عمارتوں میں ہیٹرز کی وجہ سے 100 سال کے دوران انسانی جسم کے اوسط درجہ حرارت میں کیا تبدیلی آئی ہے، انتہائی حیران کن انکشاف سامنے آگیا

عمارتوں میں ہیٹرز کی وجہ سے 100 سال کے دوران انسانی جسم کے اوسط درجہ حرارت میں ...
عمارتوں میں ہیٹرز کی وجہ سے 100 سال کے دوران انسانی جسم کے اوسط درجہ حرارت میں کیا تبدیلی آئی ہے، انتہائی حیران کن انکشاف سامنے آگیا

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا کا درجہ حرارت بڑھنے کے متعلق ہم سنتے آ رہے ہیں لیکن اب انسانی جسم کے درجہ حرارت کے متعلق سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں ایک اور انکشاف کر ڈالا ہے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بتدریج انسانوں کے جسم کا درجہ حرارت کم ہوتا جا رہا ہے اور اس کی وجہ عمارتوں میں سنٹرل ہیٹنگ (Central heating)سسٹم ہے جو آج پوری دنیا میں استعمال ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سٹینفرڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ڈیڑھ سو سال پہلے انسانی جسم کا اوسط درجہ حرارت 37ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا تھا جو اب مردوں میں 0.59فیصد اور خواتین میں 0.32فیصد کم ہو چکا ہے۔ برف کے دور میں انسانوں کے جسم کا درجہ حرارت 37ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی کہیں زیادہ ہوتا تھا۔ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر جولی پرسونیٹ کا کہنا تھا کہ ”ہمارے جسم کا درجہ حرارت کم ہوجانے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ آج ہم نفسیاتی طور پر ڈیڑھ سو سال قبل کے انسانوں سے یکسر مختلف ہو چکے ہیں۔ “

ڈاکٹر جولی کا کہنا تھا کہ ”اس کے علاوہ دنیا کا موسم بھی کافی تبدیل ہو چکا ہے اور ہمارے گھروں کا درجہ حرارت بھی وہ نہیں رہا۔ ہم اب اپنے گھروں کو 24گھنٹے ہیٹر سے گرم رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ جراثیموں سے ہمارا سامنا کم ہو چکا ہے اور ہماری خوراک بھی ان لوگوں سے بہت مختلف ہو چکی ہے۔ چنانچہ ہمارے خیال میں یہی وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے بتدریج ہمارے جسم کا درجہ حرارت کم ہوتا جا رہا ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس