آٹا بحران: سیل پوائنٹس پر لمبی قطاریں، شہریوں میں جھگڑے، مظاہروں کا خدشہ

آٹا بحران: سیل پوائنٹس پر لمبی قطاریں، شہریوں میں جھگڑے، مظاہروں کا خدشہ

  



ملتان‘ حاصل پور‘ ڈیرہ‘ ڈاہرنوالہ (سپیشل رپورٹر‘ نیوز رپورٹر‘ نامہ نگار‘ سٹی رپورٹر)ڈپٹی کمشنر عامر خٹک نے حکومت کی طرف کوٹے (بقیہ نمبر29صفحہ12پر)

میں ملنے والی گندم کا آٹا سیلز پوائنٹس پر فراہم نہ کرنے پر عبداللہ فلور مل کو سیل کرنے کے حکم دے دیاہے۔ یہ حکم انہوں نے گزشتہ روز عبداللہ فلور ملز کے معائنے کے موقع پر جاری کیا۔ڈپٹی کمشنر عامر خٹک جب عبداللہ فلور مل پہنچے تو مانیٹرنگ ڈیوٹی پر تعینات محکمہ خوراک کے انسپکٹر نے انہیں بتا کہ فلور مل کو سرکاری کوٹے سے گندم فراہم کی گئی لیکن متعلقہ سیلزپوائنٹ پر آٹا نہیں بھجوایا گیا۔ فوڈ انسپکٹر نے بتایا کہ اس کی بار بارتاکید کرنے کے باوجود سیل پوائنٹ پر آٹا نہیں بھجوایا گیا اور مالکان اور انتظامیہ فلور مل سے روانہ ہو گئی ہے۔اس پر ڈپٹی کمشنر نے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر کو فوری طور پر فلور مل سیل کرنے کی ہدایت کی۔ڈپٹی کمشنر عامر خٹک کے مختلف فلور ملزکیدوریکئے۔ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر محمد ممتاز بھی ان کے ہمراہ تھے۔ڈپٹی کمشنر نے سیفل، اتحاد اور واحد فلور مل کا بھی دورہ کیا۔انہوں نے سیل پوائنٹس پر آٹے کی فراہمی کا ریکارڈ چیک کیا۔بعد ازاں کمشنر آفس میں منعقد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عامر خٹک نے بتایا کہ ضلع میں آٹے کی کوئی قلت نہیں ہے۔محکمہ خوراک کے پاس گندم کا وافر سٹاک موجود ہے۔گندم کی نئی فصل آنے پر بھی محکمہ خوراک کے پاس سٹاک میں 3 لاکھ بوری گندم موجود ہو گی۔عامر خٹک نے بتایا کہ ضلع میں آٹے کے 64 خصوصی سیلز پوائنٹس قائم کئے گئے ہیں جن پر روزانہ 20 کلو وزن کے 29 ہزار 335 بیگ فراہم کئے جارہے ہیں۔اب فلور ملز کو 10 کلوگرام وزن آٹے کا بیگ تیار کرنے کی بھی ہدایت کر دی گئی ہے تاکہ کم استطاعت رکھنے والے شہری بھی آٹا خرید سکیں۔انہوں نے بتایا کہ 20 کلو گرام آٹے کا بیگ 805 روپے اور 10 کلو آٹے کا بیگ 402 روپے میں دستیاب ہے۔ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ فلور ملز پر مالکان کی اپنی گندم سے فائن آٹے کا 25 کلوگرام وزن کا بیگ تیار کرنے کی شرط عائد کر دی ہے جس کے بیگ کا کلر سبز رنگ کا ہو گا۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر فائن آٹے کے بیگ کا وزن 25 کلوگرام سے کم ہوا تو ضبط کر لیاجائے گا۔ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ آٹے کی سپلائی کا میکانزم درست کر لیا گیا ہے اورمحکمہ خوراک کے افسران کیعلاوہ اب سیکرٹری یونین کونسلز اور ریونیو سٹاف کی خدمات بھی مانیٹرنگ کے لیے حاصل کر لی گئی ہیں۔فلور ملز اور سیلز پوائنٹس دونوں جگہوں پر مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔آٹے کی قیمت مقررہ نرخ پر برقرار رکھنے کے لیے جرمانے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔فلور ملز مالکان کو اب تک ایک کروڑ روپے جرمانے کئے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ شہری آٹے کی قیمتوں بارے قیمت پنجاب ایپ پرشکایت کر سکتے ہیں۔ شکایت ملنے پر پرائس مجسٹریٹس کے ذریعے فوری کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکومتی اقدامات کے باوجود شہر میں آٹا کی فروخت معمول پر نہ آسکی،آٹا کی خریداری کیلئے سیل پوائنٹس پر طویل قطاریں لگ گئیں اور لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے ہیں، صارفین نے ا?ٹا کا بحران پیداکرنے والے مافیا کیخلاف ٹھوس کارروائی کا مطالبہ کیاہے،دوسرے شہروں کی طرح ملتان شہر اور گردونواح میں آٹا کا بحران پوری شدت سے جاری ہے، حکومتی اقدامات کے باوجودغائب ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو آٹا کی دستیابی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے،صارفین کا کہنا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں آٹا کی خریداری کے لئے سیل پوائنٹس پر رش لگا ہواہے، غریب مزدور 500روپے کی ڈیہاری ختم کرکے آٹا کے لئے لائنوں میں لگا ہواہے، ا?ٹا کی خریداری کے لئے شہریوں کے درمیاں لڑائی جھگڑے بھی شروع ہوگئے ہیں اورطویل قطاروں میں دھکم پیل جاری ہے، شہریوں کا کہناتھا کہ صوبائی حکومت آٹا کی دستیابی میں بدانتظامی کا نوٹس لے۔حکومت کی نااہلی کی وجہ سے آٹا 70روپے کلو ہوگیا ان خیالات کا اظہار پی پی 248کے ایم پی اے حاجی محمدافضل گل ایڈووکیٹ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ غریب عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے اب تو مڈل کلاس طبقہ بھی بجلی کے بلوں، گیس کے اضافی بلوں، سبزیاں، فروٹ کی مہنگائی سے دوچار ہے آٹے کا بحران حل نہ ہو سکا اگر عوام سٹرکوں پر نکل آئے گی جس کی پوری ذمہ داری حکومت وقت پر ہو گی ن لیگ کے دور میں کسانوں اور غریب عوام کو ہر موڑ پر سبسڈی دی گئی تاکہ غریب عوام خوشحال زندگی بسر کر سکے حکومتی وزیر عوام کو مذاق اڑا رہے ہیں مہنگائی پر قابو پانا عوام کو ہر خواب ادھورا ہی رہ چکا ہے میاں شہباز شریف کے دور میں عوام نے خوشحالی کی زندگی گزاری انشااللہ وہی دور آنے والا ہے۔ اھر حکومت کی نااہلی کی وجہ سے آٹا 70روپے کلو ہوگیا ان خیالات کا اظہار پی پی 248کے ایم پی اے حاجی محمدافضل گل ایڈووکیٹ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ غریب عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے اب تو مڈل کلاس طبقہ بھی بجلی کے بلوں، گیس کے اضافی بلوں، سبزیاں، فروٹ کی مہنگائی سے دوچار ہے آٹے کا بحران حل نہ ہو سکا اگر عوام سٹرکوں پر نکل آئے گی جس کی پوری ذمہ داری حکومت وقت پر ہو گی ن لیگ کے دور میں کسانوں اور غریب عوام کو ہر موڑ پر سبسڈی دی گئی تاکہ غریب عوام خوشحال زندگی بسر کر سکے حکومتی وزیر عوام کو مذاق اڑا رہے ہیں مہنگائی پر قابو پانا عوام کو ہر خواب ادھورا ہی رہ چکا ہے میاں شہباز شریف کے دور میں عوام نے خوشحالی کی زندگی گزاری انشااللہ وہی دور آنے والا ہے۔ ڈاہرانوالہ اور گرد و نواح میں آٹے کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔گندم اور آٹا نایاب ہو گیا۔مارکیٹ میں آٹا غائب،گندم بلیک میں فروخت ہونے لگی جبکہ آٹا چکیوں پر 70 روپے کلو بھی دستیاب نہیں ہے۔جبکہ سرکاری پوائنٹ پر حکومت کے مقرر کردہ نرخوں میں بھی آٹا ملنا خواب ہو گیا.افسران اور محکمہ کی ملی بھگت سے سرکاری آٹا بھی مارکیٹ سے غائب کر دیا گیا ہے.آٹے کی شدید قلت کی وجہ سے عوام فاقہ کشی پر مجبور ہونے لگے۔ڈاہرانوالہ کے شہریوں نے حکومت وقت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کو بنیادی ایشائے ضروریات زندگی فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔پہلے ہی عوام پر مہنگائی کا اتنا بوجھ ڈال دیا گیا ہے اور اب آٹے کے بحران نے عوام کا جینا دو بھر کر کے رکھ دیا ہے.عوامی حلقوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت مارکیٹ میں غریب عوام کو روٹی کے لیے آٹا فراہم نہیں کر سکتی تواسے حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔حکومت استعفی دے کر گھر چلی جائے۔وزیر اعلی پنجاب کا آٹے کی قلت دور کرنے کے لیے اقدامات ہوا میں اڑا دئیے گئے۔انتظامی افسران آٹے کے بحران پر قابو پانے میں ناکام ہو گئے۔ڈاہرانوالہ کے شہریوں نے حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر آٹے کے بحران پر قابو نہ پایا گیا تو شدید احتجاج کیا جائے گا۔

آٹا

مزید : ملتان صفحہ آخر