ایس ا ے ڈی پی ڈسٹرکٹ آفیسر کا چھٹی کے دن چور راستے دفتر میں داخلہ

      ایس ا ے ڈی پی ڈسٹرکٹ آفیسر کا چھٹی کے دن چور راستے دفتر میں داخلہ

  



ٹانک(نمائندہ خصوصی) ایس ا ے ڈی پی ڈسٹرکٹ آفیسر کا چھٹی کے دن چور راستے دفتر میں داخلہ، دفتر کے اثاثہ جات منتقل کرنے کی ناکام کوشش، ملازمین نے دھر لیا، اسسٹنٹ کمشنر اور ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹرز کی مداخلت پر ڈسٹرکٹ آفیسر کو دفتر سے جانا پڑا۔ تفصیلا ت کے مطابق ڈسٹرکٹ آفیسر سدرن ایریا ڈویلپمنٹ پراجیکٹ ٹانک جاوید اقبال نے چھٹی کے روزہفتہ کے دن دفتر ایس اے ڈی پی واقعہ سٹیشن روڈ میں داخلہ ہوکر دفتر میں موجود سرکاری سامان منتقل کرنے کی ناکام کوشش کی تاہم دفتر کے ملازمین کو اطلاع ملنے پر وہ دفتر پہنچ گئے اور ڈسٹرکٹ آفیسر کو دفتر کا سامان منتقل کرنے سے روک دیا۔ اس موقع پر مانٹرنگ آفیسر شجا ع الرحمان، کمیونٹی ڈویلپمنٹ آفیسر اشتیا ق تاج، سب انجینئیر محمود عالم، سب انجینئر محمد کامران بلوچ ، سوشل آرگنائزر سعد ابی وقاص و دیگر نے میڈیا کے نمائندوں کو بتا یا کہ پشاور ہائی کورٹ ڈیرہ اسماعیل خان بینچ کے پٹیشن نمبر W.P.No 865-D, 2019 کے جاری کردہ معزز عدالت کے حکم امتناعی کے تحت وہ تاحال دفتر آنے کے مجاز ہیں تاہم ڈسٹرکٹ آفیسر جاوید اقبال نے نہ صرف دھوکہ دیہی سے ان سے تما م دفتر ی سامان واپس لیا بلکہ ماہ جنوری سے ملازمین کو دفتر کے تالے لگا کر دفتر آنے سے روکے رکھا جبکہ ہفتہ کے روزجب چھٹی کا دن تھا تو جاوید اقبال دفتر ی سامان کو ٹھکانے لگانے کی نیت سے دفتر میں چور راستے سے داخل ہوئے۔ ان ملازمین نے مزید بتا یا کہ حتمی عدالتی فیصلے تک قانون کی رو سے وہ دفتر آنے کے مجا ز ہیں تاہم ڈسٹرکٹ آفیسر نے ان پر دفتر کے دروازے بند کر رکھے ہیں اور سرکاری کام سے روک رکھا ہے جس کی وجہ سے وہ شدید ذہنی کوفت کا شکار ہیں۔ اس دوران اسسٹنٹ کمشنر حمید اللہ اور ڈی ایس پی عمر درازخان نے دفتر پہنچ کر کسی بھی چیز کو دفتر سے منتقل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

آفیسر دھر لیا

مزید : پشاورصفحہ آخر