دہشت گردی کا قلع قمع کرنے پر سی ٹی ڈی کی تعریف کرنی چاہئے ، سانحہ ساہیوال جیسے واقعات پوری دنیا میں ہوتے ہیں:گورنر پنجاب 

دہشت گردی کا قلع قمع کرنے پر سی ٹی ڈی کی تعریف کرنی چاہئے ، سانحہ ساہیوال جیسے ...
دہشت گردی کا قلع قمع کرنے پر سی ٹی ڈی کی تعریف کرنی چاہئے ، سانحہ ساہیوال جیسے واقعات پوری دنیا میں ہوتے ہیں:گورنر پنجاب 

  

میر پور (ڈیلی پاکستان آن لائن)گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ پوری قوم سانحہ ساہیوال میں بے گناہ ضائع ہونے والی جانوں پر دکھ میں مبتلا ہے،جو بھی ذمہ دار ہے اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا ،ساہیوال واقعہ پر ریاست مدینہ اور نئے پاکستان کی بات کرنے والوں کو سمجھنا چاہئے کہ ساہیوال جیسے واقعات پوری دنیا میں ہوتے ہیں۔

لارڈ نذیر کی ہمشیرہ کے انتقال پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کا کہنا تھا کہ بے گناہ شہریوں کی جانیں ضائع ہونے پر متاثرہ خاندان کے دکھ اور غم میں پوری قوم شامل ہے ،ابھی ابتدائی انکوائری ہوئی ہے،حکومت نے واقعہ کی شفاف تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دے دی ہے ،جس میں آئی ایس آئی ،ایم آئی اور پولیس کے سینئر افراد شامل ہیں جن پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا ۔چوہدری محمد سرور کا کہنا تھا کہ اس واقعہ سے سب کو صدمہ پہنچا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ جب بھی کوئی حادثہ ہوتا ہے تو فورا یہ  کہا جا تا ہے کہ کیا یہ ریاست مدینہ ہے ؟کیا یہ نیا پاکستان  ہے ؟ایسے واقعات ساری دنیا میں ہوتے ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ جب کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اس کی تفتیش اور تحقیق ہونی چاہئے اور جو ذمہ دار ہیں انہیں اس کی سزا ملنی چاہئے ۔چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ پنجاب میں گذشتہ چار سالوں میں رینجرز یا فوج کو نہیں بلایا گیا بلکہ اس سی ٹی ڈی نے ہی دہشت گردی کا قلع قمع کیا ہے  جس پر اس کی تعریف کرنی چاہئے ،کسی ایک واقعہ پر ایک شخص کو معطون کرنے کی بجائے پورے اداروں پر تنقید کرنا شروع کر دیتے ہیں،ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک عفریت تھا جس پر پاک فوج ،حساس اداروں ،سی ٹی ڈی اور پوری قوم کی بڑی قربانیوں کے بعد  قابو پا لیا گیا ہے،ہمیں سسٹم اور انٹیلی جنس اداروں پر تنقید نہیں کرنی چاہئے۔چوہدری محمد سرور کا کہنا تھا کہ ایک بات بالکل کلیئر ہے کہ مقتول خلیل کی فیملی بالکل بے گناہ ہے لیکن جس گاڑی میں انہوں نے لفٹ لی ہے اس گاڑی کے خلاف ایجنسیوں کے پاس بڑے واضح ثبوت ہیں،میں زیادہ تفصیل سے بات نہیں کرنا چاہتا کیونکہ جے آئی ٹی اس پر اپنی تحقیقات کر رہی ہے اور 72 گھنٹوں میں وہ اپنی انکوائری رپورٹ سامنے لے آئے گی ۔ 

مزید :

قومی -