سی این جی کٹ دھماکہ کے بعد ضلعی انتظامیہ حرکت میں آ گئی

سی این جی کٹ دھماکہ کے بعد ضلعی انتظامیہ حرکت میں آ گئی

  



پشاور (سٹی رپورٹر)پشاورچارسدہ روڈ پر گاڑی میں سی این جی کیٹ کی وجہ سے دھماکہ کے بعد ضلعی انتظامیہ حرکت میں اگئی تھی اور پشاور کے مختلف علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ اور نجی گاڑیوں میں غیرمعیاری سی این جی کیٹس کے خلاف اپریشن کئے مگرضلعی انتظامیہ شہر میں غیر معیاری سی این جی کیٹس کے حوالے سے کوئی موثر کارروائی نہ کر سکی شہر میں پبلک ٹرانسپورٹس میں غیر سی این جی کیٹس کا استعمال اب بھی جاری ہے جسکی وجہ سے کوئی بھی حادثہ واقع ہو سکتا ہے اسکے علاوہ سکول ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں بھی سی این جی کیٹس کا استعمال نہ رک سکا جبکہ اس ھوالے سے بھی انتظامیہ نے کریک ڈاون شروع کیا تھا مگر چند دن کے بعد ضلعی انتظامیہ خاموش پڑھ گئی جسکی وجہ سے ہزاروں بچوں کی زندگیاں داو پر ہیں۔ اندرونی شہر پشاور میں رکشوں میں سی این کیٹس کا استعمال زیادہ خطرنا ک ہے کیونکہ رکشاں کا وزن کم ہوتا ہے تاہم کسی بھی نا خوشگوار واقع ی صورت میں زیادہ نقصان کا خدشہ ہے مگر ضلعی انتظامیہ چارسدہ سی این جی فلنگ کے دوران دھماکہ کے بعد حرکت میں ائی مگر غیر معیاری اور ٹراسنپورٹ گاڑیوں میں سی این کیٹس کے استعمال کو روکنے میں بری طرح نا کا رہی شہر میں برھتے ہوئے سی این جی کیٹس کا استعمال ضلعی انتظامیہ کیلئے تا حال ایک ڈرونا خواب بنا ہوا ہے۔شہر میں غیر معیاری سی این جی کیٹس کا ستعمال کیساتھ ساتھ پریشر ہارن بھی ضلعی انتظامیہ کیلئے چیلنج بن چکا ہے شہر میں بڑی گاڑیوں سمیت چھوٹی گاڑیوں مین پریشر ہارن نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی جسکی وجہ سے شہری عذاب میں مبتلا ہیں۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے متعدد بار برائے نام اپریشن پریشر ہارن کے خلاف کیے گئے لیکن شہر میں اب بھی گاڑیوں میں پریشر ہارن کا استعمال جاری ہے جو انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

کٹ دھماکہ

مزید : پشاورصفحہ آخر