بزدار،اعظم سلیمان اور پنجاب

بزدار،اعظم سلیمان اور پنجاب
بزدار،اعظم سلیمان اور پنجاب

  



جمہوری ممالک کے سیاسی ادوار میں،امور مملکت چلانے کے ذمہ دار تین ادارے بڑے اہم سمجھے اور جانے جاتے ہیں،یہ ادارے مقننہ،انتظامیہ اور عدلیہ کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔تیسری دنیا میں مسلح افواج کا بھی ریاستی معاملات میں اہم کردار ہوتا ہے،مغربی دنیا نے ایک عرصہ افواج کو سیاسی امور سے الگ رکھا، مگر بدلتے حالات میں اب وہاں بھی فوج کے کردار کو تسلیم کیا جانے لگا ہے،خاص طور پر جب سے امریکہ اور یورپ میں ملک گیری کی لہر نے سر اٹھایا ہے فوج کو سیاسی معاملات میں ازخود اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ اپنے محل وقوع،جغرافیائی حالات،بھارت دشمنی اور افغانستان میں بد امنی کی وجہ سے پاکستان میں ابتداء سے ہی فوج کو اہمیت حاصل رہی، سیاست دانوں کی بے اعتدالیوں کی وجہ سے یہ اہمیت دوچند ہو گئی،اس کے باوجود ریاستی اور حکومتی امور،سیاسی معاملات کو چلانا منتخب حکومت کو ہی زیبا ہے۔اچھی حکومت کے قیام کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر فرائض منصبی انجام دے،جب بھی کوئی ادارہ دوسرے کی آئینی حدود میں مداخلت کرے گا شکر رنجی پیدا ہو گی تلخی بڑھے گی اور نتیجہ تصادم ہو گا یا ترقیاتی عمل رک جائے گا۔

تحریک انصاف نے الیکشن میں کامیابی کے بعد پنجاب کی پگ عثمان بزدار کے سر رکھی تو ہر شخص انگشت بدنداں تھا مگر وزیراعظم عمران خان کو تونسہ کے اس سردار پر بہت اعتبار اور اعتماد ہے،عثمان بزدار ایک عام سی قبائلی شخصیت ہیں،شو بازی سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں، کم گو ہیں اور بولیں تو نپی تلی بات کرتے ہیں،

شائد کفائت شعار ہیں،مگر یہ اوصاف حمیدہ کسی کی انفرادی شخصیت کے لئے تو بہت اچھے ہیں مگر کار سرکار چلانے کے لئے اور بھی بہت سی خوبیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔اہم ترین، ایک اچھا نگران،منتظم ہونا ہے مگر بد قسمتی سے عثمان بزدار موخر الذکر خوبیوں سے عاری ہیں یہی وجہ ہے کہ حکومت کے ابتدائی14ماہ میں وہ کوئی کارکردگی دکھا سکے اور نہ ہی ڈیلیور کرنے میں کامیاب ہو سکے جس کی وجہ سے اتحادی جماعتیں بھی ان سے خفا ہیں تو اپنے بھی ناراض،پے در پے تجربات کی ناکامی،تبادلوں کے جھکڑ چلانے کی وجہ سے پنجاب حکومت پرفارم نہ کر سکی اس پر نیب کے خوف نے بیوروکریسی کے ہاتھ باندھ دیئے، ماضی میں مقننہ جس کا کام قانون سازی تھا وہ اپنا کام چھوڑ کر انتظامی معاملات میں بے جا دخل اندازی کرتی رہی،بیور وکریسی نے بھی یہ دخل اندازی ٹھنڈے پیٹ قبول کر لی نتیجے میں بے ضابطگی،بدعنوانی کو فروغ ملا،تحریک انصاف کے دور میں سرکاری افسران جو دراصل انتظامیہ ہے کے سر پر نیب کی تلوار لٹکا دی گئی جس سے خوف و ہراس پھیلا،آئے روز تبادلوں کے باعث افسروں کو کچھ کرنے کا موقع ہی نہ دیا گیا،اس صورتحال کا ادراک وزیراعظم کو ہوا تو پنجاب میں میجر(ر)اعظم سلیمان کو چیف سیکرٹری کی ذمہ داری سونپی گئی،یہ بہتری کی جانب پہلا قدم تھا۔

اعظم سلیمان نے عہدہ سنبھالنے کے فوری بعد بیورو کریسی کے ذہن و دل سے نیب کا خوف ختم کیا، افسروں کو بلا خوف اور کسی بھی دباؤ میں آئے بغیر فرائض منصبی ادا کرنے کی ہدائت کی،یہ بھی باور کرایا کہ فرائض کی ادائیگی میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہ ہونے دی جائے، منتخب نمائندے اپنا قانون سازی کا کام کریں اور ہمارا کام موجود و مروج قوانین کے مطابق عوامی مسائل کو حل کرنا ہے،لہٰذا سرکاری افسر قوانین کے تحت عوام کی داد رسی کریں۔چھاپوں گرفتاریوں ریفرنسز کی ذمہ داری بھی انہوں نے اٹھائی،اس حوالے سے عہدہ سنبھا لنے سے قبل وزیراعظم سے واضح یقین دہانی حاصل کی کہ نیب سرکاری افسروں کو تنگ نہیں کرے گا کسی کے خلاف کوئی شکائت ہو گی تو متعلقہ پلیٹ فارم کو آگاہ کر کے تھرو پراپر چینل کارروائی عمل میں لائی جائے گی،صرف الزام لگا کر کسی افسر کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال کر الزامات کو جھوٹ ثابت کرنے کی ذمہ داری بھی متعلقہ افسر پر نہیں ڈالی جائے گی بلکہ جو الزام نیب نے عائد کیا ہے اسے وہی ثابت کرے گی، جس کے بعد افسروں کے حوصلے بلند ہوئے،سوا سال کے طویل عرصہ کے بعد انتظامیہ میں حرکت دکھائی دی،اور اس کا سہرا اعظم سلیمان کے سر ہے ورنہ اس سے پہلے تو پنجاب میں ٹھنڈ پروگرام جاری تھا۔

بیورو کریسی کے اعتماد میں اضافہ کے لئے چیف سیکرٹری نے فیلڈ میں نکلنے کا فیصلہ کیا جو انتہائی کارآمد اقدام تھا،مختلف محکموں اور ڈویژنوں کے دورے کرنے شروع کئے اور ان دوروں میں ایک خوش آئند روایت ڈالی کہ آئی جی پولیس شعیب دستگیر کو بھی ہمرکاب کیا،جس علاقہ کے دورہ پر گئے وہاں کے منتخب نمائندوں کو بھی ساتھ رکھا،اس طرح قانون بنانے والے منتخب عوامی نمائندے، قانون پر عملدرآمد اور جرائم و زیادتی روکنے کی ذمہ داری کے حامل افسر مل کر مسائل و مشکلات کا حل تلاش کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں،اگر ان دوروں میں عدلیہ کو بھی اعتماد میں رکھا جائے تو اس سے مزید شفافیت بھی آئے گی کارکردگی میں اضافہ ہو گا،سرکاری افسروں اور عو ام میں رابطہ بھی ممکن ہو جائے گا اور سب سے بڑھ کر ریاستی اداروں میں مل جل کر کام کرنے، ملکی اور عوامی مسائل حل کرنے کی لگن بھی پیدا ہو گی۔چیف سیکرٹری نے اس سلسلے میں پنجاب کے نئے چیف جسٹس سے بھی ملاقات کی ہے۔

عوامی منتخب نمائندے جو قانون ساز بھی ہیں جب قوانین اور پالیسیوں پر عملدرآمد کرانے والی بیوروکریسی یعنی انتظامیہ،کسی غفلت کوتاہی پر ایکشن لینے والی پولیس اور انصاف فراہم کرنے والی عدلیہ کے نمائندے سر جوڑ کر بیٹھیں گے تو انہیں بہتر طور پر عوامی مسائل و مشکلات کا اندازہ ہو گا،بہترین حل تلاش کیا جا سکے گا، عوامی مسائل حل کرنے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا بھی ادراک کیا جا سکے گا اور ان رکاوٹوں کو دور کر نے میں بھی آسانی ہو گی،ترقیاتی منصوبوں کی ترجیح کا تعین کیا جا سکے گا اور کرپشن کے راستے بند کئے جا سکیں گے۔

اعظم سلیمان کو چیف سیکرٹری پنجاب لگانے کا فیصلہ وزیراعظم عمران خان کا ہے ورنہ عثمان بزدار تو مرکزی اور صوبائی کابینہ کے مخلص،تجربہ کار، قانون پسند،دیانتدار افسروں سے تو واقفیت ہی نہیں رکھتے،اس حوالے سے شہباز شریف کو ملکہ حاصل تھا نواز شریف کے پہلی بار 85ء میں وزیراعلیٰ بنتے ہی انہوں نے بیورو کریسی میں اپنی جڑیں گہری کر لیں اور اپنے مطلب کے بندے تلاش کئے،مگر جب خود وزیراعلیٰ بنے تو بیوروکریسی کو ذاتی ملازم بنا لیا،صبح سویرے گھر بلاتے گھنٹوں انتظار کراتے اور رات گئے پھر گھر طلب کر لیتے، پرویز الٰہی نے ان تمام روایات کو توڑا، بیورو کریسی سے براہ راست روابط بنائے انہیں عزت و احترام دیا،ذاتی نہیں ریاستی ملازم سمجھ کر ان سے کام لیا،آج اگر عثمان بزدار پرویز الہٰی کی روش اپنا لیں تو ان کے مختصر عرصہ میں بیورو کریسی سے اچھے روابط پیدا ہو سکتے ہیں اور بہتر طور پر ان سے کام لے سکتے ہیں،پرفارمنس بھی اچھی ہو جائے گی اور ڈیلیور کرنا بھی ممکن ہو گا۔

کامیاب حکمرانی کے لئے ضروری ہے کہ پہلے صوبہ کے ہر علاقہ کے مسائل بارے آگاہی حاصل کی جائے مسائل حل کرنے کی جامع منظم مربوط پالیسی وضع کی جائے،

مگر یہ کام وہ کر سکتا ہے جس کو عوامی نمائندوں، سرکاری افسروں اور علاقائی مسائل سے بخوبی آگاہی ہو،موجودہ حکومت نے اس حوالے سے اپنے پیشرؤں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی بجائے دن رات تجربات کئے۔ وزیراعظم نے پنجاب کے انتظامی معاملات میں بہتری کے لئے تو میجر اعظم سلیمان کو تلاش کر لیا اور انتظامی معاملات بہتری کی طرف چل بھی پڑے ہیں مگر ضروری ہے کہ ان کی راہ میں سیاسی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی بجائے انہیں مکمل سپورٹ دی جائے تاکہ پنجاب میں ترقی اور بہتری کا سفر تیز ہو سکے۔وزیراعلیٰ بزدار کو یہ بات اب سمجھ لینی چاہئے کہ انتظامی بہتری کا کریڈٹ بھی انہیں ہی ملے گا اور اسی سے ان کی سیاسی پریشانیاں دور ہوں گی۔

مزید : رائے /کالم