شیخ رشید، قوم پر عنائت کی نظر فرمائیں!

شیخ رشید، قوم پر عنائت کی نظر فرمائیں!

  



وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد اپنی دلچسپ گفتگو اور پیش گوئیوں کے حوالے سے معروف ہیں، گزشتہ روز اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں نہ صرف انہوں نے اپنے اس معیار کو برقرار رکھا ہے، بلکہ مزید اضافہ کر دیا اور آٹے کی قلت کا جواب خیبرپختونخوا کے یوسف زئی کے مطابق دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ سردیوں میں پاکستانی روٹیاں زیادہ کھاتے ہیں،اِس لئے آٹے کی قلت پیدا ہوئی ہے،اس کے ساتھ ہی ان کا یہ بھی فرمانا ہے کہ عمران خان کو احتساب، احتساب چھوڑ کر مہنگائی ختم کرنا، آٹا، دال، چینی سستی کرنا چاہئے تھی، اسی انٹرویو میں وہ کہتے ہیں، فروری اور مارچ مزید مشکل مہینے ہیں کہ گیس، بجلی مہنگی ہونے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا اور مشکلات بڑھیں گی،سیاسی حالات حاضرہ کے حوالے سے ان کا اعلان ہے کہ اتحادیوں میں سے کسی کو کوئی وزارت وغیرہ نہیں ملے گی۔ یہ سب اسی تنخواہ پر کام کریں گے، البتہ ان کو فنڈز ضرور دیئے جائیں گے،جس کا طریق کار طے ہو گا۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ یہ حکومت کہیں جانے والی نہیں اسے مزید تین سال دیں، سب ٹھیک ہو جائے گا، شیخ رشید احمد نے اپنی روایت برقرار رکھی اور ایک ہی انٹرویو میں بہت کچھ کہہ دیا، بلکہ اس سے بھی زیادہ گفتگو کی،ان کے یہ فرمودات تو تجزیہ کاروں اور کالم نگاروں کی نظر ہی سے گذریں گے ہم تو صرف یہ گذارش کرتے ہیں۔اگر آپ حکمران حضرات عوام کی داد رسی نہیں کر سکتے تو ان کے زخموں پر نمک بھی نہ چھڑکیں کہ وزیراعظم کہتے ہیں گھبرانا نہیں اور محترم شیخ رشید صاحب اپنی وزارت سے زیادہ ملکی سیاست میں زیادہ دخل دیتے ہیں اور پیش گوئیوں کے ساتھ بعض ایسی گفتگو بھی کرتے ہیں،جو معنی خیز ہوتی ہے، جیسے اسی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف اب واپس نہیں آئیں گے۔البتہ میرے بھائی شہباز شریف آ جائیں گے جو ان کو لے کر گئے،ان حضرات کے جانے کے حوالے سے کیا اور کیوں ہوا، اس کا تو عمران خان کو بھی علم نہیں،ہم ان کے اس انٹرویو سے بہت کچھ اُخذ کرنے پر مجبور ہیں۔ تاہم گذارش یہی ہے کہ وہ منطقی گفتگو ضرور کریں، روٹی غریب آدمی کا مسئلہ ہے اور اسی کو انہوں نے آٹے کی قلت کا سبب قرار دے دیا، حالانکہ خود ان کے بقول مہنگائی بہت بڑھی اور ابھی مزید اضافہ ہو گا،ایسے لوگ روٹی کے لئے روزگار کی تلاش اور آمدنی بڑھانے کی فکر میں ہیں۔ چہ جائیکہ وہ آٹے کا استعمال بڑھا دیں اور روٹی زیادہ کھانا شروع کر دیں،لوگ تو مجبور ہیں اور مسلسل اپنے اخراجات کم کر رہے ہیں وہ تو اب روٹی بھی آدھی کھاتے ہیں وہ آٹے کی قلت کے ذمہ دار کیسے ہوئے؟ براہِ کرم! وزیراعظم کو ایسے مشورے تو نہ دیں،بلکہ کوئی ٹھوس حل بتائیں جو لوگوں کی مشکلات کم کرے۔عوام زچ ہو چکے،اور ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔

مزید : رائے /اداریہ