میپکو سمیت بجلی کمپنیوں میں میٹر ریڈنگ کی پالیسی پر عمل درآمد ٹھپ

میپکو سمیت بجلی کمپنیوں میں میٹر ریڈنگ کی پالیسی پر عمل درآمد ٹھپ

  



ملتان (سٹاف رپورٹر) میپکو سمیت بجلی کمپنیوں میں میٹر ریڈنگ کی پالیسی پر عملدرآمد نہ ہو سکا‘ لائن سپرنٹنڈنٹس اور ایس ڈی اوز کی ذمہ داریاں بھی میٹر ریڈرز ادا کر رہے ہیں‘ بتایا گیا ہے کہ پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی کی پالیسی کے مطابق میٹر ریڈرز 5کلو واٹ لوڈتک تمام جنر ل بیچ کی ریڈنگ(بقیہ نمبر10صفحہ12پر)

کریں گے۔6کلو واٹ سے 40کلو واٹ تک بیچ 28‘29کے کنکشنوں کے میٹرز کی ریڈنگ متعلقہ لائن سپرنٹنڈنٹس کے ذمہ ہے جبکہ 41کلو واٹ سے 500کلو واٹ تک بیچ 27‘28کے کنکشنوں کی میٹر ریڈنگ متعلقہ ایس ڈی اوزکی ذمہ داری ہے‘اس کے بعد 500کلو واٹ لوڈسے زائد تمام کنکشنوں کی ریڈنگ متعلقہ ایکسین/ایگزیکٹو انجینئرز کے ذمہ ہے لیکن میٹر ریڈنگ کی اس پالیسی پر عملدرآمد نہیں ہو سکا اور میٹر ریڈرز ہی لائن سپرنٹنڈنٹس اور ایس ڈی اوز کے ذمہ بڑے کنکشنوں کے میٹرز کی ریڈنگ کر رہے ہیں جبکہ ایکسین/ایگزیکٹو انجینئرز کے ذمہ بیچ27‘30 کے ہیوی کنکشنوں کی ریڈنگ ان کے ٹیکنیکل اسسٹنٹ(ٹی اے)کر رہے ہیں‘ یہ امر قابل ذکر ہے کہ میٹر ریڈرز پرپہلے ہی ورک لوڈ بہت زیادہ ہے اور یارڈ سٹک کے مطابق دیہات میں 70اور شہر میں 100میٹرز کی ریڈنگ کی بجائے ہر میٹر ریڈرز کو روزانہ 200سے400کنکشنوں کی ریڈنگ کرنا پڑتی ہے جس کے باعث وہ ہلکان ہو جاتے ہیں‘ اس کے ساتھ ہی انہیں لائن سپرنٹنڈنٹس‘ ایس ڈی اوز اور ایگزیکٹو انجینئرز کے ذمہ بیچ27‘28‘29‘30کے کنکشنوں کی ریڈنگ بھی کرنا پڑ رہی ہے جس کے باعث ان کی ہفتہ اور اتوار کی چھٹیاں بھی ختم ہو کر رہ گئی ہیں‘ میٹر ریڈرز نے وفاقی وزیر توانائی سے مطالبہ کیا ہے کہ ہماری حالت زار پر رحم کیاجائے اور یارڈ سٹک کے مطابق ہی ڈیوٹی لی جائے۔ دوسری جانب پاور ڈویژن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ میپکو سمیت بجلی کمپنیوں میں افسروں وملازمین کی شدید کمی ہے‘ ایگزیکٹو انجینئرز‘ ایس ڈی اوز اور لائن سپرنٹنڈنٹس کی اپنی اس قدر ذمہ داریاں ہیں کہ ان کے پاس میٹر ریڈنگ کا وقت ہی نہیں ہے‘جب سٹاف پورا ہوگا تب ہی صورتحال میں بہتری آسکتی ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر