سپریم کورٹ ، ملک میں شریعت نافذ کرنے کی درخواست اعتراض کے ساتھ واپس

سپریم کورٹ ، ملک میں شریعت نافذ کرنے کی درخواست اعتراض کے ساتھ واپس

  

اسلام آباد( آن لائن ) سپریم کورٹ آف پاکستان کے رجسٹرار آفس نے ملک میں شریعت نافذ کرنے کی درخواست اعتراض لگا کر واپس کردی ،درخواست گزار نے متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا، وزیراعظم اور صدر مملکت کو فریق نہیں بنایا جاسکتا، رجسٹرار آفس کا اعتراض۔تفصیلات (بقیہ نمبر49صفحہ12پر )

کے مطابق درخواست گزار فاروق عمر نے ایڈووکیٹ خواجہ اظہر رشید کے توسط سے دائر درخواست میں وزیراعظم، صدر مملکت،اسلامی نظریاتی کونسل،جماعت اسلامی، پاکستان عوامی تحریک، جمعیت علمائے اسلام(ف)اور تحریک لبیک کو بھی فریق بنایا گیا تھا۔درخواست گزار فاروق عمر نے چوری پر ہاتھ کاٹنے، زنا پرسنگسار کرنے اور شراب نوشی پر80 کوڑوں کی سزا کے اطلاق کی استدعا کی تھی۔درخواست میں قانون اور ٹیکس قوانین کی شقوں کو اسلام کے منافی قرار دیا گیا تھا اور مسلح افواج کو نیب قانون سے استثنیٰ دینا غیر مساوی قرار دیا گیا تھا۔سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں ہجری کیلنڈر کے اجرا، سرکاری افسروں پر نماز کی پابندی،مخلوط نظام تعلیم اور فحش مواد پر مکمل پابندی عائد کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔درخواست میں کہا گیا تھا مرد و خواتین کو یکساں نوکریوں کے مواقعوں سے مردوں میں بے روزگاری پھیل رہی ہے اور جمعہ کی چھٹی کی استدعا بھی کی گئی تھی۔عدالت عظمی سے استدعا کی گئی تھی کہ سپریم کورٹ ،ہائیکورٹ اور مجلس شوریٰ میں مذہبی سکالرز اور علمائے کرام کو شامل کیا جائے اور 76سے زائد قوانین کو ترمیم کرکے اسلام کے مطابق بنایا جائے۔عدالت عظمی کے رجسٹرار آفس نے اعتراض لگا کر درخواست واپس کردی ہے۔

درخواست واپس

مزید :

ملتان صفحہ آخر -