ذیشان کے گھر دہشت گردوں کی موجودگی کے مصدقہ ثبوت،ساہیوال آپریشن 100 فیصد ٹھوس شواہد کی بنا پر کیا گیا،حکومت متاثرہ خاندان کو 2 کروڑ امداد دے گی:راجہ بشارت

ذیشان کے گھر دہشت گردوں کی موجودگی کے مصدقہ ثبوت،ساہیوال آپریشن 100 فیصد ٹھوس ...
ذیشان کے گھر دہشت گردوں کی موجودگی کے مصدقہ ثبوت،ساہیوال آپریشن 100 فیصد ٹھوس شواہد کی بنا پر کیا گیا،حکومت متاثرہ خاندان کو 2 کروڑ امداد دے گی:راجہ بشارت

  


ساہیوال (ڈیلی پاکستان آن لائن )صوبائی وزیر قانون پنجاب راجہ بشار ت نے کہاہے کہ سی ٹی ڈی نے ساہیوال میں آپریشن 100 فیصد ٹھوس شواہد کی بنا پر کیا تاہم اس کے باوجود آپریشن کرنے والے سی ٹی ڈی کے سپر وائزر کو معطل جبکہ باقی اہلکاروں کو حراست میں لیتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے ،ذیشان کا تعلق کالعدم دہشت گرد تنظیم داعش سے تھا اور اسکےگھر میں دہشت گرد موجود ہونے کے مصدقہ شواہد ملے ہیں،صوبائی حکومت  متاثرہ خاندان کیلئے 2 کروڑ روپے امداد اور  بچوں کی تعلیم کے تمام اخراجات اٹھائے گی۔

نجی ٹی وی کے مطابق وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نےصوبائی وزراء میاں محمود الرشید ،فیاض الحسن چوہان ،میاں اسلم اقبال اور دیگر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 13 جنوری کو دہشت گردوں کی گاڑی کو سیف سٹی کیمروں نے محفوظ کیا، ذیشان کی گاڑی بھی انہی گاڑیوں میں شامل تھی، 13 سے 18 جنوری تک سیف سٹی کیمروں کا معائنہ کیا گیا ہے، 19جنوری کوسیف سٹی کے کیمروں نے مانگا منڈی کے قریب سفیدکارکوٹریس کیا، کارروائی کے لیے مشتبہ گاڑی کا آبادی سے باہر نکل جانے کا انتظار کیا گیا اور جب گاڑی کو  روکا گیاتو انہوں نے فائرنگ کی ، ذیشان کےدہشت گردوں کے  ساتھ کام کرنےکی تصدیق کی گئی ہے، انٹیلی جنس کےمطابق دہشت گرد گاڑی میں بارود  لے جارہےتھے، سی ٹی ڈی اہلکاروں نے جب گاڑی کو روکا تو اُن پر فائرنگ کی گئی، ذیشان گاڑی خود چلا رہا تھا اور شیشے کالے تھے اسی وجہ سے خلیل کی فیملی کو نقصان پہنچا۔راجہ بشارت کا کہناتھا کہ یہ آپریشن انٹیلی جنس معلومات پر کیا گیا،جس میں معصوموں کی جانیں بچائی گئیں البتہ خلیل فیملی کے نقصان کی وجہ سے آپریشن کی حیثیت چیلنج ہوگئی،سی ٹی ڈی اور حساس ادارے نے مشترکہ آپریشن کیا،فائرنگ کیوں اورکیسے ہوئی ؟تعین کیلئے جے آئی ٹی بنادی گئی ہے اور اصل وجوہات کا تعین کرناابھی باقی ہے البتہ سی ٹی ڈی اہلکاروں نے گاڑی سے اسلحہ، بارود، ہینڈ گرنیڈ و دیگر اشیا برآمد کیں۔راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ ہم یہاں کسی کے خلاف چارج شیٹ پیش کرنے کے لیے نہیں بیٹھےلیکن گاڑی میں خود کش جیکٹ موجود تھی جو کسی نے پہنی ہوئی نہیں تھی،اگر دہشت گردوں کا پیچھا نہ کیا جاتا تو پنجاب میں بڑی تباہی ہوسکتی تھی،ذیشان ساہیوال اوراس کےساتھی گوجرانوالہ میں مارے گئے،ساہیوال واقعے پرجتنابھی افسوس کیاجائےکم ہے، وزیراعظم اوروزیراعلیٰ پنجاب نےساہیوال واقعےکاسخت نوٹس لیا ہے، پنجاب حکومت نےمشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دےدی ہے ، تحقیقات میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور بلا امتیاز انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کجہ وزیراعلیٰ نے ساہیوال ہسپتال جاکر بچوں کی عیادت کی اور خلیل کے بھائی سے بھی ملاقات کی، واقعےکی ایف آئی آردرج ہوچکی ہے۔صوبائی وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت کا کہنا تھا کہحکومت کی جانب سے متاثرہ خاندان کیلئے 2 کروڑ روپے مالی امداد کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ بچوں کی تعلیم کے تمام اخراجات بھی حکومت برداشت کرے گی اور میڈیکل کی مفت سہولت فراہم کی جائے گی تاہم مالی امدادکسی انسانی زندگی کا مداوا نہیں البتہ حکومت خلیل کےبچوں کوتنہانہیں چھوڑےگی، وزیراعظم اوروزیراعلیٰ پنجاب کومتاثرہ خاندان سے ہمدردی ہے۔

مزید : قومی /اہم خبریں