جلد امیر ہونے کی دیوانگی

جلد امیر ہونے کی دیوانگی
جلد امیر ہونے کی دیوانگی

  



دُنیا میں کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے غریب رہنا نہیں چاہتا ۔اس کے باوجود وہ کروڑوں لوگ جوکم وسائل رکھتے ہیں وہ بھی اپنی معاشی حالت پر عموماًقانع رہتے ہوئے،اپنے حالات کو تبدیل کرنے کی جائز کوشش کرتے رہتے ہیں۔ایسا ہونا بھی چاہیے۔ تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں ایک نادار شخص نے محنت کی اور اُسے اپنی محنت کا پھل اُس کی زندگی ہی میں مل گیا۔دراصل ہر انسان کایہ بنیادی حق ہے کہ وہ بھی خوشحال ہو۔ آج سے صرف 90-80 سال پہلے ، ہمارے معاشروں میں دولت کی نمائش کے ذرائع بہت ہی کم تھے۔ جو لوگ خوشحال ہوتے تھے، اُن کا رہن سہن آنکھوں کو خیرہ کر دینے والا نہیں ہوتا تھا۔ کسی شخص کی خوشحالی کی نشانی عموماًاُس کا ذاتی گھر یا حویلی ہوتی تھی، اپنا ذاتی گھوڑا تانگہ ہوتا تھا۔ صاف ستھرا لباس، ایک یا دو ریلے(Raleigh) یا ہرکولیس کی سائیکلیں گھر میں نظر آتی تھیں۔ بچوں کی تعلیم کے لئے سرکاری سکول اور اگر زیادہ ہی امیر ہوئے تو مشنری سکولز، آج کے مہنگے پرائیویٹ انگلش سکولوں کی ابھی رونمائی نہیں ہوئی تھی ۔

چیفس کالج (Aitchison School) میں عام امیر اپنے بچوں کے داخلے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ اُن دِنوں دولت کی خواہش خوشحالی کے حصول کے لئے ہوتی تھی نہ کہ دکھاوے اور رعب کے لئے، ایسا نہیں ہے کہ اُن دِنوں تمام لوگ فرشتے تھے۔ لالچ انسانی سرشت کا اہم حصہ ہے۔ لالچ کی خصلت شیطانی ہے۔ اس خصلت نے بڑے بڑے حملہ آور پیدا کئے، بڑی جنگیں ہوئیں، سامراج کا جنم بھی کمزور ملکوں کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے کے لالچ سے پیدا ہوا۔ ہمارے ایک صدی پُرانے معاشرے میں بھی چھوٹی چھوٹی بدعنوانیاں دولت کے حصول کے لئے ہوتی رہتی تھیں۔ میَں اُن بڑی بدعنوانیوں کی بات نہیں کر رہا جو شاہی محلوں میں ہوتی تھیں۔سازشوں کے ذریعے بھاری بھرکم رشوتوں کے ذریعے بادشاہتیں اُلٹائی جاتی تھیں۔ بدعنوانی کا یہ شاہی وطیرہ تو بہت پرانا ہے۔ مَیں تو بات کر رہا ہوں عام معاشرے کی جس میں سرکاری ملازم بھی ہوتے تھے، تاجر بھی ، سکول ٹیچر بھی ، جیولرز بھی، آٹا دال بیچنے والے بھی، ہوٹلوں کے مالک بھی۔ آج سے صرف 90-80 سال پہلے ہمارا معاشرہ قانع(Contented) تھا۔ آٹے، دال، گھی، چائے کی پتی ، دودھ اور مکھن میں ملاوٹ کا تصوّر بھی نہ تھا۔ سکولوں کے اُستاد اپنے طالبِ علموں کو کبھی ٹیوشن کے لئے مجبو ر نہیں کرتے تھے۔ مرچ مصالحے فروخت کرنے والے خالص سودا دیتے تھے، دفتروں کے بابو چھوٹی موٹی بخشش لے لیتے تھے۔ اُس وقت تک رشوت کا لفظ عام نہیں ہوا تھا۔ دراصل اُن دِنوں اِنسانی خواہشات کا دائرہ بھی کم تھا اور ہم لوگ قسمت پر شاکر بھی زیادہ تھے۔ محلے میں اگر کوئی خوشحال ہو جاتا تھا تو لوگ حسد نہیں کرتے تھے، بلکہ نئے مکان کی مبارک باد دِل سے دیتے تھے۔

پاکستان بننے کے بعد ہمارے اس خطّے میں جلدی امیر ہونے کی دوڑ کے تین ادوار ہیں: 1947ء سے 1970ء تک کا پہلا دور جس میں لوگوں کو جلد پیسہ بنانے کے آسان مواقع جھوٹے اور مبالغہ آمیز کلیمو ں نے مہیا کئے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ کلیموں کے گُھٹا لے میں ہماری اعلیٰ بیورو کریسی اور ہمارے پڑھے لکھے مہاجر جو ہندوستان کے مختلف صوبوں سے آکر کراچی ، لاہور، حیدرآباد، سکھر ، بہاولپور، ملتان اور راولپنڈی میں آباد ہو گئے تھے، اُنہوں نے شہری پریمیئر جائیدادوں اور زرخیز زرعی زمینوں کو الاٹ کروالیا۔ کلیم داخل کرنے کے قوانین دانستہ آسان بنائے گئے تھے۔ صرف دوگواہوں کے حلف نامے سے ثابت کیا جا سکتا تھا کہ آپ سابقہ وطن میں حویلیاں اور باغات چھوڑ کر پاکستان آئے ہیں۔اِس لئے حکومت اُنہیں اُن کی خود ساختہ قربانیوں کا صلہ دے۔ کلیموں کے دور کے ساتھ ساتھ سمارٹ چنیوٹی اور میمن تاجروں نے کورین وار کے دوران پاکستان کا پٹ سن اور کپاس برآمد کر کے اَندھادُھند دولت کمائی۔میمن اور چنیوٹ برادری نے اپنے بھاری منافع کو صنعت اور تجارت میں لگایا۔ برآمدات کو مزید بڑھانے کے لئے حکومت نے بونس واؤچر کی سنہری رعاتیں دیں۔

کلیموں اور بونس واؤچر نے بڑے پیمانے کی مالی بددیانتیوں کو جنم دیا۔ روپے کی ریل پیل نے اور بیرون ملک سفر کرنے کی آسانیوں نے ہمارے نئے نئے خوشحال گھرانوں کو بڑے بڑے بنگلوں اور امریکہ ، یورپ کی چمکدار کاروں میں لا بٹھایا۔ (1965ء تک ابھی جاپانی کاریں مارکیٹ میں نہیں آئی تھیں) اَب دولت کی نمائش کے سامان پیدا ہونے شروع ہو گئے۔ پرائیویٹ انگلش میڈیم سکول بن گئے، نئے نئے ہوٹل اور قہوہ خانے بن گئے جہاں مشروبِ مغرب بھی بکثرت دستیاب ہوتا تھا۔ اُمرا کے لئے خصوصی کلب بن گئے۔ اس طبقے کی خیرہ کن زندگی کی دیکھا دیکھی متوسط اور اُس سے بھی نچلا طبقہ ’’مال‘‘ بنانے کے چکر میں پڑگیا۔ آزادی ملنے سے پہلے صرف 4 -3 محکمے رشوت کے لئے بدنام تھے۔ محکمہ مال، پولیس، چھوٹی عدالتوں کے دیسی اہل کار، محکمہ خوراک(راشن کارڈ کی بے ایمانیوں کے لئے)اور کچھ کچھ محکمہ ریلوے کے ملازمین، لیکن پاکستان بننے کے بعد کئی ایسے محکمے روشناس ہوئے جو انگریز کے زمانے میں موجود تو تھے، لیکن ہمار ازرعی معاشرہ اِن سے ناواقف تھا۔ محکمہ کسٹم،ایکسائز اور انکم ٹیکس کے محکمو ں کی جادوگری سے ہمارا واسطہ 50ء اور 60ء کی دھائی میں پڑنا شروع ہو گیا۔

معمول کی کرپشن کے باوجود، ابھی ہمارے بچوں میں جلد اَمیر ہونے کی دیوانگی پیدا نہیں ہوئی تھی۔ ماں باپ میں قناعت کا عنصر موجود تھا۔ 80ء اور 90ء کی دھائی نے ہماری روائتی اخلاقی قدروں کی دھجیاں اُڑانی شروع کر دیں۔ کمزور اور سیاست زدہ سرکاری ایڈمنسٹریشن نے بدعنوانی کو کھلی چھٹی دے دی۔ اسلحے اور ڈرگز سے حاصل شدہ دولت کے انباروں نے ہائی سٹائل رہن سہن کے جنوں کو مہمیز لگائی۔ شاندار ہاوسنگ سوسائٹیاں عالمِ وجود میں آئیں جہاں ایک سے ایک بڑھ کر عالیشان مکانوں کی قطاریں لگ گئیں، مہنگے سکول جگہ جگہ بن گئے، جہاں اِن نودولیتوں کے بچے پڑھنے کے لئے جا سکیں۔ ہٹو بچو والی کاریں سڑکوں پر نظر آنے لگیں، مہنگی اور چَکا چوند کر دینے والی شادیوں کی تقریبات ہونے لگیں، یورپی ممالک میں تعطیلات گذارنے کا چلن عام ہو گیا۔ ڈایزائنر ملبوسات کی مانگ بڑھ گئی، درآمد شدہ میک اَپ اور مہنگے بیوٹی پارلر بھی مارکیٹ میں آگئے، جہاں ایک دلہن کو سجانے کے لئے لاکھوں روپے وصول کئے جاتے ہیں۔

21 ویں صدی کے آغاز نے ترقی پذیر ممالک کی نئی نسل کی بربادی کا سامان مکمل طور پر پیدا کر دیا ہے۔ یہ صدی ٹیکنالوجی کی صدی ہے۔ سمارٹ فون نے سہولتیں بھی بہت پہنچائی ہیں،لیکن اس کے سوشل میڈیا پر اِشتہار بازی نے، ہماری نوجوان نسل میں ہر دلکش چیز کے حصول کا جنون پیدا کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ ڈیزائنر زیر جامہ(Under garments)کا اشتہار بھی ان کو پاگل بنا دیتا ہے۔ کیا غریب اور کیا امیر،برانڈڈ ملبوسات، گھڑیاں،شوز، پرس، بٹوے، امپورٹڈ کھانے پینے کی اشیاء کو حاصل کرنے کے لئے آج کی نوجوان نسل کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ سوشل اور سٹریٹ کرائم کی بہتات ناجائز کمائی پر اُکساتی ہے۔ سادگی ہمارے معاشرے سے ختم ہوچکی ہے۔ برانڈ اور ڈیزائنر کے فتنے نے ہمیں اخلاقی قدروں سے دُور کردیا ہے، آج سے صرف 5 1 سال قبل، پاکستان میں مقامی طور پر Assembled بڑی کاریں امیر ہونے کی علامت سمجھی جاتی تھیں، لیکن جب سے استعمال شدہ امپورٹڈ لگژری کاریں شو رومز میں آنے لگی ہیں ہماری کھوکھلی اور شوبازقوم نے، اِن کاروں کو اپنی بالا دستی کا چلتا پھرتا اشتہار بنا لیا۔

پریڈو، لینڈ کروزر اور بی ایم ڈبلیو ،وی ۔آئی۔ پی ہونے کی علامت بن گئیں۔ مطلب یہ کہ اہم شخصیت بننے کے لئے تعلیم ، سائنس ، علم ،ادب یا کوئی قومی کارنامہ سر انجام دینے کی ضرورت نہیں رہی۔

دراصل ہماری اس معاشرتی خرابی کا آغاز 1980ء سے اُس وقت شروع ہوا جب جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے پاکستانی تارکینِ وطن کو اپنے ہمراہ 10,000 روپے مالیت تک کی امپورٹڈ اشیاء لانے کی اِجازت دی۔ اس سہولت کی آڑ میں بدعنوان کسٹم ملازمین نے فرج، ائیرکنڈیشنرز، Luggage کے لوازمات ، بریف کیس اور گراں قدر الیکٹرونک کاسامان اندرونِ مُلک سے کھُلم کھُلا آنے دیا۔ اگر آپ کو یاد ہو اُس وقت ہماری مقامی الیکٹرونک کی صنعت Take off پوائنٹ پر تھی۔ آر جی اے کاٹیلی ویژن ہر گھر میں نظر آتاتھا۔ گوجرانوالہ کی کمپنی کا بنایا ہوا ائیر کنڈیشنر اور کراچی ساختہ فرج’’شہاب‘‘ کے نام سے بِک رہا تھا۔ مقامی طور پر ساختہ اَٹاچی کیس ، بریف کیس اور ڈینم کپڑے کی جینز فروخت ہو رہے تھے،بلکہ Jeans کے ایک اشتہار میں عمران خان (اب وزیراعظم) بطور ماڈل بھی نظر آئے تھے۔ پتہ نہیں جنرل ضیاء کی رعائت برائے پاکستانی تارکینِ وطن نیک نیتی پر مبنی ہو، لیکن اس رعائت نے ہماری مقامی صنعتوں کو کچل کر رکھ دیا۔ نہ RGA اور NEC ٹیلی ویژن رہے، نہ گوجرانوالہ اور کراچی کے ائیرکنڈشینرزاور فرج رہے۔ ہمارا معاشرہ تارکینِ وطن کو دی ہوئی سہولت کی وجہ سے Consumer معاشرہ بن گیا۔ مقامی ساختہ اشیاء اپنی شکل و صورت اور Presentation میں امپورٹڈ سامان کا مقابلہ ابھی نہیں کر سکتی تھیں۔ آہستہ آہستہ ہماری صنعت بیٹھتی چلی گئی۔

یہ حالت 2005ء تک رہی، یعنی 25 سال میں ہماری نوخیز الیکٹرونک اور دوسری مصنوعات کی صنعتیں بند ہو گئیں۔ پیٹرو ڈالر سے حاصل شدہ عارضی خوشحالی نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کو ’’خرچیلا‘‘بنا دیا۔ اَندونِ ملک ’’جہادی ڈالروں‘‘ نے دولت کی ریل پیل کر دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اس دولت سے حاصل شدہ عیش وعشرت کی خواہش ہمارے معاشرے کے ہر طبقے میں پیدا ہو گئی۔اس قدر دولت کی فراوانی میں حکومت کو ٹیکسوں کی صورت میں ’’ٹھینگا‘‘بھی نہ مِلا البتہ دولت کو خرچ کرنے کے لئے عالیشان کالونیاں بن گئیں۔ کراچی ،لاہور، اسلام آباد فیصل آباد میں جہازی سائز کی شاپنگ مالز بن گئیں۔پانچ ستاروں والے ریسٹورنٹ بن گئے، عمروں اور حج کی تعداد ہر سال بڑھنے لگی۔ اِن تمام کاموں کے لئے ’’روکڑا‘‘ درکار تھا،جس کے حصول کے لئے نہ قانون کی پروا کی گئی نہ اخلاقیات کی۔ جلد امیر ہونے کے جنون نے ہمارے معاشرے کو چھوٹے بڑے جرائم کی آماج گاہ بنا دیا ہے۔مَیں یہ اپنی تحقیق اور تجربے کی بنا پر لکھ رہا ہوں کہ آج کے اچھے خاصے گھرانوں کی اکثر پڑھی لکھی لڑکیاں امیر بڈھوں سے شادی کرنے کی خواہشمند ہوتی ہیں تاکہ اگر بڈھا جلد مر جائے تو اُس کے چھوڑے ہوئے اَثاثے اور روپے سے بقیہ زندگی عیش و عشرت میں گزرے۔ پاکستان میں کون سا طبقہ رہ گیا ہے،

جو دولت کے حصول کی دیوانگی میں مبتلا نہیں ہے۔ دو دھایاں قبل ہم چند پیشوں کو لالچ اور کرپش سے پاک سمجھتے تھے۔ تعلیم ، طب، صحافت اور وکالت کے پیشے صاف ستھرے نہ صرف سمجھے جاتے تھے، بلکہ واقعتا ایسے تھے بھی۔ لیکن آج تعلیم کے نام پر پرائیویٹ سکول طرح طرح کے ہتھکنڈوں سے لوٹ کھسوٹ مچا رہے ہیں۔ تعلیمی اکیڈمیاں تجارت نما پرائیویٹ سکول اور سکنڈری بورڈ کے شیطانی گٹھ جوڑ سے امتحانوں میں نقل کا اہتمام اِن کی ملی بھگت سے ہوتا ہے۔طب کے شعبے میں بڑے ڈاکٹروں ، فارما سٹیکل کمپنیوں اور پرائیویٹ ہسپتالوں کا مافیہ ہے، جو رقمیں بنانے کے لئے ایمان فروشی کر رہا ہے۔ ایماندار اور دولت کی ہوّس سے آزاد صحافی اب صرف انگلیوں پر گِنے جا سکتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو تمام پاکستان میں 300 کے قریب بڑے وکیل ہیں۔ بقیہ چھوٹے درجے کے وکیل اِن برانڈڈ (Branded) وکیلوں کی دھڑے بندیوں میں رہتے ہوئے اپنی دال روٹی کماتے ہیں۔ امیر ہونے کے میراق نے ہمیں نہ دین کا چھوڑا نہ اخلاقیات اور مضبوط کردار کا۔

مزید : رائے /کالم