"مہاتما گاندھی پاکستان کی آزادی کے بعد 15اگست 1947بھارت کے بجائے پاکستان میں گزارنا چاہتے تھے" بھارت کے سابق وزیر نے حیران کن بات کہہ دی

"مہاتما گاندھی پاکستان کی آزادی کے بعد 15اگست 1947بھارت کے بجائے پاکستان میں ...

  



نئی دہلی(ویب ڈیسک) بھارت کے سابق وزیرمملکت برائے خارجہ امور ایم جے اکبر نے انکشاف کیا ہے کہ گاندھی 15اگست 1947پاکستان میں گزارنا چاہتے تھے۔بھارت کے سابق وزیرمملکت برائے خارجہ امور ایم جے اکبر کی ایک نئی کتاب میں انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ مہاتما گاندھی پاکستان کی آزادی کے ٹھیک ایک روز بعد 15اگست 1947بھارت کے بجائے پاکستان میں گزارنا چاہتے تھے۔

” گاندھی کا ہندوازم: جناح کے اسلام کے خلاف جدوجہد “ نامی کتاب میں ایم جے اکبر نے لکھا ہے کہ یہ ایک مقابلے کا وعدہ تھا، گاندھی بھارت کی تقسیم اور نئی سرحدوں کے قیام پر یقین نہیں رکھتے تھے۔گاندھی کا خیال تھا کہ عقیدہ ہندوستان کی تہذیبی ہم آہنگی کی حفاظت کرسکتا ہے، کیوں کہ یہ ایک ایسی زمین ہے جہاں ہر مذہب پروان چڑھا ہے۔ آزادی کے بعد گاندھی کی فوری تشویش تقسیم کے بنیادی متاثرین تھے جو کہ اقلیتیں تھیں، پاکستان میں ہندو اور بھارت میں مسلمان۔

گاندھی مشرقی پاکستان کے شہر نوکالی میں رہنا چاہتے تھے۔ کتاب میں گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ انکا کہنا تھا کہ مجھے اس تقسیم پر یقین نہیں رکھتا، میں کسی سے اجازت لینے نہیں جا رہا۔اگر انہوں نے مجھے قتل کیا تو میں مسکراتے ہوئے چہرے سے موت کو قبول کروں گا۔ یعنی، اگر پاکستان معرض وجود میں آتا ہے تو میں وہاں جاکر، اس کا دورہ کرنے، وہاں رہنے اور دیکھنا چاہوں گا کہ وہ میرے ساتھ کیا کرتے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی