ملکی معیشت کیلئے کپاس قیمتی تحفہ ہے؛ ایڈیشنل سیکرٹری زراعت

        ملکی معیشت کیلئے کپاس قیمتی تحفہ ہے؛ ایڈیشنل سیکرٹری زراعت

  



لاہور(این این آئی) ایڈیشنل سیکرٹری زراعت(ٹاسک فورس) پنجاب رانا علی ارشد نے کہا ہے کہ کپاس کی چھڑیوں میں بچے کھچے ٹینڈوں کی تلفی یقینی بنانے کیلئے دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے تاکہ کپاس کی آئندہ فصل کو گلابی سنڈی کے ممکنہ حملہ اور نقصان سے بچایا جاسکے۔ دفعہ 144 کے تحت کسی شخص کو بھی کپاس کے ٹینڈوں کو چھڑیوں کے بغیر یا چھڑیوں سمیت رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔کھیتوں،خالی جگہوں،گھروں،کاٹن جننگ فیکٹریوں یا دیگر جگہوں سے ٹینڈوں کے مکمل خاتمے کیلئے دفعہ 144لگائی گئی ہے جو فوری طور پر نافذالعمل ہوگی اور اس کا اطلاق مارچ 2020تک ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مینگوریسرچ انسٹیٹیوٹ میں کپاس کی فصل کی بحالی اور گلابی سنڈی کی آف سیزن مینجمنٹ کے سلسلہ میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں ڈائریکٹر کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ڈاکٹر صغیر احمد، ڈائریکٹر پیسٹ وارننگ کاٹن زون ڈاکٹر محمد اسلم، نوید عصمت کاہلوں،ڈپٹی ڈائریکٹرز چوہدری محمد اشرف،میاں منظور احمد،چوہدری ارشاد احمد،مہر عابدحسین،کاشتکاروں سید حسن رضا، خواجہ محمد شعیب،الیاس آرائیں،غلام رسول سہو، راؤ شاہد اختر(پی سی پی اے) اور سلیم ناصر(کراپ لائف) سمیت دیگر افسران وکاشتکاران بھی موجود تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ کپاس ملکی معیشت کیلئے بہت قیمتی تحفہ ہے۔ قوم، ملک اور آنے والی نسلوں کی معاشی بقا اور فلاح کا انحصار کپاس کی فصل پر ہے۔اس فصل کو منافع بخش بنانے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کو بھر پور عملی کردارادا کرنا ہوگا۔اس فصل کو کاشتکاروں کیلئے پر کشش بنانے اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیلئے حکومت پنجاب متعدد اقدامات اٹھارہی ہے۔گلابی سنڈی کے سدباب کیلئے آف سیزن مینجمنٹ اور آئی پی ایم پروگرام پر عملدرآمد جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ گلابی سنڈی کپاس کا سب سے خطرناک کیڑا ہے۔

گلابی سنڈی لاروے اور پیوپے کی حالت میں اپنا دورانیہ کپاس کے بچے کھچے ٹینڈوں میں گزارتی ہے۔ کپاس کے بچے کھچے ٹینڈے گلابی سنڈی کی ہیچریوں (Hatcheries) کا کام کرتے ہیں جو اگلے سیزن کاشت ہونے والی فصل کو بری طرح نقصان پہنچاتی ہے۔کپاس کی چھڑیوں کے ڈھیروں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ فیرامون ٹریپس لگائے جارہے ہیں تاکہ گلابی سنڈی کے پروانے نکلتے ہی تلف ہوجائیں۔انہوں نے کہا کہ گلابی سنڈی کے حملہ کی وجہ سے کپاس کی فصل کوسالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچتا ہے اور اسے کنٹرول کرنے کیلئے زرعی زہروں پر کثیر اخراجات سمیت فضائی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کپاس کی بحالی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے جس کیلئے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں اور کپاس کی پیداوار میں اضافہ کیلئے متعدد سکیمیں متعارف کرائی جارہی ہیں۔ ایڈیشنل سیکرٹری ٹاسک فورس نے مزید کہا کہ آف سیزن مہم کی کامیابی کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کا بھرپور تعاون اہم کردار ادا کرے گا۔کپاس کی اقسام کا علاقوں کے حساب سے بہتر پیداوار کے سلسلہ میں سروے مکمل کر لیا گیا ہے۔ان علاقوں میں اچھی پیداوار کی حامل اقسام کی عام کاشت کیلئے آگاہی مہم شروع کی جارہی ہے۔کپاس کی گلابی سنڈی کے نقصانات بارے کاشتکاروں کو آگاہی فراہم کرنے کیلئے لٹریچر اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھر مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔نیزٹینڈوں کی تلفی سے انکار کرنیوالوں کیخلاف دفعہ 144کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید : کامرس