پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ ٹیسٹ کے بعد ون ڈے کا چیلنج درپیش

پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ ٹیسٹ کے بعد ون ڈے کا چیلنج درپیش

  

کرکٹ

پاکستان کرکٹ ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈ ے سیریز میں سرخروئی کے لئے میدان میں ہے۔ گرین شرٹس کو ٹیسٹ سیریز میں عبرتناک شکست کے بعد اب ون ڈے سیریز میں پروٹیز کا چیلنج درپیش ہے۔ پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں پروٹیز کے ہاتھوں 3-0 سے وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا تھا۔دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے ون ڈے سیریز میں کامیابی کے لئے بیانات دیئے کہا کہ شائقین کرکٹ کو اچھے میچ دیکھنے کا موقع ملے گا اور دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز انتہائی سخت اور کانٹے دار ہوگی دونوں ٹیموں کے درمیان ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ سیریز کا دوسرا میچ 22جنوری کو ڈربن، تیسرا میچ 25جنوری کو سینچورین، چوتھا میچ ستائیس جنوری کو جوہانسبرگ جبکہ پانچواں اور آخری میچ 30 جنوری کو کیپ ٹان میں کھیلا جائے گا۔ محمد عامر، عماد وسیم اور شان مسعود جنوبی افریقہ کیخلاف ون ڈے اسکواڈ میں شامل ہیں۔اس کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان تین ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا میچ یکم فروری کو کیپ ٹان، دوسرا میچ تین فروری کو جوہانسبرگ، جبکہ تیسرا اور آخری میچ چھ فروری کو سنچورین میں کھیلا جائے گا۔جبکہ کرکٹ جنوبی افریقا نے جوہانسبرگ میں پاکستان کے خلاف چوتھے ون ڈے انٹر نیشنل کو پنک ڈے کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ 24ہزار تماشائیوں کی موجودگی میں ہر جانب پنک رنگ دکھائی دے گا۔ یہ دن بریسٹ کینسر سے آگاہی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ گلابی کٹس میں جنوبی افریقی کرکٹ ٹیم نے کبھی شکست نہیں کھائی ہے۔ جبکہ جنوبی افریقا میں بیٹسمینوں کی ناقص کارکردگی اور نااہلی پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بھی مہر ثبت کردی۔ آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں کوئی پاکستانی بیٹسمین ٹاپ ٹین میں جگہ بنانے میں ناکام رہا ہے۔ اسد شفیق24، اظہر علی 25اور کپتان سرفراز احمد 37 ویں نمبر پر ہیں۔ بابر اعظم20 ویں نمبر پر آگئے ہیں۔ بھارتی کپتان ویرات کوہلی، کین ولیمسن، چتیشور پجارا، اسٹیون اسمتھ، جو روٹ، ڈیوڈ وارنر، ہینری نکولس، ایڈن مارکرام،کرونا رتنے اور ہاشم آملہ بھی تین درجے بہتری کے ساتھ ٹاپ 10میں شامل ہیں۔ کوائنٹن ڈی کاک 12 درجے ترقی پاکر 14 ویں اور بابر اعظم پانچ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے 20 ویں پوزیشن پر آ گئے ہیں۔ بولنگ میں پاکستان کے محمد عباس ایک درجہ تنزلی کے ساتھ ساتویں نمبر پر آگئے ہیں۔ کاگیسو ربادا نمبرون بولرہیں۔دوسری جانب پاکستا ن کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے چار ماہ بعداب پی سی بی معاملات پر گرفت حاصل کررہے ہیں۔پاکستان سپر لیگ گورننگ کونسل اجلاس میں احسان مانی نے فہم و فراست کے ساتھ کئی معاملات پر فرنچائز مالکان کے ساتھ بہترین انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ کئی ہفتوں تک پاکستان کرکٹ کے معاملات کو اسٹڈی کرنے اور انہیں باریک بینی سے سمجھنے کے بعد احسان مانی اب اس پوزیشن میں آگئے ہیں ۔ ذمے دار ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں پی سی بی میں کئی اہم اور بڑے فیصلے ہوں گے۔ نئے ایم ڈی وسیم خان چھ فروری کو لاہور میں اپنی ذمے داریاں سنبھالیں گے، جبکہ ڈائریکٹر میڈیا سمیع الحسن چار فروری کو لاہور آئیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے انتظامی سیٹ اَپ کے مطابق کرکٹ کے تمام معاملات ایم ڈی وسیم خان کے پاس چلے جائیں گے جبکہ انتظامی معاملات چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد چلائیں گے۔ چیئرمین صرف اپنی پالیسیوں پر عمل کرائیں گے۔احسان مانی پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ کی بحالی کے لئے کوشاں ہیں۔ ذرائع کے مطابق لاہور کی میٹنگ میں فرنچائز مالکان نے تسلیم کیا کہ احسان مانی پی سی بی کے معاملات کو بہتر انداز میں سمجھ رہے ہیں اور اس کا عملی مظاہرہ میٹنگ میں دکھائی دیا، جن فرنچائز نے بورڈ کے واجبات ادا کرنا ہیں۔ ان سے انہوں نے علیحدگی میں 45،45منٹ بات چیت کی۔ تاہم احسان مانی نے واضح کیا کہ پاکستان سپر لیگ ، پاکستان کرکٹ کا برانڈ ہے اس کی ٹیلی وڑن کوریج کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ جب پروڈکشن کوالٹی بہتر ہو گی تو دُنیا بھر میں اس ٹورنامنٹ کی زیادہ بہتر پذیرائی ہوگی، پراڈکشن کی اضافی کاسٹ بورڈ ادا کریگا۔ احسان مانی آئندہ ماہ منیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان کی آمد کے ساتھ کئی معاملات کا انہیں کنٹرول سونپ دیں گے۔ وہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت کی روشنی میں دُنیا بھر میں پاکستان کرکٹ کا بہتر امیج سامنے لانا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد ٹیسٹ کھیلنے والے ملکوں سے روابط اور سب سے بڑھ کر پاکستان کرکٹ ٹیم کے معاملات میں بہتری لانا ہے ۔ جبکہ دوسری جانب سابق ٹیسٹ کرکٹر صادق محمد نے کہا ہے کہ آئی سی سی کے چیئرمین ششانک منوہر اور نئے چیف ایگزیکٹو ما نو ساہنی کا تعلق بھارت سے ہی ہے ۔ان دونوں اہم عہدوں پر ایک ہی ملک سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی تقرری سے پی سی بی اور دنیا کے دیگر ممالک کے کرکٹ بورڈ ز کو مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بھارت سے تعلق رکھنے والے افراد کا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے اہم ترین عہدوں پر تقرر کا سلسلہ جاری ہے، چیئرمین ششانک منوہر کے بعد اب دوسرے اہم ترین عہدے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے لئے بھی بھارت سے ہی تعلق رکھنے والے مانو ساہنی کا تقرر کیا گیا ہے۔وہ آ ئندہ ماہ فروری میں کونسل کو جوائن کریں گے، جبکہ جولائی میں باقاعدہ طور پر موجودہ چیف ایگزیکٹو اور سابق جنوبی افریقین کرکٹر ڈیوڈ رچرڈسن سے ذمہ داری سنبھالیں گے، انکا انتخاب نامزدگی کمیٹی نے متفقہ طور پر منظورکیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے سربراہ خود ششانک منوہر ہی ہیں۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو کی پوسٹ پاکستان یا کسی دوسرے ملک کو دی جاسکتی تھی، لیکن دونوں اہم عہدوں پر ایک ہی ملک سے تعلق رکھنے والوں کی موجودگی آئی سی سی کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہوگی ۔ پاک بھارت سیریز کے انعقاد کے لئے جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈسن بھی کوئی کردار ادا نہیں کرسکے تھے اور اب تو بھارت سے تعلق رکھنے والا چیف ایگزیکٹو آگیا ہے تو وہ اس سلسلہ میں بالکل بھی کچھ نہیں کرسکے گا۔ پاک بھارت سیریز کے انعقاد کے امکانات مذید کم ہو جائیں گے ۔صادق محمد نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے ڈائریکٹر آف میڈیا اینڈ کمیونی کیشن سمیع الحسن برنی کے آئی سی سی کے اہم عہدے کو خیر آباد کہ کر پی سی بی میں نوکری حاصل کرنے کی ایک اہم وجہ بھی آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو کی تبدیلی ہے ،بھارت سے تعلق رکھنے والا آئی سی سی کا نیا چیف ایگزیکٹو ظاہر ہے کہ آئی سی سی میں اپنی مرضی کی ٹیم لے کر آئے گا اور ان کے آئی سی سی میں عہدہ سنبھالنے سے جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے آئی سی سی کے موجودہ چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈسن کی ٹیم کے اہم رکن سمیع الحسن برنی بھی مشکلات کا شکار ہوسکتے تھے۔صادق محمدکا کہنا ہے کہ سمیع الحسن برنی جو کہ اسوقت آئی سی سی کے ہیڈ آف میڈیا اینڈ کمیونی کیشن کام کررہے ہیں اور انہوں نے آئی سی سی کی جاب چھوڑنے کا آئی سی سی کو نوٹس دیا ہوا ہے جس کی مدت پوری ہونے پر وہ آئندہ ماہ پی سی بی میں ڈائریکٹر آف میڈیا اینڈ کمیونی کیشن کی ذمہ داری سنبھالیں گے کو آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈسن کی ان کے عہدے سے سبکدوشی کا پتہ تھا اور یہ بات زیر گردش تھی کہ آئی سی سی کا نیا چیف ایگزیکٹو اپنی نئی ٹیم لے کر آئے گا، جس کی وجہ سے سمیع الحسن برنی نے آنے والے حالات کا اندازہ کرتے ہوئے بروقت آئی سی سی کو چھوڑ کر پی سی بی میں ملازمت اختیار کرنے کا فیصلہ کرکے سمجھداری کا ثبوت دیا ہے تاہم پی سی بی کو بھی چاہئے تھا کہ وہ ڈائریکٹر میڈیا کے عہدہ کے لئے پاکستان میں کام کرنے والے تجربہ کار صحافیوں کے ناموں کو بھی زیر غور لاتا ۔پاکستانی صحافی صلاحیتوں اور تجربہ کے لحاظ سے کسی سے بھی کم نہیں ہیں اور وہ پی سی بی کے حالات کو بہتر طور پر سمجھتے ہوئے پی سی بی کے لئے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ دریں اثناء سمیع الحسن کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ سمیع الحسن برنی کو آئی سی سی میں چیف ایگزیکٹو کی تبدیلی سے کوئی فرق نہیں پڑنا تھا اور وہ اپنی قابلیت اور تجربہ کی وجہ سے نئی انتظامیہ میں بھی اپنی جگہ بنالیتے، لیکن ان کے پاکستان آنے کی وجہ میں اہم کردار ان کی فیملی نے انجام دیا ہے ۔سمیع الحسن برنی بارہ سال سے آئی سی سی میں جاب کررہے تھے اور اب وہ اور ان کی فیملی پاکستان واپس آنے کے خواہش مند تھے ۔سمیع الحسن کی خواہش ہے کہ انہوں نے جو کچھ آئی سی سی میں سیکھا اس کا فائدہ اپنے ملک کے میڈیا کو پہنچائیں، 51سالہ سمیع الحسن برنی صحافت کا 30سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔16سال الیکٹرونکس اورپرنٹ میڈیا،جبکہ 14سال پی سی بی اور آئی سی سی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے کاتجربہ رکھتے ہیں۔ان کے پی سی بی میں ذمہ داریاں سنبھالنے سے پی سی بی کو پوری دُنیا کے میڈیا کو ہینڈل کرنے والے تجربہ کار ڈائریکٹر میڈیا کی خدمات حاصل ہوجائیں گی، جس سے نہ صرف ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کی راہ ہموار ہوگی، بلکہ پی سی بی کے تعلقات میڈیا سے بہتر ہوں گے اور پوری دنیا میں پاکستان کا امیج بہتر ہوگا ۔

مزید :

ایڈیشن 1 -