جمیل قیصر، آپ ہمیں یاد آتے رہیں گے

جمیل قیصر، آپ ہمیں یاد آتے رہیں گے
جمیل قیصر، آپ ہمیں یاد آتے رہیں گے

  



بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب مجھے ایک بہت ہی قریبی رشتے دار کو دل کی تکلیف کے باعث پی آئی سی میں داخل کروانا پڑا،رات بھر جاگنے کی وجہ سے دن چڑھے سویا،موبائل بنداور دوپہرڈیڑھ دوبجے آن ہونے پر محترم زوہیب جمیل کا میسج تھا اور ایک ہولناک خبر بھی، جمیل قیصر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ کچھ ایسی خبر کہ کان سن ہوگئے،آنکھیں نم ہوگئیں، دل پسیج گیا اوردماغ ماضی کے اوراق پڑھنے میں مصروف ہوگیا۔ سراپا شفیق انسان اس دنیا سے رخصت ہوگئے، ایک رہنما اور ”دیانت دار“یہ خبر سن کر میری جو کیفیت ہوئی اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔مجھے خود دیانت کا مطلب پتا نہیں۔ ہوسکتا ہے پاکستان میں کچھ لوگ ہوں جنہیں دیانت کا پتا ہو، میرے خیال میں کسی کو اس کا شاید ہی علم ہو۔ میں خود دیانت دار نہیں۔ یہاں لوگ اپنے علاوہ دیانت دار تلاش کررہے ہیں۔ جمیل قیصر ایک دیانت دار شخص اور کسی سے رشوت یاکام کے عوض پیسے نہیں لیتا تھا۔ وہ میرے دیرینہ دوست اور ہمدم تھے۔ یوں تو ان سے میری پہلی ملاقات انیس سال قبل روز نامہ پاکستان میں ہوئی تھی لیکن ان کا ساتھ وقت کے ساتھ اس طرح بڑھتا گیا کہ اب دفتر ہی نہیں وہ میرے اور میں ان کے خاندان کے اہم فرد بن گئے۔جمیل قیصر ایک پروقار شخصیت کے مالک،نہایت ہی نفیس آدمی تھے۔ میں نے ہمیشہ انہیں نہایت شریف شخص اور بہت ہی باصلاحیت رہنماکے طور پر جانا ہے۔ وہ میرے ہر جاننے والے کی مدد کرکے خوش ہوتے تھے۔وہ ایک پروقار شخصیت کے مالک،عمدہ گفتگو اور ان کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی۔میں جب سے انہیں جانتا ہوں، دیگر دوستوں سے مختلف پایا ہے۔ وہ مشکل حالات کو بھی بہت ہلکے پھلکے انداز میں لیتے تھے۔جب میری شادی ہوئی تو وہ دوستوں کی ایک ٹیم کے ہمراہ گوجرانوالہ پہنچے وہ میرے بیٹے کے حقیقہ اور دیگر رشتے داروں کی خوشیوں میں مصروف ہونے کے علاوہ میرے والد اور بھتیجے کی وفات پر بھی گاؤں میں قدرت اللہ صاحب کے ساتھ تشریف لائے تھے ۔میں جب بھی ملاقات کے لیے ان کے دفتر یا گھر گیا تو وہ ہمیشہ چائے اور بسکٹ کیساتھ تواضع کا بڑا خیال رکھتے تھے۔وہ ایک عہد ساز، خودساز اور تاریخ ساز شخصیت کے مالک تھے۔انھوں نے میرے بیٹے کا نام ''نعمان'' رکھا، جس کے ساتھ ہم نے ''عبداللہ ''کا اضافہ کیا اولاد کی اچھی تربیت کے حوالے سے ایک بار میں نے ان سے پوچھا تو کہنے لگے: جو رویہ ان سے چاہتے ہو، خود ان کو کر کے دکھاؤ۔ غلط کام پر ڈانٹ کے معاملے میں کوئی لحاظ نہ رکھو اور اگر ان کی ماں ان پر غصہ ہو تو انھیں توجہ دلاؤ کہ تم نے غلط کام کیا جس کی وجہ سے وہ ناراض ہیں۔ان کا ظاہر اور باطن ہر اس شخص پر واضح ہے جو ان سے مل چکا ہے وہ ہر ایک سے اس قدر محبت سے ملتے کہ یوں محسوس ہوتا کہ ان کا پیکر محبت کے سانچے میں ڈھلا ہوا ہے۔دنیا میں ایسے لوگ بہت کم پائے جاتے ہیں جو دوسروں کے مسائل کو اپنے مسائل بنا لیتے ہوں۔ مجھے ان کے پاس بیٹھ کر اور ان کی باتیں سن کر ہمیشہ یہ احساس ہوتا کہ جیسے کہیں ایک گھنے سایہ دار درخت کے سایے میں بیٹھا ہوں۔ دفتری معاملات میں وہ سبھی کے لیے ایک جیسے اور اصولوں کا بڑا خیال رکھتے تھے۔ وہ دوستوں کے لیے ایک غیر معمولی تڑپ بھی رکھتے تھے۔مشکلات کے باوجود خود اپنے وسائل سے دوستوں کی مدد کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ وہ مجھ سے جس قدر محبت کرتے، اسی قدر اعتماد بھی کرتے تھے۔وہ بیک وقت میرے رہنما بھی تھے، بے تکلف دوست بھی تھے اور میری خیر خواہی اور خیا ل رکھنے میں باپ کی حیثیت بھی رکھتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ''دفتر'' کے تمام لوگوں کے ساتھ ان کا ایسا ہی تعلق تھا۔ وہ سب کے خیر خواہ، بے تکلف دوست، گرم جوش میزبان اور بے لوث مددگار تھے۔جمیل صاحب طبعاً بہت حساس تھے۔ اپنے خاندان سے بھی زیادہ دفتر کی ویلفیئر کا خیال اور بڑے بڑے نامور ایڈیٹروں کوبھی کارکنوں بالخصوص نامہ نگاروں کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے،اصولی موقف پر مالکان کے سامنے ڈٹ جانا بھی وہ اپنا فرض سمجھتے تھے یہ ہی وجہ ہے کہ مالکان بھی انھیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ان کی خدمات کو ہم کسی صورت فراموش نہیں کرسکتے۔ وہ ایک بہت بڑے ایڈمنسٹریٹر تو تھے ہی اس سے بڑھ کے وہ ایک بہت اچھے انسان تھے۔ وہ ایک غیر جانبدار اور اپنے کام سے مخلص انسان تھے۔ زاتی دوستوں کے ہر ایونٹ میں وہ خود شرکت کرتے اور ضرورت پڑنے پربھرپور کوریج بھی کرواتے تھے۔ ان کے ساتھ گزرے دن ایک ایک کر کے یاد آرہے ہیں وہ بہت ہی نفیس انسان اور دوسروں کا خیال رکھنے والی مہربان شخصیت ہونے کے ساتھ بڑے محنتی،خوددار اور انہوں نے اپنی خودداری پر کبھی آنچ نہیں آنے دی ۔میں نے انھیں طویل عرصہ تک بہت قریب سے دیکھا ہے۔ وہ بہت اصول پسند، محبت کرنے والے، صالح طبیعت اور بنیادی طور پر نیک انسان تھے۔ ان میں خامیاں بھی ہوں گی، کمزوریاں بھی ہو ں گی اور ان سے جانے انجانے میں زیادتیاں بھی ہوئی ہوں گی، میں اللہ سے ان کی لغزشوں اور خطاؤں کی معافی کا خواست گار ہوں اور جنت میں ان کے لیے اعلیٰ مقام کے لیے دعا گو ہوں۔ہمیں بہت افسوس ہے کہ وہ آج ہم میں نہیں ہیں اور انکی کمی ہمیشہ محسوس کرتے رہیں گے۔ ان کے چلے جانے سے پاکستان نہ صرف ایک اچھے ایڈمنسٹریٹر سے محروم ہو گیا بلکہ ہم سب ایک نہایت اچھی شخصیت سے بھی محروم ہو گئے۔ اس وقت ہم ان کے اہل خانہ اور ان کے بھائی منیر عمران سے خاص طور سے تعزیت کرتے ہیں۔ خدا انہیں صبر عطا فرمائے۔اللہ پاک مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین۔ روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی صاحب اور گروپ ایگزیکٹو ایڈیٹر قدرت اللہ چودھری بیمار ہیں اور پورا ادارہ ان کی صحت یابی کیلئے بھی دعا گو ہے۔

الٰہی کس دیس وہ صورتیں بستیاں ہیں

جنہیں دیکھنے کو اب آنکھیں ترستیاں ہیں

مزید : رائے /کالم