معاشی اور تجارتی سرگرمیوں میں میمن کمیونٹی متحرک کردار ادا کر رہی ہے: گورنر سندھ 

معاشی اور تجارتی سرگرمیوں میں میمن کمیونٹی متحرک کردار ادا کر رہی ہے: گورنر ...

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) گورنرسندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ معاشی، تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں میں میمن کمیونٹی متحرک کردار اداکررہی ہے جبکہ فلاحی کاموں میں بھی میمن کمیونٹی کو سب سے آگے پایاہے فلاحی کاموں کے لئے اللہ تعالیٰ نے میمن کمیونٹی کو بہت بڑا دل دیا ہے یہ کمیونٹی اللہ تعالیٰ کی راہ میں بڑھ چڑھ کر خرچ کرتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پہلی عالمی میمن لیڈر شپ کانفرنس میں شریک افراد کے اعزاز میں گورنرہاؤس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں رکن سندھ اسمبلی بلال غفار، سابق رکن قومی اسمبلی عبد الرشید گوڈیل، محمود مولوی، میمن لیڈر شپ فورم کے چیف ایگزیکٹیو عبد الرحیم جانو،رفیق سلیمان، ندیم پولانی، امین لاکھانی، آصف پولانی، رشید جان محمد سمیت دیگر بھی شریک تھے۔ گورنرسندھ نے مزید کہا کہ حالیہ عالمی سروے میں اسلام آبادکودنیا کا پانچواں محفوظ ترین شہر قرار دیا گیا ہے اسی طرح پاکستان کے سازگار ماحول کا بھی اعتراف کیا جا تا ہے، آج کا پاکستان پر امن اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساز گار ماحول سرمایہ کاری کے لئے انتہائی نا گزیر ہے اس وقت پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول دستیاب اور ترقی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان بالخصوص صوبہ میں آکر سرمایہ کاری کریں حکومت انھیں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔گورنرعمران اسماعیل نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی قیادت انتہائی ایماندار عمران خان کے پاس ہے جو پاکستان کی ترقی کے وژن پر گامزن ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں ان لوگوں کا مشکور ہوں جنھوں نے پاکستان پر بھروسہ کرکے اس ایونٹ کا انعقاد کیا دنیا کے 18 ممالک کے مندوبین اس عالمی کانفرنس میں شریک ہیں اس کانفرنس سے پاکستان کا عالمی سطح پر امیج اجاگر ہوگا۔ گورنرسندھ نے مندوبین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ گورنرہاؤ س ایک تاریخی عمارت ہے جہاں پر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒنے پہلے گورنرجنرل کاحلف لیا یہاں پر بابائے قوم کا کمرہ اور دیگر تاریخی نوادرات کو محفوظ رکھا ہوا ہے، وزیرا عظم پاکستان کی ہدایت پر گورنر ہاؤس کو لوگوں کے لئے کھول دیا گیا ہے اب یہاں پر لوگ آتے رہتے ہیں جبکہ صبح کے وقت اسکولوں کے بچے گائیڈڈ ٹورز بھی کرتے ہیں۔ 

مزید : صفحہ اول