مودی بے نقاب

مودی بے نقاب
مودی بے نقاب

  

بھارتی ٹی وی کے میزبان اور ری پبلک میڈیا نیٹ ورک کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی کی اپنے ساتھی صحافی اور براڈکاسٹ آڈیئنس ریسرچ کونسل  کے سابق سی ای او پارتھو داس کے ساتھ واٹس ایپ چیٹ لیک ہوئی ہے۔ واٹس ایپ چیٹ کے مطابق پلوامہ میں بھارت نے اپنے فوجی خود مروائے اور الزام پاکستان پر لگا دیا۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 40 بھارتی فوجیوں کی لاشوں کو سیاست کے لئے استعمال کیا۔واٹس ایپ چیٹ کے مطابق بھارت میں قومی سلامتی کے ادارے اور فیصلہ سازی میں انتہائی غیرسنجیدگی بے نقاب ہو گئی ہے۔ گوسوامی کو بھارت میں اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والے فیصلوں کا علم تھا۔ارنب گوسوامی نہ صرف بالاکوٹ پر حملے،بلکہ آرٹیکل 370 کے خاتمے سے بھی آگاہ تھا۔بھارتی اینکر بی اے آرسی کے سربراہ کے ساتھ مل کر اپنے چینل کی ریٹنگ بڑھانے پر بھی کام کرتا رہا۔23 فروری 2019ء کو ارنب نے بی اے آر سی سربراہ کو پاکستان سے متعلق بڑی خبر کی پیشگی اطلاع دی۔ارنب گوسوامی کو ممبئی پولیس نے 4 نومبر 2020ء کو ایک خاتون اور اس کے بیٹے کی خودکشی کے پس منظر میں گرفتار کیا تھا۔

اس انکشاف نے مودی سرکار کے چہرے سے سیکولرزام کی قلعی کھول دی ہے اور دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ مودی پاکستان کو بدنام کرنے اور سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لئے اس حد تک گر سکتا ہے کہ اپنے ہی فوجیوں کو مروا کر الزام پاکستان پر ڈالنے کی منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔یہی وقت ہے کہ پاکستان کو بھارتی سازش کا جو بھانڈا پھوٹا ہے اسے کیش کرانا چاہئے،کیونکہ بھارت نے حال ہی میں اقوام متحدہ کی کاؤنٹر ٹیررازم کمیٹی کی سربراہی سنبھالی ہے اس حوالے سے پاکستان کی خارجہ ٹیم کو اقوام متحدہ میں آواز بلند کرنی چاہئے کہ ایک ملک جو خود دہشت گردی میں ملوث ہے، جس نے اپنے ہی فوجیوں کو مروا دیا کہ پاکستان کو دہشت گرد ملک ثابت کیا جائے اسے اقوام متحدہ کی ایک ایسی کمیٹی کی سربراہی سونپنا کسی صورت بھی دنیا اور خصوصاً خطے کے مفاد میں نہیں ہے۔بھارت کا مکروہ چہرہ ہی ہے جو بار بار بے نقاب ہوتا رہتا ہے کبھی ان کے دہشت گرد بلوچستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث پائے جاتے ہیں تو کبھی کراچی میں چینی انجینئرز پر حملے میں ملوث ہوتے ہیں۔

بھارتی فوج کے کرنل پروہت سمجھوتہ ایکسپریس کے واقعے میں ملوث تھے جس میں درجنوں جانیں لی گئیں اور اب کی بار بھارت کی انتہا پسند حکومت نے الیکشن جیتنے اور سیاسی فوائد کے لئے اپنے ہی فوجیوں کوبلی چڑھا دیا۔قارئین کو بتاتا چلوں کہ ارنب گوسوامی وہ اینکر ہے جو اپنی مسلم دشمنی کے حوالے سے معروف ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی، یعنی بی جے پی کے حامی گردانے جاتے ہیں۔ کورونا کی وبا کے آغاز میں یہ ارنب گوسوامی ہی تھے، جنہوں نے بھارت میں کورونا کو تبلیغی جماعت سے جوڑا اور مسلمانوں خصوصا تبلیغی جماعت کے اراکین کو گرفتار کرنے کے لئے اپنے ٹی وی چینل پر ایک مہم چلائی جس کی وجہ سے بھارت میں مسلمانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا گیا۔ ارنب گوسوامی کی وساطت سے یہ راز افشا ہونا پاکستان کے لئے تائید ایزدی ہے، کیونکہ بھارت آئے روز دنیا بھر میں واویلا کرتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں،پاکستان سے دہشت گرد بھارت میں حملے کرتے ہیں اور پلوامہ حملے پر بھارتی واویلا تو آج بھی پاکستانی قوم کو یاد ہے کیسے بزدل دشمن نے اپنے کئے کو پاکستان پر تھوپنے کی کوشش کی تھی اور اس کے بعد پاکستان میں نام نہاد سرجیکل سٹرائیک کی گئی اور رات کے اندھیرے میں بزدل دشمن کے جہاز خالی گراؤنڈ پر بم گرا کر بھاگ گئے اور پھر دنیا نے دیکھا کہ کیسے دن کے اجالے میں پاکستانی جانبازوں نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کے جہاز کو تباہ کیا اور اسے پاکستان کی مہمان نوازی کی تعریف کرنے پر مجبور کر دیا۔ ایئر فورس کے پائلٹ کیپٹن حسن صدیقی نے بھارتی جہاز کو مار گرایا اور دنیا کو دکھایا کہ بہادری،

شجاعت اور دلیری، جس چڑیا کا نام ہے وہ بھارتی  سورماؤں کے پاس سے بھی ہو کر نہیں گزری۔ اب تو بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگرس نے بھی سوال اٹھا دیا ہے کہ ایک عام اینکر کے پاس حکومتی راز کیسے آئے اور مودی حکومت اپنی پوزیشن واضح کرے کہ اس نے اپنے ہی فوجیوں کو سیاسی فوائد کیلئے کیوں مارا۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ مودی سرکار بھارت کو ہندواتا کے نظریے پر پروان چڑھا رہی ہے کبھی متنازع شہریت کا قانون پاس کرتی ہے تو کبھی گائے کشی کے نام پر مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے۔ مودی کو یوں ہی گجرات کا قصائی کا لقب نہیں دیا گیا تھا اس موذی مودی نے 2002ء میں ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کو گجرات میں شہید کیا اور پھر اپنے اسی کارنامے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہندو انتہا پسندوں کی حمایت سے وہ اقتدار میں آیا اور پورے بھارت کی حکومت ملنے پر بھی مودی کا وہ سازشی ذہن سب کچھ چھوڑنے کو تیار نہ ہوااور پلوامہ حملے میں اپنے فوجیوں کو مروا کر دنیا کے سامنے یہ واضح کر دیا کہ وہ بھارت کے وزیراعظم کے روپ میں ایک فاشٹ ہے جو صرف قتل و غارت گری پر یقین رکھتا ہے۔اب امریکہ، یورپ اور اقوام متحدہ کو اس بات کا نوٹس لینا چاہئے اور  اس حوالے سے اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی قائم ہونی چاہئے کیوں کہ بھارت جیسا ملک اب کاؤنٹر ٹیررازم کمیٹی کا سربراہ بھی بن چکا ہے ایسے میں مودی حکومت کا یہ چہرہ سامنے آنے سے اس کمیٹی کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان پیدا ہوں گے۔مودی حکومت کے اس گھناؤنے کردار کو دنیا کے سامنے لانے اور خصوصا اقوام متحدہ میں اجاگر کرنے کے لئے پاکستان کو متحرک ہونا ہو گا۔ 

مزید :

رائے -کالم -