امریکہ سے اہل ِ پاکستان کی توقعات

امریکہ سے اہل ِ پاکستان کی توقعات

  



وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دورہ امریکہ کے اختتام پر پاکستانی سفیر ڈاکٹر اسد مجید خان کے ہمراہ واشنگٹن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے امریکہ کوباور کرایا ہے کہ پاکستان نے امریکہ کی توقعات کے مطابق تمام مشکل کام کئے،اب امریکہ کو بھی پاکستان کی توقعات پر پورا اترنا چاہئے۔وزیر خارجہ نے امریکہ کے مشیر برائے قومی سلامتی رابرٹ او برائن سے ملاقات کا حال بھی بیان کیا،جس میں انہوں نے واضح کیا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے،مقبوضہ جموں وکشمیر کی مسلمان اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو پر بھی واضح کر دیا ہے کہ اگر بھارت نے فالس فلیگ آپریشن کیا تو پاکستان اس کا جواب ضرور دے گا۔وہ 17 جنوری سے 19 جنوری تک مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال پر بات چیت کرنے کے لئے سعودی عرب، ایران اور امریکہ کے دورے پر تھے۔

بھارت پاکستان کا ہمسایہ ملک تو ہے، لیکن افسوس آدابِ ہمسائیگی کے آداب سے واقف ہے نہ حقوق سے۔وزیراعظم نریندر مودی ہی کی جماعت سے تعلق رکھنے والے آنجہانی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے اس حوالے سے تاریخی بات کہی تھی کہ آپ دوست تو تبدیل کر سکتے ہیں ہمسایے نہیں، افسوس نریندر مودی اٹل بہاری واجپائی کی راہ پر نہیں چل سکے۔انہوں نے پاکستان کے ساتھ اعتماد کی بحالی کے لیے جو اقدامات کیے تھے، وہ آج بھی یاد آئیں تو دِل میں کسک سی چھوڑ جاتے ہیں۔ بھارتی حکومت کے کرتوت پوری دُنیا کے سامنے ہیں،اس کی ایک ایک حرکت بدنیتی کی عکاس ہے۔گزشتہ برس بھارتی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی تین ہزار سے زائد خلاف ورزیاں کی گئیں،جن میں تین سو کے قریب کشمیری شہری شہید ہوئے۔پلوامہ حملے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا، جھوٹا الزام لگا کر زمین آسمان ایک کرنے کی کوشش کی، فوجیں آمنے سامنے آگئیں، پاکستان کو اپنی فضائی حدود بند کرنا پڑیں، معاشی و اقتصادی نقصان الگ اٹھانا پڑا۔بھارت کو اپنے پائلٹ ابھی نندن کی پاکستانی فضائیہ کے ہاتھوں گرفتاری ہضم ہوئی اور نہ ہی اس کی رہائی پر سکون آیا۔ فروری2019ء میں پاکستان کے علاقے بالاکوٹ پر کامیاب حملے کا اعلان بھی کر ڈالا، پھر ”خواب و خیال“ میں وہ وادی کیرن پر بھی قابض ہو گیا۔

مودی سرکار نے5 اگست 2019ء کو تمام قانونی و آئینی تقاضوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور دفعہ35۔ اے کا خاتمہ کر کے مقبوضہ کشمیرکو مرکز کے زیر اہتمام علاقہ قرار دے دیا۔ ان آرٹیکلز کے ختم ہونے کے بعد اب بھارتی شہری بھی مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خرید سکتے ہیں،یہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ختم کرنے کی گہری سازش ہے۔مقبوضہ کشمیر میں مسلسل بھارتی فوجی محاصرے کو 168 روز مکمل ہوچکے ہیں، وہاں دفعہ144 کے تحت شہریوں کی نقل وحرکت پربھی پابندی ہے، انٹرنیٹ سروس بھی میسر نہیں ہے۔جمہوریت کے علمبرداراور سکیولر ملک کے ماتھے پر اس سے بڑا داغ اور کیا ہو گا؟بھارتی سپریم کورٹ نے قدرے ہوشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے اب مودی سرکار کو ایک ہفتے کے اندر انٹرنیٹ سروس کی بندش کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے کہا ہے لیکن ابھی تک ایسا کیا نہیں گیا۔ہٹ دھرمی اور بے حیائی کا اس سے بڑا مظاہرہ کیا ہو گا۔ بھارتی وزارت داخلہ کی سرکاری ویب سائٹ(ایم ایچ اے) کے سرکاری اعداد و شمارمیں رد و بدل کر کے کشمیر کی آبادی ہی کم کر ڈالی گئی ہے، جو کہ بھارت میں ہونے والی 2011ء کی مردم شماری کے نتائج پر سوالیہ نشان ہے۔

بھارتی آرمی چیف جنرل منوج موکنڈ نراوانا بھی پاکستان کو کھلی دھمکیاں دیتے نظر آئے کہ اگربھارتی پارلیمان حکم دے دے تو وہ آزاد کشمیر حاصل کرنے کے لئے فوجی کارروائی بھی کر سکتے ہیں۔بھارتی جنرل بپن راوت نے بھی دھڑلے سے کہہ دیا کہ کشمیریوں کو انسداد شدت پسندی کیمپوں میں بھیج دینا چاہئے یعنی کہ اپنے انسانی حقوق کے لئے آواز اٹھانے والے اہل ِ کشمیر ان کے لئے شدت پسند ٹھہرے اور ہر عقوبت کے مستحق۔انہوں نے برملایہ اعتراف بھی کیا کہ بھارت،پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں ڈلوانے کے لئے پوری کوشش کر رہا ہے۔یوں بدفطرت اور امن کا دشمن بھلا کون ہوا؟

کشمیر کی صورت حال پر غور کرنے کے لئے چین کی درخواست پرگزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا دوسرااجلاس نیو یارک میں ہوا،اس سے پہلے بھی اگست میں چین کی خواہش پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا گیا تھا۔ اس موقع پر چین نے صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان متنازعہ علاقہ ہے اور اس معاملے میں وہ اسلام آباد کے ساتھ ہے اور چاہتا ہے کہ کشمیریوں کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق دیا جائے۔یقینا یہی مسئلہ کشمیر کا بہترین اور واحد حل ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کی آواز بلند کی ہے اور عملی اقدامات بھی کئے ہیں۔پاکستان کا امریکہ اور طالبان کومذاکرات کی میز تک لانے میں ایک خاص کردار ہے،امریکہ اور ایران تنازعے کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایران، سعودی عرب اور امریکہ کا دورہ کیا تاکہ مشرق وسطیٰ میں معاملات سنبھالنے میں کردار ادا کر سکے۔اِس وقت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے مثبت اقدامات کا آغاز ضروری ہے جب تک یہ مسئلہ اپنے منطقی حل کو نہیں پہنچے گا خطے میں پائیدارامن قائم نہیں ہو سکے گا۔ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں بھارت دُنیا کی آنکھوں میں مستقل طور پر دھول نہیں جھونک سکتا۔بھارت بضد ہے کہ یہ اس کا اندرونی مسئلہ ہے اور لیکن شملہ معاہدے اور اعلانِ لاہور کی پاسداری پر بھی تیار نہیں ہو پاتا۔ان حالات میں امریکہ سے پاکستان کی توقعات پوری کرنے کا مطالبہ بالکل بر وقت ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ثالثی کی بات تو کرتے ہیں،لیکن اس کے بعد پتہ بھی ہلتا نظر نہیں آیا۔یہ درست ہے کہ بھارت جیسے بڑے ملک کو امریکہ ڈکٹیٹ نہیں کر سکتا،نہ ہی اس پر اپنی مرضی مسلط کر سکتا ہے،لیکن مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے موثر کردار ادا کرنے سے اسے کوئی نہیں روک سکتا۔اگر امریکی رہنما ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرنے پر تیار ہو جائیں، اہل ِ پاکستان اور اہل ِ کشمیر کی توقعات کا کچھ نہ کچھ احساس کر لیں تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آج بھی حالات کو نیا رُخ دے سکتی ہے۔

مزید : رائے /اداریہ