گندم بحران کی وجہ گھوسٹ ملوں کو کوٹہ کی سپلائی ہے،خواجہ حبیب الرحمان

  گندم بحران کی وجہ گھوسٹ ملوں کو کوٹہ کی سپلائی ہے،خواجہ حبیب الرحمان

  



لاہور(این این آئی)ایران پاک فیڈریشن آف کلچر اینڈ ٹریڈ کے صدر خواجہ حبیب الرحمان نے کہا ہے کہ گندم بحران کی وجہ گھوسٹ ملوں کو کوٹہ کی سپلائی ہے جو سرکاری گندم لے کر اوپن مارکیٹ میں میں فروخت کرتی ہیں،گھوسٹ فلور ملز کو گندم مہیا کرنے والے سرکاری افسران اور اہلکاروں کا کڑا محاسبہ کیا جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے تاجروں کے وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا ہے کہ فیڈ ملوں کو گندم خریدنے کی اجازت دے کر گندم بحران کی بنیاد رکھی گئی، دوسری وجہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی جانب سے سر پلس گندم کی برآمد کی اجازت دینا تھا جبکہ رہی سہی کسر حکومت نے گندم افغانستان کو تحفے میں دے کر پوری کردی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہمسایہ ملک کو گندم کی بجائے آٹا فراہم کیا جاتا تو اس سے نہ صرف بند انڈسٹری چالو ہوتی بلکہ لاکھوں لوگوں کو روزگار بھی میسر آتا۔انہوں نے مزید کہا کہ چکی آٹا کا ریٹ70روپے کلو ہے جو عوام کے ساتھ ناانصافی ہے،حکومت چکیوں کو بھی سرکاری گندم فراہم کرکے انہیں بھی کم قیمت پر فروخت کیلئے پابند کرے۔ خواجہ حبیب الرحمان نے کہا کہ صو بے کے گوداموں میں اس وقت بھی26 لاکھ میٹرک ٹن گندم موجود ہے،اگرملوں کا کوٹہ بڑھایا جائے تو صوبے سے گندم بحران ختم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں پورے پاکستان کیلئے گندم ہوتی ہے،دوسرے صوبوں کو آٹے اور گندم کی سپلائی پر پابندی درست نہیں کیونکہ اس سے صوبائیت کا تاثر ملتا ہے۔

خواجہ حبیب

مزید : صفحہ آخر