اُلٹی ترتیب، اُلٹی گنتی

اُلٹی ترتیب، اُلٹی گنتی
اُلٹی ترتیب، اُلٹی گنتی

  



زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب

موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشاں ہونا

انسان، معاشرہ اور ملک، سب ترتیب کے محتاج ہوتے ہیں۔ جب تک ترتیب ٹھیک رہتی ہے، زندگی باقی رہتی ہے۔ جب ترتیب الٹی سیدھی ہو جائے تو موت واقع ہو جاتی ہے۔انسان اور معاشرے کے علاوہ ملکوں پر بھی یہی بات پوری طرح صادق آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں ہیں۔ جب تک ترتیب ٹھیک رہی،عروج کی طرف سفر جاری رہا اور جب ترتیب الٹ گئی تو سفر بھی الٹ گیا اور زوال شروع ہو گیا۔ ایسی قومیں بھی تھیں، جن کے زوال کے اسباب ہمیں معلوم ہیں اور ایسی قومیں بھی تھیں جن کی داستاں بھی نہیں ہے داستانوں میں“…… پاکستان اس لحاظ سے (ابھی تک) خوش قسمت ملک ہے کہ ریاستی عناصر کی ظہور ترتیب کو پریشان ہوئے 66سال گزر جانے کے باوجود ابھی تک قائم ہے۔

66 سال اِس لئے، کیونکہ میرا ایمان ہے کہ ہماری ریاست کی ترتیب جسٹس منیر کے ”نظریہئ ضرورت“ والے فیصلے سے منتشر ہونا شروع ہوئی تھی۔ اگر جسٹس منیر اس دن نظریہئ ضرورت کی بجائے انصاف پر مبنی فیصلہ کرتے تو نہ مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی بنیاد رکھی جاتی اور نہ ملک کے دو ٹکڑے ہوتے، نہ ملک پر بار بار فوج کشی ہوتی اور نہ ہر بار فوجی حکمران ملک کو نئے اندھیروں میں دھکیلتے،نہ ملک کی آدھی زندگی براہ راست فوجی آمریت اور باقی کی آدھی زندگی کنٹرولڈ جمہوریت کی نذر ہوتی اور نہ ہی اعلیٰ عدالتیں اور پارلیمینٹ، غیر آئینی اقدامات کو آئینی تحفظ (indemnify) دیتیں۔

یہ کیسے ممکن تھا کہ ایک فوجی آمر (جنرل یحییٰ خان) ٹائم میگزین کو انٹرویو میں کہے کہ پاکستان کو آئین کی کیا ضرورت ہے، میرا دماغ ہی پاکستان کا آئین ہے، اور ایک دوسرا آمر (جنرل ضیاء الحق) کہے کہ آئین کیا چیز ہے، بارہ صفحات کی کتاب، جب چاہوں اسے پھاڑ کر پھینک دوں، یا یہ کہے کہ سیاست دان کیا چیز ہیں، جب اشارہ کروں یہ دم ہلاتے میرے پیچھے چلے آئیں گے۔ پاکستان کے آئین میں ترامیم فردِ واحد کے لئے ہوتی رہی ہیں اور ہماری پارلیمینٹ کسی فرد واحد کے لئے قانون سازی بھی کرتی رہی ہیں۔ پاکستان میں آخری اعلانیہ مارشل لاء جنرل پرویز مشرف نے لگایا تھا، جسے اس کی اپنی handpicked پارلیمنٹ نے آئین میں ترمیم کے ذریعے اور اس وقت کی سپریم کورٹ نے indemnify دے کر آئینی تحفظ بھی دے دیا تھا۔

ملک کی بنیادیں پہلے عشرے میں ٹیڑھی ہوئی تھیں،اسی وجہ سے یہ عمارت بھی پیسا کے مینار کی طرح ابھی تک ٹیڑھی کی ٹیڑھی ہے۔ ہمارے ایوانوں کی غلام گردشوں میں آج بھی جسٹس منیر،ملک غلام محمد اور اسکندر مرزا کی روحیں بھٹک رہی ہیں،اگر کبھی ملک کی بے ترتیبی درست کرنے کی کوشش ہو بھی تو یہ بد روحیں سیاہ لبادہ اوڑھے دوبارہ سے ڈراتی ہیں۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟بہرحال، پاکستان زندہ اقوام میں شامل بھی اسی وقت ہوگا جب یہ بدروحیں ہمیشہ کے لئے اس مملکت خداداد کا پیچھا چھوڑ دیں گی……اس پس منظر کے بعد فاسٹ فارورڈ کا بٹن دبا کر ملک کی موجودہ سیاسی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو پہلے چھ سات عشروں والی تمام الٹ پلٹ ترتیب اسی طرح سے موجود ہے۔

اس بحث میں فی الحال پڑے بغیر کہ 2018ء کے الیکشن کیسے تھے اور حکومت الیکٹ ہوئی کہ سلیکٹ ہوئی، حکومت کی اپنی مایوس کن کارکردگی اسے تیزی سے خاتمے کی طرف لے کر جا رہی ہے۔ عمران خان وزیراعظم تو بنا دئیے گئے، لیکن وہ یہ بات نہیں سمجھ سکے کہ ان کی حکومت کی سیاسی بقا اچھی کارکردگی اور عوام کو ریلیف دینے میں ہے۔ اقتدار حاصل کرنے کے لئے عمران خان نے بڑے بلند و بانگ،مگر عملی طور پر ناممکن دعوے کر رکھے تھے جن کا حصول ناممکن تھا، لیکن غالباً ان کی واحد سوچ ”وفاداری بشرط استواری اصل ایمان“…… والی تھی، جس کا مظاہرہ وہ پچھلے ڈیڑھ سال سے لگاتار کر رہے ہیں۔

عملی طور پر عمران خان کو وفاق اور دو اہم صوبوں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اچھی گورننس کے ساتھ ساتھ ملک اور عوام کی اقتصادیات پر توجہ دینا تھی اور اِدھر اُدھر کی باتوں میں پڑے بغیر ڈلیور کرنا تھا۔ خیبر پختونخوا میں تو پہلے ہی پانچ سال سے ان کی پارٹی کی حکومت تھی، لیکن پنجاب اہم ترین چیلنج تھا، کیونکہ گزشتہ دس سال میں میاں شہباز شریف نے پنجاب میں ترقیاتی کاموں کا بہت اونچا سٹینڈرڈ سیٹ کر دیا تھا ……ہائی جمپ میں اگر کوئی ایتھلیٹ ساڑھے چھ فٹ اونچی جمپ لگاتا ہے تو دوسرا ایتھلیٹ مقابلہ اسی صورت میں جیت سکتا ہے کہ وہ اس سے اونچی جمپ لگائے۔ ساڑھے چھ فٹ کی ہائی جمپ کا مقابلہ ڈھائی فٹ کی جمپ لگا کر نہیں جیتا جا سکتا۔

عمران خان کی پارٹی پہلے ہی بھان متی کا کنبہ تھی، جس میں ”کہیں کی اینٹ اور کہیں کا روڑا لگا یا گیا تھا“……اِس لئے بات عمران خان کی اپنے ویژن اور قابلیت پر آ گئی تھی…… اب کرنا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ ڈلیور کرتے، لیکن ان کا سارا زور سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیوں اور سچے جھوٹے مقدمات پر ہی رہا۔

نیب کے جانبدارانہ کردار کی وجہ سے صرف مخالفین کے کیس کھلے اورگرفتاریاں ہوئیں،جبکہ حکومتی پارٹی والوں کو نیب کی کلین چٹ ملتی رہی…… اگر کسی کو ایک آنکھ میں موتیا اتر آئے تو وہ صرف ایک ہی طرف دیکھ سکتا ہے، یہی حالت نیب کی بھی ہے،اسے صرف ایک طرف کا نظر آتا ہے، دوسری طرف اس کی نظر کام نہیں کرتی، لیکن اس سب میں نیب کی اپنی کریڈیبلٹی ختم ہو چکی ہے، کیونکہ پاکستان کے بچے بچے کو معلوم ہے کہ کوئی شخص جب تک اپوزیشن میں ہے، نیب کے نزدیک کرپٹ ہے اور اگر وہی شخص حکومتی پارٹی میں شامل ہوجائے تو نہ صرف اسے کلین چٹ مل جاتی ہے،بلکہ وہ وزارت کا حقدار بھی ٹھہرتا ہے۔ نیب کا یہ رول سب سے پہلے ہم نے جنرل پرویز مشرف کے دور میں دیکھا تھا،جب اپنی کنگز پارٹی کی حکومت بنوانے کے لئے انہوں نے پیپلز پارٹی میں پیٹریاٹ گروپ بنایا تھا،جس کے بعد پیٹریاٹ والوں کے نہ صرف مقدمات ختم ہو گئے تھے،بلکہ ان میں سے کئی پیٹریاٹ وزیر بھی بن گئے تھے۔ موجودہ کابینہ میں کئی لوگ ایسے ہیں، جن سے صرف اسی لئے صرف نظر کیا جا رہا ہے، کیونکہ وہ حکومتی پارٹی میں یا اس کے اتحادی ہیں۔

خیر، ان سب باتوں کے باوجود حکومت کی کارکردگی صفر اور عوام کی چیخیں آسمان سے بلند ہیں۔ ایک کروڑ نوکریوں، پچاس لاکھ گھروں، باہر پڑے 200 ارب ڈالر، دوگنا ٹیکس کلیکشن، 46 روپے کا پٹرول، 350 ڈیم، ایک ارب درخت اور اس طرح کے سارے وعدے اور دعوے ایک طرف……لاکھوں لوگ روزگار ختم ہونے کی وجہ سے اب دو وقت کی روٹی کے محتاج ہو چکے ہیں۔ نوکری اور روٹی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اب خود کشیاں نہیں کریں گے تو اور کیا کریں گے؟ تمام اقتصادی اعشارئے سجدہ ریز تو ہو ہی رہے تھے، لیکن اب حکومتی نا اہلی کی وجہ سے گندم کی کمیابی نہ ہونے کے باوجود ہر طرف آٹے کی کمیابی اور لمبی قطاریں نظر آتی ہیں۔ عمران خان کی حکومت میں صرف پاکستانی ٹاٹاؤں اوربرلوں کی موج لگی ہوئی ہے،جنہیں فائدہ پہنچانے کے لئے حکومت نئے آرڈیننس بھی جاری کرتی رہتی ہے اور ان کے سینکڑوں ارب کے واجبات بھی معاف کرتی ہے۔

صرف ایک آرڈیننس کے ذریعے ان کے 300 ارب کے واجبات (GIDC) معاف کئے گئے تھے، لیکن میڈیا میں شور مچ جانے سے وہ آرڈی ننس واپس لینا پڑا تھا۔ خیر، اس کی تلافی اور بہت سے طریقوں سے کر دی گئی ہے، جبکہ عوام سے روٹی بھی چھین لی گئی ہے۔ آٹے کے حصول کی دھینگا مشتی دیکھتا ہوں تو حبیب جالب یاد آ جاتے ہیں، جنہوں نے 1968ء میں کہا تھا:

بیس روپیہ من آٹا

اس پر بھی ہے سناٹا

گوہر، سہگل، آدم جی

بنے ہیں برلا اور ٹاٹا

اور یہ بھی حبیب جالب نے ہی کہا تھا:

ہم غریبوں کا امیروں پر ابھی تکیہ ہے

ہم غریبوں کی ابھی اور پٹائی ہو گی

صوبوں میں وفاق سے بھی زیادہ برے حالات ہیں۔ بہر حال ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ سینکڑوں سال بعد ملا نصیرالدین نے شوکت یوسفزئی کی شکل میں خیبر پختونخوا میں جنم لیا ہے۔ ہر روز ان کا بیان ملا نصیر الدین کا تازہ ترین لطیفہ ہوتا ہے۔ جب ٹماٹر تین چار سو روپے کلو پر پہنچ گئے تھے، لیکن ملکی خزانہ چلانے والے وزیر صاحب سترہ روپے کا بتا رہے تھے تو خیبر پختونخوا کا یہ وزیر مشورہ دے رہا تھا کہ لوگ ٹماٹر کا استعمال چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔ جب خیبر پختونخوا میں میٹرک پاس کو وزیر تعلیم لگایا گیا تو موصوف نے بتایا کہ انہیں اس لئے لگایا گیا ہے، کیونکہ ان کی انگریزی بہت اچھی ہے اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ وزیر تعلیم نے کون سا کالج یا یونیورسٹی میں پڑھانا ہوتا ہے، اس نے تو پالیسی بنانا ہوتی ہے اور اس کے لئے تعلیم ضروری نہیں۔ اب خیبر پختونخوا میں آٹے کی دو دو کلومیٹر لمبی لائنیں لگی ہیں تو عصر حاضر کے ملا نصیر الدین نے روٹی نہ کھانے کا مشورہ دے ڈالا ہے اور ساتھ ہی تندور والوں کو ہدایت کی ہے کہ روٹی کی قیمت نہ بڑھائیں، بلکہ پیڑا چھوٹا کر دیں۔

پنجاب کے حالات خیبر پختونخوا سے بھی بدتر ہیں۔ عمران خان یہ بات سمجھ ہی نہیں سکے کہ میاں شہباز شریف کے سیٹ کئے ہوئے سٹینڈر کا مقابلہ ان سے بہتر کارکردگی دکھا کر ہی کیا جا سکتا ہے، لیکن شہباز شریف کی ساڑھے چھ فٹ کی ہائی جمپ کے مقابلے میں وہ عثمان بزدار سے ڈھائی فٹ کی جمپیں لگوا رہے ہیں اور ساتھ ہی اصرار کررہے ہیں کہ وہ وسیم اکرم پلس ہیں اور کبھی ان کا موازنہ شیر شاہ سوری سے کر دیا جاتا ہے۔ یہ پنجاب کے بارہ کروڑ عوام کے ساتھ سخت زیادتی ہے، جو بدترین بیڈ گورننس بھگتنے پر مجبور ہیں اور صوبہ تباہی کی طرف گامزن ہے۔لگتا ہے بابا بلھے شاہ نے 300 سال پہلے یہ آج کے پنجاب کے بارے میں ہی کہا تھا:

در کھلا حشر عذاب دا

برا حال ہویا پنجاب دا

عمران خان حکومت میں الٹی ترتیب بڑھتی جا رہی ہے اور جب یہ زیادہ بڑھ جائے تو الٹی گنتی شروع ہو جاتی ہے۔ آثار و قرائن بتا رہے ہیں کہ الٹی گنتی کا آغاز پنجاب سے ہو گا۔ویسے بھی عمران خان اب واحد لاڈلے نہیں رہے اور اس کا اندازہ ان کی باڈی لینگوئج اور الفاظ کے چناؤ سے بھی چلتا ہے۔پچھلے دو تین ماہ سے feel good factor چلانے کی ناکام کوشش کے بعد اب مایوسی کی باتیں شروع ہو گئی ہیں، تب ہی تو انہوں نے کہا ہے کہ اگر مَیں ناکام ہوا تو چور ڈاکو واپس اقتدار میں آ جائیں گے۔ گویا الٹی ترتیب اور الٹی گنتی کا انہیں بھی احساس ہو چکا ہے، ورنہ ناکامی کا لفظ کبھی ان کی زبان پر نہ آتا۔ یہی حال ان کے وزیروں کی کمزور ہوتی باڈی لینگوئج اور بے تکے بیانات سے نظر آتا ہے۔ ویسے بھی ان سے ملاقات کرنے والوں میں زیادہ تعداد اب صف اول کے نہیں،بلکہ تیسرے چوتھے درجے کے میڈیا لوگوں کی ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ عمران خان حکومت کی ظہور ترتیب اب الٹ پلٹ ہوگئی ہے جسے شاعر نے اجزا کا پریشان ہونا کہا تھا۔

مزید : رائے /کالم