’کشمیری کام نہیں کرتے بس گندی فلمیں دیکھتے ہیں‘ بھارتی سیاستدان کا شرمناک بیان

’کشمیری کام نہیں کرتے بس گندی فلمیں دیکھتے ہیں‘ بھارتی سیاستدان کا شرمناک ...
’کشمیری کام نہیں کرتے بس گندی فلمیں دیکھتے ہیں‘ بھارتی سیاستدان کا شرمناک بیان

  



نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) مودی سرکاری نے جب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرکے اسے غیرآئینی طریقے سے بھارتی ریاست قرار دیا ہے، تب سے وادی میں انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔ اب ایک بھارتی تھنک ٹینک کے رکن نے مودی سرکار کے اس عمل کی حمایت کرتے ہوئے ایسی شرمناک بات کہہ دی ہے کہ ہنگامہ برپا ہو گیا۔ ہندوستان ٹائمز کے مطابق وی کے سرسوت نامی یہ شخص ’نیتی آیوگ‘ نامی تھنک ٹینک کا رکن ہے جو 2015ءمیں قائم کیا گیا اور اس تھنک ٹینک کے چیئر پرسن خود وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔

وی کے سرسوت نے کہا ہے کہ ”مقبوضہ جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش درست فیصلہ ہے۔ اس سے ریاست کی معیشت پر کوئی منفی اثرات نہیں پڑے، کیونکہ انٹرنیٹ پر صرف گندی فلمیں ہی دیکھتے ہیں، کوئی کام تو کرتے نہیں۔“ میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک سوال کے جواب میں سرسوت کا کہنا تھا کہ ”سیاست دان کشمیر کیوں جانا چاہتے ہیں؟ یہ لوگ دہلی کی سڑکوں پر ہونے والے احتجاجی مظاہرے کشمیر میں بھی کروانا چاہتے ہیں۔ یہ سیاستدان سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو احتجاج پر اکساتے ہیں۔ کشمیر میں انٹرنیٹ نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ آپ انٹرنیٹ پر کیا دیکھتے ہو؟ لوگ انٹرنیٹ پر گندی فلمیں دیکھنے کے سوا کچھ نہیں کرتے۔“

مزید : بین الاقوامی