ایرانی میزائل سٹرائک اور امریکی اعتراف

ایرانی میزائل سٹرائک اور امریکی اعتراف
 ایرانی میزائل سٹرائک اور امریکی اعتراف

  



3جنوری 2020ء کو ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کا امریکی ڈرون حملے میں مارا جانا سالِ نو کی سب سے زیادہ ہولناک خبر قرار دی جا رہی ہے۔ اس سانحے میں تیسری عالمی جنگ چھڑنے کے قومی امکانات موجود تھے۔ اگر ایسا ہو جاتا تو پاکستان کا اس جنگ کی لپیٹ میں آ جانا نوشتہ ء دیوار تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر آئندہ کبھی یہ جنگ ہوئی تو یہ دنیا کی آخری جنگ ہو گی اور اگر آخری نہ ہوئی تو شائد برصغیر کے لئے قیامت صغریٰ کی بجائے ایک نعمتِ غیرمترقبہ ثابت ہو…… یہ دلیل اس لئے دے رہا ہوں کہ جب یکم ستمبر 1939ء کو دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی تھی تو اس سے جو ممالک فوری طور پر متاثر ہوئے وہ یورپی، افریقی اور ایشیائی ممالک تھے۔ یہ جنگ اول اول یورپ میں شروع ہوئی، سارا یورپ بشمول روس اس کی لپیٹ میں آیا۔

دوسرا محاذ شمالی افریقہ میں کھولا گیا اور تیسرا اور آخری وار فرنٹ ایشیا میں مشرق وسطیٰ، برما، مشرق بعید اور خطہ ء بحرالکاہل میں تھا جس کا اختتام بھی اسی خطے (جاپان) میں ہوا۔ شمالی امریکہ، لاطینی امریکہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ وغیرہ اس جنگ سے محفوظ و مامون رہے۔ ہمارا برصغیر بھی اس ”وبا“ سے محفوظ رہا اور اب اگر پیچھے مڑ کر اس جنگ کی بعد از جنگ ”برکات“ کی بات کریں تو ہماری بدقسمتی تھی کہ ہم (جو جنگ کے دو برس بعد انڈیا اور پاکستان کہلائے) اس جنگی ابتلا کی زد میں نہ آئے۔ اگر ایسا ہو جاتا تو اس میں شک نہیں کہ برصغیر دوبارہ ایک نیا جنم لیتا۔ ایک تو اس کی آبادی کم ہو جاتی (اس جنگ کے جانی نقصانات کی وجہ سے)، دوسرے ہمارے وہ ”آثارِ قدیمہ“ جن کو آج ہم فخر سے بچائے اور گلے لگائے ہوئے ہیں، وہ برباد ہو جاتے، ان کی جگہ ایک نئی دنیا پیدا ہوتی جس کے کوچہ و بازار اُسی طرح جگمگاتے جس طرح آج تباہ حال یورپ اور جاپان کے جگمگا رہے ہیں۔ 1945ء کے بعد ایک عشرے کے اندر اندر خراب و خستہ اور تباہ و برباد یورپی اور جاپانی معاشرے از سرِ نو تعمیر و تشکیل ہوئے……

کون جانے اگر یہ دوسری عالمی جنگ نہ ہوتی تو نیا یورپ اور نیا چین و جاپان بھی وجود میں آتا یا نہ آتا۔ یہ جنگ برصغیر کے ہمسائے (برما) تک آئی لیکن آگے نہ بڑھی اور ہندوستانی معاشرہ قدامت، یبوست اور کہنگی کی دلدل میں دھنسا رہا۔ مولانا روم نے کیا درست فرمایا تھا کہ اگر کسی عمارت کو از سرِ نو تعمیر کرنا ہوتا ہے تو اس کی پرانی بنیادیں تک اکھاڑ کر نئی بنیادیں بھری جاتی ہیں:

ہربنائے کہنہ کآباداں کنند

اول آں بنیاد را ویراں کنند

میں عرض کر رہا تھا کہ اگر تیسری عالمی جنگ شروع ہو جاتی اور اس میں جوہری سلاحِ جنگ استعمال نہ ہوتے تو عین ممکن تھا کہ پاکستان اور ہندوستان سمیت یہ سارا خطہ جس کو مشرق وسطیٰ کہا جاتا ہے ایک دوسرا یورپ اور جاپان بن کر ابھرتا۔ لیکن ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے مارے جانے کے بعد اس خطے کی ”تقدیر“ جیسی تھی ویسی ہی رہی!

اقبال نے کہا تھا:

حرارت ہے بلا کی بادۂ تہذیبِ حاضر میں

بھڑک اٹھا بھبوکا بن کے مسلم کا تنِ خاکی

جنرل سلیمانی کی موت کے بعد ایران کا تنِ خاکی بھبوکا بن کر بھڑک اٹھا۔ دو چار دن بعد 8جنوری کو ایران نے عراق میں قائم دو امریکی مستقروں اربیل اور الاسد پر میزائلوں سے حملہ کر دیا۔ کہا جاتا ہے ایرانیوں نے کل 22بلاستک میزائل ان مستقروں پر فائر کئے جس کے نتیجے میں امریکی صدر نے اگلے روز دعویٰ کیا کہ ان سے نہ تو کسی امریکی عمارت کو نقصان پہنچا ہے اور نہ ہی کوئی امریکی سولجر ہلاک یا زخمی ہوا ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد دنیا نے سمجھ لیا کہ ایران صرف بڑھکیں ہی مار سکتا ہے، کر کچھ نہیں سکتا۔ لیکن کل (17جنوری) ایجنسی فرانس پریس (AFP) نے یہ خبر بریک کی ہے کہ: ”اگرچہ پہلے امریکہ نے یہ خبر دی تھی کہ ایرانی حملوں میں امریکہ کا کوئی مالی اور جانی نقصان نہیں ہوا لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ الاسد بیس پر ایرانی حملے میں ”کم از کم“ گیارہ امریکی فوجی زخمی ہوئے تھے۔ امریکی سنٹرل کمانڈ کے ایک ترجمان، کیپٹن اربن (Urban) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اگرچہ ایرانی حملے میں کوئی امریکی سولجر ہلاک نہیں ہوا لیکن کئی زخمی ہوئے ہیں اور زیرِ علاج ہیں اور اس سلسلے میں ہنوز تحقیقات جاری ہیں …… جب یہ حملہ ہوا تو الاسد بیس پر 1500امریکی فوجی موجود تھے جن کو بنکروں میں جانے کی ہدایات دے دی گئی تھیں۔ امریکی ذرائع نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ ان امریکی میزائلوں کے حملے کی وجہ سے امریکی تنصیبات کو خاصا نقصان پہنچا ہے“۔

امریکیوں کی یہ پرانی عادت ہے کہ وہ صاف بات نہیں کرتے۔ اس بیان میں بھی جو کیپٹن اربن نے دیا ہے ”کم از کم“ اور ”خاصا نقصان“ کے الفاظ قابلِ توجہ ہیں …… بالفاظ دیگر اس ترجمان نے اس امکان کو رد نہیں کیا کہ 11سے زیادہ فوجی بھی زخمی ہو سکتے ہیں اور تنصیبات کو جو نقصان پہنچا ہے وہ بہت زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔دو تین روز پہلے میرے ایک دوست ایک سینئر آرمی آفیسر (ر) نے واٹس اَپ پر ایک کلپ بھیجی جس میں درج تھا کہ الاسد مستقر پر امریکی فوجیوں کا جو نقصان ہوا ہے وہ بہت زیادہ ہے۔ سینکڑوں مارے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ اس کلپ میں درست (Exact) ہلاک شدگان اور زخمیوں کی تعداد درج تھی۔ سرکاری معلومات اور اعداد و شمار حاصل کرنے والی ایک امریکی ایجنسی نے حکومتی ذرائع سے ایرانی حملوں کی اتلافات کے بارے میں سوال کیا تھا اور اسی سوال کے جواب میں یہ بتایا گیا تھا کہ سینکڑوں امریکی فوجی مارے گئے (300سے اوپر تعداد تھی) اور سینکڑوں زخمی ہوئے (یہ تعداد بھی 400کے لگ بھگ تھی) الاسد کے اس مستقر کا جو تنصیباتی نقصان ہوا تھا اس کی تفصیل بھی درج تھی۔ اطلاع دینے والے کا نام اور منصب اور جس سرکاری پیڈ پر یہ معلومات دی گئی تھیں، اس کی پوری تفصیل بھی تھی۔ لیکن آج میں نے جب واٹس اَپ کھولا اور یہ معلومات دیکھنی چاہیں تو معلوم ہوا کہ فریسندہ نے یہ معلومات Delete کر دی تھیں۔

لیکن قطع نظر اس کے کہ ایرانی میزائلوں کے اس حملے میں کوئی امریکی مارا گیا تھا، زخمی ہوا تھا یا نہیں ہوا تھا قابل توجہ وہ بیان ہے جو ایران کے سپریم لیڈر آئت اللہ خمینائی نے تہران میں جمعہ (17جنوری 2020ء) کا خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ تقریباً 8برس بعد انہوں نے جمعہ کی نماز میں یہ خطبہ دیا تھا جس میں انہوں نے بہت نپی تلی، ٹھوس اور دل پر اثر کرنے والی باتیں ارشاد فرمائیں۔ مثلاً

1۔ یہ حملہ دراصل امریکی امیج اور شہرت پر حملہ تھا اور اس کی سپریم عسکری قوت پر وار تھا۔ امریکہ نے اس کا جواب ایران پر مزید پابندیاں لگا کر دیا ہے، مگر یہ پابندیاں اس امریکی امیج کے نقصان کی تلافی نہیں کر سکتیں جو اس سٹرائک میں ہوا۔

2۔یوکرائنی بوئنگ طیارے کا حادثہ ایک بہت تلخ حادثہ تھا جس نے ہمارے قلب و جگر کو ہلا کر رکھ دیا۔ بعض حلقوں نے اس حادثے کو ہمارے جنرل (قاسم سلیمانی) کی شہادت کو فراموش کرنے کے لئے بھی استعمال کیا۔ ہمارے دشمن اس حادثے پر اتنے ہی خوش تھے جتنے ہم غم گین تھے۔ ان دشمنوں نے اسلامک ری پبلک کی شہرت کم کرنے کے لئے بوئنگ کے اس حادثے کو استعمال کیا۔

پاکستان کے لئے یہ امر باعثِ اطمینان ہے کہ اب یہ معاملہ ٹھنڈا ہوتا نظر آنے لگا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امریکیوں نے اپنے نقصانات کو بڑھا چڑھا کر اس لئے پیش کرنے کی کوشش کی ہو کہ ایران کی آتشِ انتقام کی شدت کو کم کیا جائے۔ سوشل میڈیا ویسے بھی کوئی زیادہ بااعتبار وسیلہ ء معلومات نہیں گردانا جاتا۔ ہو سکتا ہے۔ میرے دوست نے جو کلپ مجھے ارسال کی وہ جعلی یا غیر مصدقہ ہو اور اسی لئے واپس لے لی گئی ہو۔

ایک اور بات جو میرے لئے اب تک ناقابلِ فہم ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ نے جب عراق میں ان دونوں مستقروں پر اپنے فوجی مقیم کر رکھے تھے اور ان میں جدید ترین فوجی اسلحہ، گولہ بارود اور ساز و سامانِ جنگ بھی تھا تو اس میں میزائل شکن میزائل کیوں نہیں تھے؟ امریکی میزائل شکن پیٹریاٹ بیٹریاں آزمودہ امریکی ہتھیار ہیں جسے خلیج کی دونوں جنگوں میں استعمال کیا گیا(1990-91ء اور 2003-07ء میں)۔ ان کی بڑی شہرت بھی ہے اور اب تک ان کو روس کے S-400کا متبادل سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ، ترکی سے اس لئے بھی ناراض ہے کہ اس نے روس کا ایس۔400میزائل شکن نظام کیوں خریدا ہے اور پیٹریاٹ سسٹم کیوں نہیں خریدا…… کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ امریکہ اپنے پیٹریاٹ میزائل شکن نظام کو اَپ ڈیٹ کرکے روس کے ایس۔400میزائل شکن نظام کے مقابلے پر لا رہا ہے تاکہ ترکی، انڈیا اور اس طرح کے دوسرے ممالک جو امریکی مدار (Orbit) کے ممالک سمجھے جاتے ہیں ان کو مطمئن کیا جا سکے؟ وہ روسی نظام کی جگہ نئے امریکی نظام کی طرف آئیں؟…… بالفرض اگر امریکہ ایسا کر بھی رہا ہو تو اسے عراق میں اپنے مستقروں پر کم از کم کوئی نہ کوئی میزائل شکن نظام تو ڈیپلائے کرنا چاہیے تھا۔ کیا امریکہ کو معلوم نہ تھا کہ ایران کے پاس رعد اور شہاب قسم کی جدید بلاسٹک میزائلوں کی ایک بڑی کھیپ موجود ہے؟

وجہ کچھ بھی ہو معلوم ہوتا ہے کہ ایران، اس امریکی اعتراف کے بعد کہ اس کے مستقر پر ایرانی میزائلوں کے حملے کی وجہ سے جانی اور مالی نقصانات ہوئے ہیں، اپنے مستقبل کے انتقامی پروگرام کو التواء میں ڈالنے کا سوچ رہا ہے اور اگر ایسا ہے تو یہ پاکستان اور اس خطے کے دوسرے ممالک کے لئے ایک خوش آئند بات ہے۔

مزید : رائے /کالم