انجمن طلباء اسلام کاجشن ِ تشکیل

انجمن طلباء اسلام کاجشن ِ تشکیل

  



انجمن طلباء اسلام اپنی تشکیل کے 52سال مکمل کرکے 53ویں سال میں داخل ہو رہی ہے۔ قیامِ پاکستان کے آغاز میں ہی پاکستان میں مختلف نظریات کی حامل طلبہ تنظیمیں وجود میں آنا شروع ہو گئیں۔ان تنظیموں پر عالمی سیاسی، معاشی اور نظریاتی تقسیم کے اثرات بھی پڑے اور یہ بعض سیاسی جماعتوں اور اُن کی قیادت کے باہمی شخصی،سیاسی اور نظریاتی اختلافات کے بھی زیر اثر رہیں۔ متحدہ پاکستان کی سیاست میں طلبہ کی سب سے مؤثر شرکت، ایوب خاں کی حکومت کے خلاف شروع ہونے والی تحریک میں تھی۔ اس دور میں ”جو طلبہ سے ٹکرائے گا۔۔۔ پاش پاش ہوجا ئے گا“ کا نعرہ ایک تحریک بن کر ابھرا، جس نے طلبہ کی طاقت کے احساس کو جنم دیا۔ بعد ازاں مختلف تحریکوں میں طلبہ نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ طلبہ کبھی متحد ہوکر جدوجہد کرتے نظر آئے تو کبھی مختلف تنظیموں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوئے۔ پاکستان کی طلبہ تنظیموں میں ایک نمایاں نام ”انجمن طلبہ اسلام“ کا ہے جو طلباء یونین کے اخری انتخابات میں پنجاب کی فاتح ٹھہری۔ انجمن طلباء اسلام کی بنیاد20جنوری1968ء کو کراچی میں رکھی گئی۔دیکھتے دیکھتے یہ تنظیم پور ے ملک میں پھیل گئی۔ اپنے52سالہ سفر میں اس تنظیم نے متعدد کار ہائے نمایاں انجام دیئے، طلبہ میں خدا پرستی اور محبت رسول ﷺپر مبنی جذبوں کو پروان چڑھانے کے لیے جدوجہد کی، وطن عزیز میں چلنے والوں تحریکو ں میں اہم کردار ادا کیا، طلبہ میں سماجی فلاحی سرگرمیوں کو فروغ دیا اورطلباء مسائل کے حل اور وطن عزیز کی طلبہ سیاست پر جو نقوش ثبت کیے وہ ہماری قومی زندگی کا قابلِ فخر سرمایہ ہیں۔ انجمن طلبہ اسلام نے فرقہ پرستی سے بالا تر ہوکر اعتدال کی راہ اختیار کی۔ بقول ممتاز قانون دان ایس ایم ظفر کے ”یہ تنظیم شخصی کرشمے کے ارد گرد نہیں چلتی بلکہ اپنے مقاصد کی بناء پر فعال ہے“۔ اپنے سسٹم کے باعث انجمنکسی گروہ کی پیروکار بن سکی اور نہ کسی ایک شخصیت کے حلقہئ عقیدت کی اسیر۔انجمن طلبہ ئ اسلام واحد طلبہ تنظیم ہے جو کسی سیاسی جماعت کی ذیلی تنظیم نہیں ہے۔ دیگر طلبہ تنظیمو ں کے بر عکس انجمن اپنے فیصلے اور پالیسیاں خود مرتب کرتی آئی ہے۔

انجمن طلبہ اسلام نے اپنے قیام سے اب تک مختلف تحریکوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 16 دسمبر 1971 ء کو بھارتی جارحیت، سیاستدانوں کی ہوسِ اقتدار اور غلط دفاعی پالیسیوں کی وجہ سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سانحہ رونما ہوا۔ تاریخ پاکستان کا یہ وہ المناک سانحہ تھا، جس پر پاکستان بنانے والوں کی آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں۔3 جنوری 1973 ء کو جب حکومتِ وقت نے بنگلہ دیش منظوری کے لیے نشتر پارک کراچی میں جلسہ منعقد کیا تو انجمن طلباء اسلام کا ایک جیالا کارکن عبدالواحد بلوانی حب الوطنی کے جذبے کے تحت تمام تر حفاظتی انتظامات توڑ کر اسٹیج پر چڑھ گیا اور ’’بنگلہ دیش نامنظور“کا نعرہ بلند کیا۔اس نعرے نے پورے جلسے کی بساط ہی پلٹ دی اور ہر طرف سے بنگلہ دیش نامنظور کے نعرے بلند ہونے لگے۔عبدالواحد کو جرأت وغیرت کے اس اظہار کے نتیجے میں تشدد اور جیل کی سزا جھیلنی پڑی۔بھارتی جارحیت کے نتیجے میں قید پاکستانی فوجیوں کی رہائی کے لئے انجمن نے اپنا پہلا تنظیمی ہفتہ”ہفتہ بیداری ئعالمی ضمیر“15 تا 21جون 1973 ء منایا۔ انجمن نے ہمیشہ وطن سے محبت پر مبنی جذبوں کو پروان چڑھایا اور ہر موقعہ پر نظریہئ پاکستان کی پاسدار ی کا حق ادا کیا۔

1974ء کی تحریک تحفظِ ختم نبوت میں انجمن نے نمایاں حصہ لیا اور تحریک کو جلا بخشی۔ اس سلسلے میں جب21 اگست 1974 ء کو لاہور ہائی کورٹ نے کارکنانِ انجمن کی رہائی کی ضمانت پر یہ حکم صادر کیا کہ کارکنانِ انجمن رہائی کے بعد ختم نبوت پر تقریریں نہیں کریں گے تو انجمن کے رہنماؤں نے بھری عدالت میں کہا ”ختم نبوت پر اظہار کرنا ہمار ا بنیادی حق اور ایمانی تقاضہ ہے اور دنیاکی کوئی طاقت ہمیں ہمارے اس حق سے محروم نہیں کرسکتی“۔ اس تحریک میں انجمن کے متعدد کارکنوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دئیے جانے کا سرکاری اعلان جیل میں رہ کر سنا۔ ختم نبوت پرانجمن نے چار کتابچے بھی شائع کرکے پورے ملک میں تقسیم کیے۔ جبکہ اس سلسلے میں شائع کردہ خصوصی پوسٹر ”ثابت ہوچکا ہے“ پورے ملک میں چسپاں کیا گیا۔

1977کے الیکشن میں حکومتی دھاندلی کے بعد چلنے والی تحریک ِ نظامِ مصطفی کے دوران، طلبہ تنظیموں کا جو اتحاد بنا، اس کی صدارت کی ذمہ داری انجمن کے اس وقت کے صدر امجد علی چشتی کو سونپی گئی۔ اس تحریک میں 16 مارچ 1977 ء کو اے ٹی آئی ملتان کے ناظم افتخار احمد نے شہادت پاکر تحریک کے پہلے شہید طالبعلم کا اعزاز حاصل کیا۔ اس تحریک میں متعدد سیاسی اور دینی تنظیموں نے حصہ لیا مگر اے ٹی آئی واحد تنظیم ہے جو اس تحریک کے شہدا ء کی یاد ہر سال 16مارچ کومناتی ہے۔

جہاد افغانستان میں 15 نومبر1987ء کو خوست کے مقام پر شہید ہونے والے انجمن طلبہ اسلام قائدآباد ضلع خوشاب کے کارکن محمد یونس شہید کے جذبہئ شوق کا یہ عالم تھا کہ وہ شہادت سے قبل ہی دیواروں پر اپنا نام محمد یونس شہید لکھا کرتا تھا۔یہ علیحدہ بات ہے کہ روسی انخلاء کے بعد افغان مسلمان بین الاقوامی سازشوں اور باہمی چپقلش کے باعث افغان جہاد کے ثمرات کو سنبھال نہ سکے۔بعد ازاں عراق و افغانستان پر امریکہ و اتحادیوں کے غاصبانہ قبضے اور شہریوں کے قتل عام کے خلاف انجمن نے مختلف فورم پر آواز اٹھائی اور مقبوضہ ممالک کی آزادی کے لئے مزا حمتی تحریک چلائی۔

انجمن طلبہئ اسلام نے ہمیشہ نبی کریم ﷺ کی ناموس اور اسلامی شعائر کی حرمت پر اُٹھنے والی ہر آواز پر لبیک کہا۔ جنوری1 197ء میں ڈاکٹر پنہاس، 1989ء کے اوائل میں ملعو ن سلمان رشدی، 2006ء و2008ء میں یورپی اخبارات میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور 2010میں فیس بک کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے خلاف اور بعد ازاں غازی ممتاز حسین قادری شہید کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرکے اپنا احتجاج رقم کرایا۔ انجمن نے قانونِ توہین رسالت کو ختم کرنے کی سازشوں کے خلاف متعدد مواقع پر اپنے جذبوں کا اظہار کیا۔ یہ حضور نبی کریم کی محبت ہی تو تھی کہ جب عاشقان ِ رسول 11اپریل 2006 ء کو کراچی میں یوم میلاد النبی پر نشتر پارک میں جمع ہوکر نبی کریم سے اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے تھے کہ دہشت گردی کا المناک سانحہ ہوا۔ شہداءِ عید میلاد میں انجمن کے مرکزی سیکریٹری جنرل پیر محمد پیرل،سابق مرکزی سیکریڑی جنرل حافظ محمد تقی اور انجمن کے رفیق ذاکر حسین بھی شامل تھے۔

کشمیر کی آزادی کے سلسلے میں انجمن اقوامِ متحدہ کی پاس کردہ قراردادوں پر عمل درآمد کیلئے کوشاں ہے جبکہ بائیں بازو جو بظاہردنیا بھر کی مزاحمتی تحریکوں کا حامی ہے، کشمیر کی مزاحمتی تحریک پر مہر بہ لب ہے۔ 8 اکتوبر 2005ء کی وہ صبح کیسے بھلائی جاسکتی ہے جب کشمیر کے عوام زلزلے کا شکار ہوئے۔ اس موقع پر اس تنظیم کے کارکنان نے اپنا گھر بار چھوڑ کر امدادی کا روائیوں میں حصہ لیا۔ انجمن کے متعدد رہنماؤں نے عید الفطر کے ایام زلزلہ زدگان کی داد رسی میں گزارے۔

انجمن طلبہئ اسلام انسانی حقوق کا احترام کرتی ہے اور مذہب، زبان، رنگ، جنس، نسل کی بنیاد پر ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے۔ انجمن ایسے کسی خود کُش حملے، فضائی بمباری اور تباہی سے قطعی اتفاق نہیں کرتی، جن سے معصوم و بے قصور انسانی جانوں کا ضیاع اور املاک کا نقصان ہوتا ہے۔انجمن مسلمانوں کے خلاف عالمی طاقتوں کے غیر منصفانہ اور جارحیت و دہشت گردی پر مبنی اقدامات کی مذمت کرتی ہے۔ انجمن مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی سازشوں پر احتجاج کو ایک فطری رد ِ عمل قرار دیتی ہے اور طاقت کے بجائے انصاف کو عالمی امن کا ضامن خیال کرتی ہے۔ انجمن کا خیال ہے کہ عالمی سطح پر غربت کے خاتمے، خیر سگالی اور امن کے قیام کے لیے دنیا کو اسلامی دشمنی پر مبنی فکر اور تقسیمِ دولت کے غیر منصفانہ طریقوں سے نجات پانا ہوگی۔

انجمن روشن خیالی،رواداری، کلچرڈ، سافٹ امیج اور خواتین و اقلیتوں کے حقوق کے نام پر اسلامی اقدار ونظر یہئ پاکستان کو پامال کرنے کی مذموم کوششوں کی مذمت کرتی ہے۔صوفیاء عظام کے طریقے پر سماجی انقلاب پر یقین رکھنے والی اس تنظیم نے طلبہ کو خدمتِ خلق اور محبت ِ انسانیت کا درس دیا۔ اس کے کارکنان کئی مرتبہ ”خیر الناسِ من ینفع الناس“ کی عملی تفسیر بنے۔ کارکنان ِانجمن کا یہ جذبہ کئی مرتبہ لوگوں کے جینے کا سہار ا بنا۔راولپنڈی میں اوجڑی کیمپ کا واقعہ ہو،ملک میں کہیں بھی سیلاب ہو،زلزلہ آجائے یا کوئی اور حادثہ پیش آئے،انجمن کے کارکنان نے امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا اور متاثرہ دلوں کے زخموں پر مرہم رکھا۔ انجمن نے اپنی سماجی خدمات پر اقوام متحدہ کے نمائندوں اور دیگر مبصرین سے خراج تحسین کے علاوہ 1992ء میں ”انجمن ہلال احمر“سے ”سماجی خدمات ایوارڈ“بھی وصول کیا۔

قوموں کی تشکیل میں تعلیم کی اہمیت کے پیش نظر انجمن نے پہلی مرتبہ 23مارچ تا2اپریل1971 ء،’’اسلامی نظام تعلیم مہم“منائی۔13 دسمبر1973ء کو طلبہ مسائل کے حل کے لئے طلبہ تنظیموں اور یونین کے نمائندوں کی مشترکہ طلبہ کانفرنس کراچی میں منعقد کی۔ 2تا8 فروری 1976 ء، ’’ہفتہ اسلامی نظام تعلیم“منا کر، تعلیم کی اصلاح اور فروغ کی جدوجہد کی۔نظامِ تعلیم کی بہتری کے لئے انجمن نے کئی مرتبہ اپنی سفارشات متعلقہ حکام کو پیش بھی کیں اور کئی مرتبہ درسی کتب میں مختلف اغلاط کی نشاندہی کی اور اپنی جدوجہد سے اُنھیں درست کرایا۔ مختلف طلبہ تنظیموں کے اتحاد ”متحدہ طلبہ محاذ“ کی صدارت پہلے بھی کئی مرتبہ اور حالیہ سیشن میں بھی انجمن طلبہ اسلام کے پاس ہے۔ اے ٹی آئی ایک امن پسند طلبہ تنظیم ہے، اس تنظیم کی کوششو ں سے طلبہ اور تعلیمی ادارے تعلیمی امن کی ضرورت اور طریقہ کار سے آگاہ ہوئے۔ انجمن طلبہ اسلام کے اعتدال پسندانہ نظریات او ر مثبت سرگرمیوں نے خاموش طلبہ کے دلوں میں ایک مقام پیدا کیا، جس کا اظہار مختلف طلبہ یونین الیکشنوں میں اے ٹی آئی کی واضح کامیابیوں سے ہوتا رہا ہے۔انجمن کے کارکنان و رفقاء نے مختلف تنظیموں اور اداروں کو بھرپور توانائیاں فراہم کیں اور انھیں جلاء بخشی۔ انجمن طلبہ اسلام کی تاریخ بنانے میں بے شمار ایسے گم نام افرادشامل ہیں، جنہوں نے اپنی زندگیاں اس تنظیم پر وار دیں اور اپنے خون پسینے سے انجمن طلبہ اسلام کو پروان چڑھایا۔

قیادت کے چناؤ کیلئے حالیہ سیشن کے انتخابات کراچی میں منعقد ہوئے،جس میں معظم شہزاد ساہی مرکزی صدر،راقم الحروف(محمداکرم رضوی) مرکزی سیکریڑی جنرل،سید عزیز احمد بخاری ناظم پنجاب (شمالی)بلال مصطفی باجوہ جنرل سیکریڑی پنجاب (شمالی)، مہراب دین نقشبدی ناظم بلوچستان، سعید احمد جنرل سیکریڑی،طاہر ضیاء ناظم کشمیر،فصیل الحسن فاروقی جنرل سیکریڑی کشمیر،ناظم سندھ طارق کھوسو،جنرل سیکریڑی بلال یونس گڈر،ناظم جنوبی پنجاب ملک ثاقب اعوان،جنرل سیکریڑی عبدالجلیل کھوسہ،ناظم سر حدمحمد توصیف ہزاروی،جنرل سیکریڑی محمد عثمان خان منتخب ہوئے۔

انجمن طلبہ اسلام کا یہ روشن کردار اکثر لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رہا ہے۔انجمن طلبہ اسلام اپنی تشکیل کے 52سال مکمل کرکے 53ویں سال میں داخل ہو رہی ہے۔ انجمن کی گولڈن تاریخ جن خدمات اور کاوشوں کو سمیٹے ہوئے ہیں،ان کا ذکر ان صفحات کے مختصر دامن میں نہیں سمویا جاسکتا۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1