”ہم اپنی کارکردگی وزیراعظم کو دکھائیں؟“ کامران اکمل پھٹ پڑے، تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا

”ہم اپنی کارکردگی وزیراعظم کو دکھائیں؟“ کامران اکمل پھٹ پڑے، تہلکہ خیز ...
”ہم اپنی کارکردگی وزیراعظم کو دکھائیں؟“ کامران اکمل پھٹ پڑے، تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیف سلیکٹر و ہیڈ کوچ مصباح الحق کی جانب سے بنگلہ دیش کیخلاف ٹی 20 سیریز کیلئے سکواڈ کا اعلان کئے جانے کے بعد وکٹ کیپر بلے باز کامران اکمل نے سلیکشن پراسیس پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرٹ پر پورا نہ اترنے والے کھلاڑیوں کو زبردستی ٹیم میں شامل کیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کامران اکمل نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”میں دلبرداشتہ نہیں ہوں لیکن کوئی حد ہوتی ہے۔ پانچ ہو گئے ہیں اورآپ نیا سسٹم لا کر یہ کرکٹ کی بہتری کا دعویٰ بھی کر رہے ہیں۔ آپ نے دعویٰ کیا کہ نئے سسٹم سے بہترین ٹیلنٹ آگے آئے گا اور کارکردگی دکھانے والے خودبخود منتخب ہوں گے۔ کیا ہمیں ٹیم میں جگہ بنانے کیلئے بھارتی یا آسٹریلین سسٹم میں کارکردگی دکھانا ہو گی؟ ہم پانچ سال سے کارکردگی دکھا رہے ہیں اور رسوا ہو رہے ہیں۔ ہمیں اپنی کارکردگی کس کو دکھانی چاہئے؟ وزیراعظم کو دکھائیں؟ تمام فارمیٹس میں میری کارکردگی کون دیکھے گا؟“

کامران اکمل نے دعویٰ کیا کہ ایسے کھلاڑیوں کو بھی زبردستی قومی سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے جو میرٹ پر پورا نہیں اترتے اور پاکستان کی نمائندگی کرنے کے حق دار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا ”ٹی 20 ٹیم میں جگہ ہے لیکن آپ زبردستی کسی اور کو شامل کر رہے ہیں۔ یہ پاکستان کی ٹیم ہے اس لئے پاکستان کو سب سے پہلے رکھیں۔ جو کھلاڑی کارکردگی دکھا رہے ہیں، انہیں منتخب کرنا چاہئے۔ مجھ سمیت بہت سے کھلاڑی ہیں جو حق دار ہیں، جیسا کہ فواد عالم، اور میرے خیال سے ان کا صبر بھی جواب دے چکا ہے۔ کیا میں کارکردگی کے بغیر بات کر رہا ہوں؟ ٹی 20 ورلڈکپ قریب آ رہا ہے، میں نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں بھی کارکردگی دکھائی ہے اور ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی تمام فارمیٹس میں پرفارم کیا ہے اور میں ٹاپ پرفارمر ہوں، مصباح الحق کو یہ سب باتیں مدنظرر کھنی چاہئیں، اس سے پہلے مکی آرتھر نے پاکستان کرکٹ کیساتھ جو کچھ کیا ہے اور پسند ناپسند کی بنیاد پر ٹیم چلائی، سب جانتے ہیں اس کے کیا نتائج نکل رہے۔ مصباح جانتے ہیں کہ خود انہوں نے بہت محنت کی اور پھر وہ اپنی خواہشات کے حصول میں کامیاب ہوئے، میرے خیال سے مجھے بھی وہ سب ملنا چاہئے جس کا میں حقدار ہوں۔“

کامران اکمل نے اس موقع پر یہ سوال کیا کہ قومی سکواڈ میں منتخب کئے جانے والے کھلاڑیوں میں آخر ایسی کیا خوبی ہے جو ان میں نہیں؟ ان کا کہنا تھا ”ہم فٹنس اور نوجوان کھلاڑیوں پر توجہ دے کر ٹیم کو آٹھویں نمبر پر پہنچا چکے ہیں ۔ ہم کارکردگی اور صلاحیت پر اب کوئی توجہ نہیں دیتے، اور ڈومیسٹک کرکٹ کو تو خاطر میں ہی نہیں لایا جاتا۔ جب سے پی ایس ایل کا آغاز ہوا ہے، ایک یا دو اننگز کی کارکردگی پر بھی لڑکوں کو قومی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، اور بڑی اننگز کو دیکھا ہی نہیں گیا، جیسا کہ آصف علی، حسین طلعت اور احسان علی، ان کی کارکردگی کیا ہے؟ احسان علی نے ایک بھی ڈویژن میچ نہیں کھیلالیکن اسے ٹیم میں شامل کر لیا گیا، سلیکشن کیلئے آخر کیا معیار طے کیا گیا ہے؟“

مزید : کھیل