وہی ہوا جس کا ڈر تھا، انڈین مسلمانوں کی شہریت منسوخی کا بل منظور کرنے کے بعد ہندو مذہب اختیار کرنے کے پوسٹرز لگادیے گئے

وہی ہوا جس کا ڈر تھا، انڈین مسلمانوں کی شہریت منسوخی کا بل منظور کرنے کے بعد ...
وہی ہوا جس کا ڈر تھا، انڈین مسلمانوں کی شہریت منسوخی کا بل منظور کرنے کے بعد ہندو مذہب اختیار کرنے کے پوسٹرز لگادیے گئے

  



وارانسی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت میں متنازعہ شہریت بل ’سی اے اے‘ کی منظوری کے بعد اب مسلمانوں کو گھر واپسی یعنی ہندو مذہب اختیار کرنے کے مشورے دیے جانے لگے ہیں۔

بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر وارانسی میں ’ہندو سماج پارٹی‘ کے نائب صدر روشن پانڈے کی جانب سے شہر میں مسلمانوں کی گھر واپسی کے پوسٹرز لگائے گئے ہیں۔ ان پوسٹرز کے ذریعے مسلمانوں کو مشورہ دیا گیاہے کہ اگر وہ ہندو مذہب اختیار کرلیں تو ان کی شہریت کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔

شہر میں پوسٹرز لگوانے والے روشن پانڈے کا کہنا ہے کہ انہوں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ پوسٹرز لگوائے ہیں ، انہیں مسلمانوں کے وجود پر کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ وہ انہیں ہندو اور اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔

روشن پانڈے کے شاہین باغ کے علاقے میں لگوائے گئے پوسٹر پر 3 مسلمان خواتین کو دکھایا گیا ہے جن میں سے ایک نے نقاب کر رکھا ہے جبکہ باقی 2 کے چہرے نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے ان تینوں خواتین کے سروں پر ہندو مذہب کی علامت سمجھی جانے والی پگڑیاں رکھی ہیں اور لکھا ہے کہ ’ ہم بھی دیکھ رہے ہیں ۔‘

مزید : بین الاقوامی