفی آویزاں کر کے رائے عامہ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے انتظار میں ہے۔ بعض تصویروں میں وضع قطع کا اختلاف نمایاں ہے ، کسی جگہ ادنی متوسط طبقے والی شکل پہ خوشحالی کا تازہ میک اپ سج گیا ہے ، کہیں کہیں فِٹ نس کے لیول میں اتنا نمایاں فرق ہے جیسے موٹاپا ختم کرنے کی دوا کے اشتہار میں لکھا ہو ’’استعمال سے پہلے ، استعمال کے بعد‘‘۔ اگر سوشل میڈیا پہ انسانی شکلوں کا تقابلی جائزہ اُس طرح نہ بھی لیں جیسے کوہاٹ میں آئی ایس ایس بی والے فوجی کمیشن کے امیدواروں کو ٹھونک بجا کر دیکھتے ہیں تو بھی فیس بُک کے اکثر فرینڈز یہ کہتے ہوئے محسوس ہوں گے کہ :

مَیں اپنے آپ کو بھی بہت اجنبی لگا

دو ، چار سال پہلے کی تصویر دیکھ کر

’دس سالہ چیلنج‘ کو پڑھ کر پہلا خیال یہ آیا کہ ہم میں سے کتنے لوگ اپنے ظاہری خدو خال کو کتنی اہمیت دیتے ہیں اور اگر دیتے ہیں تو کیا عمر کے ہر حصے میں اِس رجحان کی شدت یکساں رہتی ہے ؟ ایک اور سوال سماجی طبقے اور دیہی و شہری آبادی کا ہے اور یہ بھی کہ آپ کی اپنی ’صنفِ سخن‘ ہے کیا ؟ ایک بنیادی نوعیت کا نکتہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسری کے دِنوں میں ہمارے انگلش ڈپارٹمنٹ کی چیئرپرسن مسز شمیم عباس نے سُجھایا تھا ۔ کہنے لگیں ’’ہم کسی مخصوص امیج کے مطابق زندگی کیوں گزارنا چاہتے ہیں؟‘‘ یہ گفتگو اِس لئے چھڑی کہ سگریٹ نوشی کے دوران مَیں نے ایک روز انہیں ’کنگ ایڈورڈ‘ سگار پیش کردیا تھا ۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ عورتیں تو سگار نہیں پیتیں اور ہنستے ہوئے میرے منہ سے نکلا کہ مسز عباس ، آپ بھی محض فنی طور پہ عورت ہیں۔

ڈاکٹر شمیم عباس اب دنیا میں نہیں اور اُن کے پیچھے پیچھے چلنے والے لوگ اُسی مسافت کے مراحل طے کررہے ہیں، جہاں فیض احمد فیض کے الفاظ میں کسی بھی چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوش ’’دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیں‘‘ ۔ پھر یہ بحثیں شروع ہو جاتی ہیں کہ کِس کِس کا استقبال پروفیسر خواجہ محمد زکریا اور ڈاکٹر خورشید رضوی کی طرح گریس فُل ادھیڑ عمری نے کیا اور کون میری طرح دھوپ میں بال سفید کرکے بوڑھا تو دکھائی دینے لگا مگر بزرگی نصیب نہ ہوئی ۔ یہ دوسری بات کہ لاہور پریس کلب میں پیشہ ور زندگی کے پرانے ساتھی اب مجھے عمر رسیدہ آدمی سمجھ کر اضافی احترام سے ملنے لگے ہیں ۔ یہ دعوت بھی ملتی ہے کہ شام کو کچھ وقت کے لئے آ جایا کریں، مگر سچ مچ چلا جاؤں تو ایک آخری بورڈنگ کارڈ تھما کر میرا تراہ نکال دیتے ہیں کہ ’’عزیز مظہر ، اعجاز رضوی اور رفیق غوری کے چلے جانے کے بعد اب آپ ہی رہ گئے ہیں‘‘۔

خیر ، میل ملاقات سے گریز کے رویے میں اگر پختگی آئی تو یہ مت سمجھیں کہ اِس کے پیچھے عمر کا طعنہ دینے والے دوستوں کا ہاتھ ہے ۔ درحقیقت فیس بُک کے ’دس سالہ چیلنج‘ کو اہمیت نہ دی جائے تو بھی دو انچ فی سال پھیلتی ہوئی توند ، جلد کی ڈھلتی ہوئی شادابی اور بالوں کی بدلتی رنگت جسمانی انحطاط کی واضح علامتیں شمار ہوں گی ۔ پھر بھی یہ اُن تبدیلیوں کا مکمل اشارہ نہیں جن کا نامحسوس عمل سطحِ آب کے نیچے جاری و ساری ہے ۔ تو کیا یہ نیم روشن کیفیتی تبدیلیاں جسمانی طور پہ آشکار ہوتی ہی نہیں ؟ میرا جواب نفی میں ہوا تو کیا خبر آپ تبدیلی کے اِس پُراسرار عمل کو ماننے سے ہی انکار کر دیں ۔ چنانچہ مَیں اپنا موقف واضح کرنے کے ذوالفقار علی بھٹو کی مثال دوں گا، جنہوں نے ایک تقریر میں مخالفین سے کہا تھا ’’ بھائی صاحب ، غصہ نہ کرو ، آ رام سے بیٹھو ، پنکھا چلاؤ ، پانی پیو اور پھر میری بات سنو‘‘۔

میری یہ بات اِس پرانے مشاہدے پر مبنی ہے کہ پچاس سال کی عمر میں آپ کا چہرہ ویسا ہو جاتا ہے، جس کے آپ مستحق ہوں ۔ یوں سمجھ لیں کہ کتاب کے شروع میں درج فہرستِ مضامین کی طرح انسانی شکل صورت مذکورہ انسان کی خوش کاریوں اور بداعمالیوں کا آئینہ بن جاتی ہے ۔ اِسی لئے تو حسن ابدال میں پیر ولی شاہ قندھاری کی پہاڑی کھوہ میں پچھلے پانچ برسوں کے دوران دُنیا کے ہر کونے کھدرے سے بچھڑے ہوئے ساتھی جب بھی ملے ، ڈاکٹر امیر جعفری کو دیکھ کر سب کو لگا کہ ایک قہقہہ بار ذہانت انسانی شکل میں ڈھل گئی ہے ۔ جی پی اے کے لحاظ سے ’اے گریڈ‘ عام طور پہ ہمارے میزبان اسد خان ہی کو ملا ، راجہ حسن اختر اپنے کرنیلی قد کاٹھ کی بدولت ’اے مائنس‘ کے درجہ پہ رہے اور مَیں برصغیر سے رخصت ہونے والے آخری انگریز افسر کے عطا کردہ کوٹ پتلون کی برکت سے بارہا ’بی پلس‘ کا حقدار ٹھہرا۔

ایک جاپانی کہاوت کے مطابق ، ہر انسان کی تین شخصیتیں ہوتی ہیں ۔ ایک تو سماجی شخصیت، جس سے دُنیا واقف ہو ۔ دوسرے درونِ خانہ اور بے تکلف دوستوں کے سامنے آپ کا خانگی وجود ۔ تیسرا وہ باطنی چہرہ ہے،جس کی جھلک خاص خاص موقعوں کے سوا آپ کسی کو دیکھنے ہی نہیں دیتے، بلکہ ہو سکتا ہے کہ خود بھی اُس پہ نظر ڈالنے کی جرات نہ کرتے ہوں ۔ انسانی اجزائے ترکیبی کے حساب سے یہ زمرہ بندی دلچسپ ، منطقی اور سمجھ میں آنے والی ہے۔ پر اِس کا کیا علاج کہ معاشرے میں رہتے ہوئے کسی بھی انسانی اکائی کی یہ تہیں ہمیشہ کے لیے منجمد نہیں رہتیں ، اِن کے درمیان باہمی نسبت تناسب اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے ۔ میرے بیٹے اسد نے ، جو مصنوعی ذہانت کے شعبہ میں تحقیقی کام کرتا ہے ، ایک دن یہ تک کہہ دیا تھا کہ یار ابو، سارا ویلیو سسٹم ہی ایک سافٹ وئیر کی طرح ہوتا ہے ، پرانا نکالا اور نیا ڈال لیا۔

اب اپنی سماجی ، خانگی اور باطنی شخصیات کو یکجا کرنے کی کوشش میں کچھ عرصے سے یہ کالم نویس اندرونی سافٹ وئیر نکالنے اور ڈالنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے ۔ پر جی ، یہ کارروائی اُتنی سہل نہیں جیسے مرحوم نوابزادہ نصراللہ خان سیا سی حکومتوں کے ضمن میں ایسٹیبلشمنٹ کے رویے کے خلاف کہہ دیا کرتے تھے کہ ’’مَیں ترا چراغ ہوں ، جلائے جا بجھائے جا ‘‘ ۔ میرے سافٹ وئیر کے لیے تو ہر روز ایک نئی الائنمنٹ بنتی ہے اور اکثر اوقات شام تک تبدیل ہو جاتی ہے۔ ممکن ہے آپ کا دھیان جنریشن گیپ کے دلفریب نعرے کی طرف چلا جائے ، لیکن وہ مسئلہ ہی کیا جو آسانی سے حل ہو گیا ۔ چنانچہ منجھے ہوئے انگریز سفارتکاروں کی طرح یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ یہ جنریشن گیپ کا سوال ہے بھی اور نہیں بھی ۔ وہ کیسے ؟ جواب اگلے پیراگراف میں ملاحظہ فرمایئے۔

جنریشن گیپ اِس لئے نہیں کہ اگر کوئی بچہ مجھ سے چالیس سال بعد پیدا ہوا تو ظاہر ہے اِس تاخیر میں بچے کا قصور نہیں ، قصور میرا ہے، جس نے پیدا ہونے میں جلدی کی ۔ ویسے یہ ٹھیک ہے کہ ہر دَور کی اپنی اٹھان ہوتی ہے ، مگر اُسی میں قید ہو کر آئندہ سوچوں کو رد کرتے جانا اعتماد کی کمی یا تصوراتی کمزوری کے سوا کچھ نہیں۔یوں اسد میاں کی سافٹ وئیر والی بات دل کو لگتی ہے، چنانچہ خاندان کے اندر اور باہر 1990ء کی دہائی میں پیدا ہونے والوں کے لئے میرا ترمیم شدہ سافٹ وئیر ابھی تک کارآمد ثابت ہوا ہے یا کم از کم میرا ماننا یہی ہے ۔ پھر بھی یہ نسلی تفاوت کا سوال اِس لئے ہے کہ نئی ہزاری میں تولد ہونے والی ’میلینیم جنریشن‘ کے دو نوجوانوں سے پچھلے مہینے میرا جو ڈائیلاگ ہوا ، اُس نے میرے سافٹ وئیر کو صرف ریجیکٹ ہی نہیں کیا ، میرا کمپیوٹر بھی کریش کر دیا ہے۔

پہلا مکالمہ اپنے سب سے چھوٹے بھتیجے حسن ملک سے تھا جس سے مَیں یہ پوچھنے کا سزاوار ہوا کہ ’اے لیول‘ میں سائیکالوجی کے مضمون میں وہ کتنے پرچوں کا امتحان دے رہا ہے ۔ کہنے لگے ’’ڈیپینڈ کرتا ہے‘‘۔ ’’کیا مطلب؟‘‘ ’’دیکھیں ، دو پرچے تو ’اے ایس‘ کے ہیں‘‘ ۔ ’’وہ پہلے سال میں ممکن تھا جو گزر چکا ہے ، آپ تو دوسرے سال میں ہیں‘‘ ۔ ’’تایا ابو ، یہی تو بتا رہا ہوں‘‘ ۔ مَیں چُپ ہو گیا۔ اِس کے بعد حسن صاحب نے میرے لاتعداد چھوٹے چھوٹے سوالوں کے جواب میں چار پرچوں کے الگ الگ نصاب کی جو تفصیل بتائی ہے، اُس میں پہلے دو اور آخری دو پیپرز کا سلیبس مجھے ایک ہی لگا ۔ سٹپٹا کر پوچھا ’’حسن ، دو دو پرچوں کی کورس آؤٹ لائین بالکل ایک سی تو نہیں ہو سکتی نا؟ ‘‘ ’’ایک سی ہے‘‘۔ ’’بیٹا ، کہیں یہ تو نہیں کہ ایک ایک پیپر تھیوری کا ہو اور دوسرے میں کیس اسٹڈیز ہوں ‘‘ ۔ ’’یہی تو کہہ رہا ہوں ، آپ سنتے ہی نہیں‘‘ ۔

دو منٹ کی بات کوئی آدھ گھٹے میں میری سمجھ میں آ گئی۔

دوسرا واقعہ ، جو زیادہ اندوہناک ہے، یونیورسٹی کے کمرہء جماعت میں پیش آیا ۔ مَیں ریڈیو جرنلزم کی یونیورسٹی کلاس میں یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ کسی صوتی رپورٹ میں نیوز ریڈر یا نیوز اینکر کی زبان سے ادا ہونے والے انٹرو یا تعارفی کلمات اور پھر رپورٹر کی آواز میں نشر ہونے والے مفصل متن کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہونی چاہئے۔ ’’کیا ہم ایک ہی انفارمیشن کو لفظ بہ لفظ رپلیکیٹ کرتے ہیں؟ دونوں کے بیچ ایریا آف اوور لیپ رکھیں گے یا نہیں؟‘‘ نکتہ ذرا ٹیکنیکل قسم کا تھا ، اِس لئے انگریزی کے بعد اردو میں بھی کہہ دیا کہ ’’کیا اوپر کی تعارفی معلومات تفصیلی رپورٹ میں دُہرائی جائیں گی یا نہیں؟‘‘ ’’سر ، ’دُہرانا‘ کا کیا مطلب ہے؟‘‘ مَیں نے کہہ دیا ’’ریپیٹ کرنا‘‘۔ اُردو میڈیم سکول کی تعلیم یافتہ میری یہ سٹوڈنٹ ہمارے حسن کی ہم عمر ہوں گی ۔ دل چاہتا ہے کہ ’’دس سالہ چیلنج‘‘ والوں کو اپنی سیلفی کے ساتھ اِن دو میں سے کسی ایک کی تصویر بھیج دوں ۔ پھر خیال آتا ہے کہ یہ ’میلینیم بچے‘ سہی مگر پرائیویسی کی حفاظت تو ہر حال میں ہونی چاہئے ۔

مزید : رائے /کالم