ساہیوال مبینہ مقابلے میں ملوث اہلکاروں کو گرفتار کر کے لاہور پہنچا دیا گیا ، جے آئی ٹی آج بیان قلمبند کرے گی

ساہیوال مبینہ مقابلے میں ملوث اہلکاروں کو گرفتار کر کے لاہور پہنچا دیا گیا ، ...
ساہیوال مبینہ مقابلے میں ملوث اہلکاروں کو گرفتار کر کے لاہور پہنچا دیا گیا ، جے آئی ٹی آج بیان قلمبند کرے گی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )ساہیوال میں سی ٹی ڈی نے مبینہ پولیس مقابلے میں چار افراد جاںبحق ہو گئے ہیں جن کی میتیں پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاءکے حوالے کر دی گئیں ہیں جبکہ بچوں کو لاہور منتقل کر دیا گیا ہے ۔

مقابلے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثاءکی جانب سے لاشیں ساہیوال نیشنل ہائی وے پر رکھ گزشتہ رات سے احتجاج جاری ہے جبکہ اہل علاقہ نے انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔

دوسری جانب لاہور کے علاقہ فیروز پو ر روڈ پر بھی احتجاج جاری ہے اور میٹرو سروس معطل کر دی گئی ہے ۔ ساہیوال مبینہ پولیس مقابلے میں شریک پولیس اہلکاروں کو تحویل میں لے لیا گیاہے اور لاہور منتقل کر دیا گیا ہے جن کے بیانات آج جے آئی ٹی قلمبند کرے گی ۔

سی ٹی ڈی کی جانب سے مقابلے کے بعد دعویٰ کیا گیا کہ یہ دہشت گرد تھے جبکہ زخمی بچوں اور عینی شاہدین کے بیانات سے واقعہ مشکوک ہوگیا۔سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ مارے جانے والے افراد دہشت گرد تھے جبکہ ان کی تحویل سے 3 بچے بھی بازیاب کروائے گئے ہیں جبکہ پولیس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔

فائرنگ کے دوران کار میں موجود بچے بھی زخمی ہوئے جنہوں نے ہسپتال میں بیان میں کہا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ لاہور جارہا تھا کہ اچانک ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی گئی۔ترجمان سی ٹی ڈی کی جانب سے دعویٰ کیا تھا کہ ذیشان دہشتگرد تھا اور اس کے ساتھی بھی موٹر سائیکل پرموجود تھے ۔

سی ٹی ڈی کا کہناتھا کہ ذیشان کے ساتھیوں نے اہلکاروں پر فائرنگ کی جس کے جواب میں سی ٹی ڈی اہلکاروں نے بھی کارروائی کی اور ذیشان کی جانب سے اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی ۔

سی ٹی ڈی کے بیانوں کی کلی اس وقت کھلی جب واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آئی ، سفید رنگ کی گاڑی جس وقت کوٹ لکھپت کا ٹول پلازہ کراس کرتی ہے تو اس وقت کوئی بھی گاڑی ان کا تعاقب نہیں کر رہی جس کے بعد سی ٹی ڈی کا پہلا دعویٰ ان کا تعاقب کرنے کا غلط ثابت ہوا ۔

دوسری ویڈیو اس وقت کی ہے جب ایک سی ٹی ڈی کی گاڑی آتی ہے اور وہ گاڑی میں سے سامان نکالتی ہے تاہم اس سے پہلے کی ایک اور ویڈیو منظر عام پر آ گئی ہے جس میں سی ٹی ڈی اہلکار گاڑی پرفائرنگ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔

سی ٹی ڈی اہلکاروں کی جانب سے سفید رنگ کی گاڑی سے بچوں کو نکالا گیا اور تسلی کے ساتھ کچھ فاصلے پر کھڑے ہو کر گاڑی پر گولیوں کی بارش کر دی گئی ۔اور وہ گاڑی بچوں کو ساتھ لے کر وہاں سے چلی جاتی ہے جس کے بعد ایک اور اہلکاروں کی گاڑیا ٓتی ہے جوکہ گاڑی میں سے سامان اتار تی ہے ۔

ساہیوال واقعے کا مقدمہ سی ٹی ڈی کے لاہور تھانے میں درج ہو گا، ذرائع کا کہنا ہے کہ ساہیوال میں سی ٹی ڈی کا کوئی تھانہ نہیں، ساہیوال سی ٹی ڈی کے معاملات لاہور ہیڈ آفس میں دیکھے جاتے ہیں۔ ادھر سی ٹی ڈی نے گوجرانوالہ میں 2 مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے، مارے گئے دہشتگردوں کو ساہیوال میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں مارے گئے ذیشان کے ساتھی بھی قرار دیا گیا۔

سی ٹی ڈی کا کہنا ہے ہلاک دہشتگرد کی شناخت عبدالرحمان اورکاشف کے نام سے ہوئی ہے، ملزمان نے لاہورمیں ذیشان کے گھر پناہ لے رکھی تھی۔ ساہیوال واقعہ کے بعد دہشتگرد اسکے گھرسے فرار ہو گئے، حساس اداروں کی مدد سے ذیشان کے گھرسے مفرور دہشتگردوں کا سراغ لگایا گیا، ہلاک دہشتگردوں نے خودکش جیکٹس پہن رکھی تھیں۔

ترجمان کے مطابق خلیل کی فیملی کو ذیشان سے متعلق کچھ معلوم نہیں تھا، ذیشان کا مقصد متاثرہ فیملی کی مدد سے دھماکا خیزمواد خانیوال پہنچانا تھا۔ ساہیوال کے قریب ذیشان کے ہمراہ موٹرسائیکل سوار دہشتگرد بھی موجود تھے۔

دوسری طرف ساہیوال میں سی ٹی ڈی کی کارروائی میں جاں بحق ہونیوالوں کی ابتدائی پورسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی جس کے مطابق والدہ نبیلہ بی بی کو 4 گولیاں لگیں، والد خلیل کو 13 گولیاں لگیں، 13 سال کی بچی اریبہ کو 6 گولیاں لگیں، کار ڈرائیور ذیشان کو 10 گولیاں ماری گئیں۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -