’’سیف سٹی کیمرے سے ایک مشتبہ کار کی نشاندہی ہوئی، جس میں اگلی سیٹ پر 2 مرد موجود تھے اور وہ لاہور سے ۔ ۔ ۔‘‘ سی ٹی ڈی بھی سٹپٹا گئی، نئی ویڈیو سامنے آنے کے بعد نئی وضاحت جاری کردی

’’سیف سٹی کیمرے سے ایک مشتبہ کار کی نشاندہی ہوئی، جس میں اگلی سیٹ پر 2 مرد ...
’’سیف سٹی کیمرے سے ایک مشتبہ کار کی نشاندہی ہوئی، جس میں اگلی سیٹ پر 2 مرد موجود تھے اور وہ لاہور سے ۔ ۔ ۔‘‘ سی ٹی ڈی بھی سٹپٹا گئی، نئی ویڈیو سامنے آنے کے بعد نئی وضاحت جاری کردی

  


لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) ساہیوال مبینہ مقابلے کی ویڈیو منظر پر آنے کے بعد سی ٹی ڈی پنجاب کی جانب سے نئی وضاحت سامنے آگئی ہے۔

گزشتہ روز جی ٹی روڈ پر ساہیوال کے قریب سی ٹی ڈی نے مبینہ مقابلے میں ایک بچی اور خاتون سمیت 4 انسانی زندگیاں چھین لیں جس کی نئی ویڈیو منظرعام پر آگئی ہے۔ویڈیو میں دیکھا گیا کہ سی ٹی ڈی اہل کاروں نے موبائل وین سے ٹکر مارکر گاڑی روکی اور پھر سڑک کنارے کھڑی گاڑی سے بچوں کو نکالا اور چند سیکنڈز بعد انتہائی قریب سے اندھا دھند فائرنگ کردی جب کہ کار میں سوار ذیشان اور مہر خلیل نامی افراد کی جانب سے جوابی فائرنگ نہیں کی گئی۔

بعدازاں سی ٹی ڈی اہل کاروں نے گاڑی سے کوئی سامان نہیں نکالا اور چلے گئے ۔یہ ویڈیو سڑک پر پیچھےکھڑی ایک گاڑی میں بیٹھے شہری نے موبائل سے ویڈیو بنائی تھیتاہم واقعے کی ویڈیو منظر عام ہونے کے بعد سی ٹی ڈی پنجاب کی جانب سے نئی وضاحت سامنے آگئی جس میں بتایا گیا کہ ہم نے دہشت گردی کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنایا ہے۔ویڈیو دیکھئے 

جیونیوز کے مطابق سی ٹی ڈی پنجاب کے ترجمان کے مطابق گزشتہ روز سیف سٹی کیمرے سے ایک مشتبہ کار کی نشاندہی ہوئی، جس میں اگلی سیٹ پر 2 مرد موجود تھے اور وہ لاہور سے ساہیوال جارہے تھے۔اس موقع پر ساہیوال میں سی ٹی ڈی ٹیم کو کار کو روکنے کے احکامات دیے گئے، تاہم کار کو روکا گیا تو وہ نہیں رکی اور کار کے ڈرائیور ذیشان نے سی ٹی ڈی پر فائرنگ کی۔کار کے پیچھے آنے والے موٹر سائیکل پر سوار 2 ملزمان نے بھی سی ٹی ڈی اہلکاروں پر فائرنگ کی۔ترجمان سی ٹی ڈی پنجاب کے مطابق دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے میں دہشت گرد ذیشان ہلاک ہوگیا، جب کہ اس کے ساتھ کار میں سوار خاندان کے افراد بھی گولیوں کا نشانہ بنے۔

ترجمان کے مطابق گاڑی کے شیشے کالے تھے جس کے باعث پچھلی سیٹ پر بیٹھی خاتون اور بچے نظر نہیں آئے اور وہ بھی گولیوں کا نشانہ بنے ۔

سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزم ذیشان نے اپنی پوزیشن کا غلط استعمال کیا اور خاندان کو بورے والا تک کی سواری فراہم کی۔انہوں نے بتایا کہ ذیشان کے پاس دھماکہ خیز مواد تھا اور خاندان کو بورے والا چھوڑنے کے بعد اس کا منصوبہ تھا کہ وہ اسے خانیوال یا ملتان میں کہیں چھوڑ دے۔انہوں نے مزید کہا کہ شاید خلیل کے خاندان کو ذیشان سے متعلق معلوم نہیں تھا کہ وہ دہشت گرد بن چکا ہے، دہشت گردوں نے خاندان کو استعمال کیا اور وہ اس کی بھینٹ چڑھ گئے۔

جب میڈیا پر واقعے کی خبریں نشر ہوئیں تو ذیشان کے گھر پر چھپے دہشت گرد باہر نکلے تاہم انٹیلجنس حکام نے انہیں شناخت کرلیا اور ان کا پیچھا کیا گیا۔

اس موقع پر دہشت گرد گوجرانوالہ چلے گئے جنہوں نے خودکش جیکٹ پہن رکھی تھیں اور ان کے پاس گرینیڈ تھے۔ترجمان سی ٹی ڈی پنجاب نے بتایا کہ جب انہیں گھیرا گیا تو انہوں نے گوجرانوالہ میں خود کو رات 10 بج کر 57 منٹ پر اڑا لیا۔

مزید : اہم خبریں /قومی