جاگیردارانہ نظام ترقی وبہبود کی راہ میں رکاوٹ ہے،حسین محنتی

جاگیردارانہ نظام ترقی وبہبود کی راہ میں رکاوٹ ہے،حسین محنتی

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی سندھ کے امیر و سابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی اس سال کو استحکام تنظیم کے سال کے طور پر منائے گی۔حکومتی عدم توجہی اوربلدیاتی اداروں کی غفلت کی وجہ سے کراچی کچرا کنڈی اورصوبہ کے باقی ماندہ شہروں میں تشویشناک صورتحال ہے۔چیف الیکشن کمشنراورممبران کا جلدتقررکرکے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو بروقت اوریقینی بنایاجائے۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت بلدیاتی اداروں کو وسائل اوراختیارات کو نچلی سطح پرمنتقل کیاجائے تاکہ ترقیاتی کاموں میں تیزی اورشہروں میں صفائی ستھرائی کا کام تسلی بخش ہوسکے۔ جاگیردارانہ وسرمایہ دارانہ نظام جمہوریت اور ملک وقوم کی ترقی وفلاح وبہبود میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،نظام کی تبدیلی سے ہی ملک وقوم کی قسمت بدل سکتی ہے، بیروزگاری،مہنگائی، آٹے،گیس،بجلی بحران سمیت تمام مسائل کا حل قرآن وسنت کے نفاذ میں ہے، کراچی تا کشمور صوبہ میں آٹے کا مصنوعی بحران پیداکرکے عوام کو پریشان کیاجارہاہے جو کہ حکومتی نااہلی وخراب کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تبدیلی،عوام کو روزگار اور گھر دینے کے تمام حکومتی دعوے جھوٹے ثابت ہوئے ہیں، احتساب کو انتقام کی بھینٹ چڑھاکر کرپشن کیخلاف تحریک کو سبوتاژ کیا گیا ہے، جماعت اسلامی اقامت دین کی عالمگیر تحریک ہے جو کہ اصلاح معاشرہ اور اسلامی وکرپشن فری پاکستان کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قباء آڈیٹوریم میں جماعت اسلامی سندھ کی سالانہ مجلس شوریٰ سے خطاب کے دوران کیا۔ اجلاس میں گذشتہ سال کی کارکردگی رپورٹ اور ائندہ سال کا منصوبہ عمل منظور کیا گیا،صوبائی قیم کاشف سعید شیخ،نائب امراء،نائب قیمین اور شعبہ جات کے ناظمین وذمہ داران بھی موجود تھے۔ اجلاس میں سیاسی، معاشی،امن وامان، آٹے بحران،بلدیاتی انتخابات سمیت تعلیمی صورتحال پر متعدد قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔ محمد حسین محنتی نے مزید کہا کہ صوبہ سندھ میں طویل عرصہ سے پیپلزپارٹی کی حکومت ہے مگر تیل،گیس،کوئلہ سمیت قدرتی وسائل سے مالامال صوبہ کے عوام غربت وافلاس کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ آٹے بحران اور امن وامان کی خراب صورتحال نے حکومتی نااہلی کو عیاں کردیا ہے۔

مزید : صفحہ اول