انجمن طلبہ اسلام کے ثمرات کی جھلک 52سالہ جہدوجہد،ایک جائزہ

انجمن طلبہ اسلام کے ثمرات کی جھلک 52سالہ جہدوجہد،ایک جائزہ

  



انجمن نے اپنے 52سالہ سفر میں جو کامیابیاں حاصل کیں، اُن کی ایک سرسری سی جھلک پیش ِ خدمت ہے۔

٭ پاکستان میں انجمن طلبہ اسلام پہلی طلبہ تنظیم ہے جس نے طلبہ کو دین کی دعوت کے ساتھ خوف ِ خدا اور محبت ِ رسول ﷺکی تعلیم دی۔

٭ انجمن سے قبل کسی بھی طلبہ تنظیم کے لٹریچر میں عشق رسول ﷺاور غلامی ئ رسولﷺ کا تذکرہ تک نہ تھا، انجمن کی کوششوں سے عام لوگوں اور دیگر تنظیموں نے بھی اس کے نعروں کو اپنا یا۔

٭ انجمن نے نیکی کے متلاشیوں کو روشنی دکھائی، بھٹکے ہوؤں کا دین کا سیدھا راستہ بتلا یا۔ ا س نے طلبہ میں صحیح اسلامی روح بیدار کرنے کے لیے محبت ِ الہی اور عظمت رسول ﷺ پر مبنی جس فکر کو متعارف کیا، اس سے بے شمار طلبہ کی زندگیاں انقلاب آشنا ہوئیں۔ انجمن نے مسلمان طلبہ کو اپنے نبی ﷺ سے محبت کرنا اور اُن کے نام پر جینا مر نا سکھایا۔

٭ تعلیمی اداروں میں رسولِ پاکﷺ کی عظمتوں کا بیان، محا فل میلاد، محافل ِ نعت اورنعتیہ مشاعروں کی روایت شروع کرنے میں انجمن کا اہم کردار رہا ہے۔ اس سے قبل تعلیمی اداروں کے در و دیوار اس طر ح کے پرو گراموں سے نا آشنا تھے۔

٭ ا س تنظیم نے طلبہ کو بتایا کہ مملکت ِ پاکستان کن شخصیا ت کا فیضان اور کن بزرگوں کی قر با نیوں کا ثمر ہے، اس ملک کو کس نے بنایا، کیوں بنایاا ور اس ضمن میں طلبہ کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟

٭ انجمن نے طلبہ کو اُن اولیاء عظام کی خدمات سے آگاہ کیا جنہوں نے ایک عَالم کو اسلام کے دامن ِ محبت سے وا بستہ کیا۔اس کی کوششوں سے اولیاء کرام کی حیات و خدمات کے اسباق نصاب میں شامل کئے گئے۔

٭انجمن نے امام احمد رضا محدث بریلوی پر علمی مذاکروں اور پروگراموں کا آغاز کیا اور اعلیٰ حضرت کی ہمہ جہت، علمی، فقہی، ادبی اور فکری شخصیت سے عوام کو متعارف کرایا۔ اخبارات میں اعلحضرت ایڈیشن اور مختلف شہروں میں ”یوم ِ رضا“ کے عنوان سے تقریبات انجمن کی کوششوں سے شروع ہو ئیں۔

٭ طلبہ میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنے اور اُن میں قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں انجمن کی سرگرمیوں نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔

٭ انجمن طلبہ اسلام نے نصاب ِ تعلیم کو اسلامی اقدار اور نظریہ پاکستان سے ہم آہنگ بنانے کی کوششوں میں اپنا کردارادا کیا ہے۔

٭ انجمن نے کئی مرتبہ نصاب تعلیم میں پائی جانے والی اغلاط کی نشاندہی کی اور پھر اپنی جدوجہد سے انھیں درست کرایا۔انجمن، طلبہ کی اپنی تعلیم سے غفلت برتنے کے سخت خلاف ہے،یہی وجہ ہے کہ اس تنظیم سے وابستہ مختلف مرکزی عہدیداروں تک نے تعلیمی میدان میں قابلِ فخر کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اس سلسلے میں نمایاں پوزیشن، اسکالر شپ اور گولڈ میڈل حاصل کئے۔

٭ طلبہ بہبود کے لیے انجمن کی سرگرمیاں جہاں غریب طلبہ کے لیے ایک سہارا بنتی رہی ہیں وہاں اِن خدمات سے معاشرے میں طلبہ کے وقار کی بحالی میں بھی مدد ملی ہے۔

٭ انجمن طلبہئ اسلام نے ہمیشہ نبی کریم ﷺ اور اسلامی شعائر کی حرمت کے تحفظ کے لیے اُٹھنے والی ہر آواز پر لبیک کہا جو انجمن کے لیے بڑی سعادت کی بات ہے۔

٭ انجمن نے علاقائی،لسانی عصبیتوں اور تعصبات کے خلاف آواز بلند کی اور وطن دشمن عناصر کے خلاف کئی مرتبہ جواں جذبوں کا اظہار کیا۔

٭ انجمن نے کئی مرتبہ دین اور وطن کے خلاف کی جانے والی سازشوں پر احتجاج کرکے، اُن سازشوں کو انھیں ناکام بنایا۔

٭ انجمن نے روشن خیالی، جمہوریت، کلچر اور سافٹ امیج کے نام پر اسلامی اقدار اور نظریہ ئ پاکستان کو پامال کرنے کی سا ز شوں کو بے نقاب کیا۔

٭ انسانی حقوق، آزادی ئ اظہار، برداشت اور روا داری کے نام پر ناموس ِرسالت، شر عی قوانین اور شعائر ِ اسلام پر حملوں کا نوٹس لیا اور ان کے خلاف بھر پور احتجاج کیا۔

٭ انجمن نے مختلف مواقع پر علماء کرام میں یکجہتی پیدا کرنے کے لیے انتھک کوششیں کیں۔ 1994-1993ء میں انجمن کی کوششوں سے علماء ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے۔

٭ انجمن کی بدولت مختلف مواقع پر تعلیمی اداروں میں ہنگامہ آرائی کی روک تھا م ہوئی اور کئی مرتبہ انجمن کے کارکنان کے مصالحتی کردار سے طلبہ کے مابین جھگڑے اور خون ریز تصادم ہوتے ہوتے رہ گئے۔

٭ بڑے بڑے آرام طلب نوجوانوں کو تنظیمی کام کے دوران فاقہ کشی اور محنت و مشقت نے زندگی کی حقیقتوں سے روشناس کیا۔ اپنی تربیتی نشستوں میں طلبا ء کو شب بیداری کی لذتوں سے آشنا کیا اور انھیں تزکیہئ نفس کا سلیقہ سکھایا۔

٭ انجمن نے اُن طلبہ کوایک بہتر پلیٹ فارم مہیا کیا جواپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے لادین، بد عقیدہ، وطن دشمن، دہشت گرد اور معاشر تی برائیوں میں مبتلا گروہوں کی بھینٹ چڑھ جاتے تھے۔

٭ انجمن کے نصاب، لٹریچر اور علمی ماحول سے طلبہ میں مطالعہ کرنے کی عادت پیدا ہوئی۔طلباء کو شعبہئ صحافت، شعبہئ تعلیم، اُمور داخلہ، شعبہئ انتظامی اُمور، شعبہ سیاست، شعبہ تربیت، شعبہ طباعت اور دیگر شعبہ جات کو سمجھنے کا موقعہ ملا۔

٭ انجمن کی جدوجہد سے ملتان یونیورسٹی کا نام ”بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی“اور بارانی یونیورسٹی راولپنڈی کا نام ”پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی“ رکھا گیا۔ انجمن کی جدوجہد کے نتیجے میں مختلف جامعات میں صوفیائے عظام کے نام پر چیئرز قائم کی گئیں۔

٭ مورخہ 25جون 2007ء کو آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ، تلاوت کے بعد نعت رسول مقبول پڑھنے کی روایت کاآغازہوا۔ یہ آغاز وزیر مذہبی اُمور و اوقاف حافظ حامد رضاکی کوششوں سے ہوا جو اپنے دورِ طالب علمی میں انجمن سے وابستہ رہے تھے۔ اس کی خبر پاکستان پریس انٹرنیشنل نے دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ اور لائبر یریوں کو ارسال کی۔حافظ حامد رضا کا کہنا ہے ”ہمارے ہاں تو کابینہ کے اجلاس میں بھی تلاوت کے بعد نعت ِ رسول مقبول پیش کی جا تی ہے۔

٭ اسی طرح مورخہ 7جون2008ء کو پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تلاوت کے بعد نعت رسول ِ مقبول کی روایت کا آغاز ہوا۔یہ کام اسمبلی کے اراکین طاہر محمود ہندلی (سابق نائب ناظم دوم اے ٹی آئی پنجاب)، چوہدری امجدعلی میو (رفیق ِ انجمن پتوکی)،چودھری شوکت محمود بسرا (رفیق ِ انجمن ہارون آباد)، ملک نو شہر خاں انجمن لنگڑیال(رفیق انجمن بورے والا)اور محمد حنیف طیب (سابق رکن قومی اسمبلی و سابق مرکزی صدر اے ٹی آئی کی خصوصی کوششوں اور دیگر اراکین اسمبلی کے تعاون سے ممکن ہوا۔

٭ حالیہ سیشن میں موجودہ قیادت نے کشمیر کی آزادی اور طلباء یونین کی بحالی کیلئے جرات مندانہ تحریک چلائی۔

جدوجہد کے کردار ساز اور ولولہ انگیزسفر میں طلبہ کے مقدس جذبوں کی امین اس تنظیم نے محبت رسول ﷺسے سرشار اسلامی اور تعمیری ذہن رکھنے والے لاکھوں محب وطن اور با صلاحیت نوجواں اس ملک کو دیئے ہیں۔

انجمن طلبہ اسلام کی بے شمارخدمات اور احسانات، تاریخ کے دامن میں سمٹ چکے ہیں۔ اس کے بے لوث کارکنان کی قربانیاں اور جذبوں کی کہانیاں اس کے ما ضی و حال کا حصہ ہیں۔ ان سب کا تذکرہ ان صفحات میں سمیٹا نہیں جاسکا۔

اِس میں شک نہیں کہ انجمن طلبہ اسلام کے بے شمار فیصلے عمل درآمد سے محروم رہے ہیں نیز یہ کہ یہ تنظیم اپنے کارکنان پر سے معاشرے کے منفی اثرات ختم کرنے میں مکمل کامیاب بھی نہیں ہوسکی مگربرائیوں کے طوفانوں میں انجمن نے اپنے حصے کی شمع کو ہمیشہ روشن کئے رکھا۔ انجمن پورے معاشرے کو یکسرتبدیل تو نہیں کر سکتی مگر وہ اپنی روشن فکراورجواں جذبوں کے اظہار سے ملک و قوم کو صحیح سمت میں گامزن کرنے میں ممدوو معاون ضرور ثابت ہوئی ہے۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1