ملتان کی محرومیاں، وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے لئے ٹیسٹ کیس

ملتان کی محرومیاں، وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے لئے ٹیسٹ کیس
ملتان کی محرومیاں، وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے لئے ٹیسٹ کیس

  

چوک عزیز ہوٹل جو ملتان کا ایک انتہائی مصروف اور با رونق علاقہ ہے، وہاں ایک دن پہلے اکبر روڈ کے ایک تاجر عادل عباس کو نا معلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا اور اب وہ نشتر ہسپتال میں زندگی و موت کی کشمکش سے گزر رہا ہے۔ ملتان کے ایک سینئر صحافی ناصر محمود شیخ نے جو زخمی نوجوان کے کزن بھی ہیں ایک اہم مسئلے کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے بتایا کہ جس جگہ یہ قاتلانہ حملہ ہوا، اس کے عین قریب کھمبے پر سیف سٹی پراجیکٹ کا کیمرہ لگا ہوا تھا مگر اس میں اس واقعہ کی ریکارڈنگ اس لئے نہیں ہو سکی کہ وہ کیمرہ فعال نہیں تھا۔ فعال کیوں نہیں تھا؟ اس کا کھوج لگایا تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ سیف سٹی پراجیکٹ کے لئے ایک زمانے میں شہباز شریف نے فنڈز مختص کئے تھے۔ کیمرے لگانے کا کام بھی شروع ہو گیا تھا مگر انہی دنوں قصور میں زینب کیس سامنے آیا پنجاب حکومت جس پر اس کیس کی وجہ سے دباؤ بڑھ گیا تھا، اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، عجلت میں یہ سیف سٹی پراجیکٹ قصور منتقل کر دیا سارے فنڈز اور دیگر سازو سامان ملتان سے سمیٹ کر قصور پہنچا دیا گیا۔

وہاں تو ہر جگہ کیمرے لگ گئے مگر پھر شہباز شریف کو خیال آیا اور نہ نئی قائم ہونے والی عثمان بزدار کی حکومت کو کہ یہ منظور شدہ منصوبہ دوبارہ ملتان کو دیا جائے۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ شہباز شریف حکومت نے ملتان کو دیئے ہوئے منصوبے اور فنڈز واپس لئے ایسا عموماً ہوتا تھا کہ بجٹ میں جو رقم ملتان اور جنوبی پنجاب کے لئے مختص کی جاتی، وہ بالآخر خرچ لاہور ہی پر ہوتی، خاص طور پر اورنج لائن ٹرین منصوبے نے تو پورے پنجاب کے بجٹ کو ہڑپ کرنا شروع کر رکھا تھا۔ خیر یہ تو اب قصہئ ماضی ہے مگر سوال یہ ہے کہ موجودہ پنجاب حکومت کو قائم ہوئے تین برس ہونے کو آئے ہیں۔ اس نے ملتان کے لئے اب تک کیا کیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ پنجاب کے دوسرے بڑے شہر ملتان کو سیف سٹی بنانے کے لئے دوبارہ غور ہی نہیں کیا گیا۔ ملتان میں آج بھی جرائم کی روک تھام کے لئے پولیس کے روائتی طریقے جاری ہیں، جدید ٹیکنالوجی سے جو بہتری آ سکتی ہے اس سے ملتان کے لاکھوں افراد محروم ہیں۔

پچھلے دنوں یہ خبر آئی کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے جنوبی پنجاب سکریٹریٹ کو فعال کرنے کی منظوری دے دی ہے اور ایڈیشنل چیف سکریٹری جنوبی پنجاب زاہد زمان اختر نے یہاں کے ارکانِ اسمبلی کو بریفننگ بھی دی ہے کہ یہ سکریٹریٹ کیسے کام کرے گا اور اس کے اختیارات کیا ہوں گے ایڈیشنل سکریٹریوں کی تقرری اور افسران کی تعیناتی کے حوالے سے بھی خوشخبری سنائی گئی۔ اللہ کرے یہ تجربہ کامیاب ہو، وگرنہ یہاں ایک عام تاثر تو یہی ہے کہ جنوبی پنجاب سکریٹریٹ کا شوشہ صرف توجہ ہٹانے کے لئے چھوڑا گیا ہے۔ سارے اختیارات اب بھی لاہور میں بیٹھی بیورو کریسی ہی کے پاس ہیں کسی سیانے دل جلے نے بڑی پتے کی بات بتائی ہے ان کا کہنا ہے کہ جب تک صوبے کا ایک گورنر، ایک وزیر اعلیٰ، چیف جسٹس اور ایک فنانس سکریٹری ہے،یہدعویٰ کرناکہ اختیارات جنوبی پنجاب سکریٹریٹ کو منتقل کر دیئے ہیں دھوکے سے زیادہ کچھ نہیں بات تو اس کی درست ہے۔ یہ سب آئینی عہدے ہیں اور ان میں سے ایک عہدہ بھی جنوبی پنجاب سکریٹریٹ منتقل نہیں ہو سکتا۔

عہدہ منتقل نہیں ہوگا تو اختیارات کیسے منتقل ہوں گے۔ پھر بجٹ کی منظوری تو اسمبلی دیتی ہے، اسمبلی تو ایک ہے، وہ دو بجٹ کیسے منظور کر سکتی ہے۔ ایسا چوں چوں کا مربہ نظام بھلا پہلے کس صوبے میں چلا ہے، جو پنجاب میں چلے گا۔ چیف سکریٹری اور آئی جی نے ڈی ایس پی سے ڈی آئی جی تک اور اسسٹنٹ کمشنر سے کمشنر تک کے افسروں کی تبدیلی کا اختیار اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ جو افسران جنوبی پنجاب سکریٹریٹ میں تعینات ہوں گے ان کے پاس تو چین آف کمانڈ ہی نہیں ہو گی۔ وہ کلرکوں یا پٹواریوں کے تبادلے کر سکیں گے جو پہلے بھی ڈی سی او کمشنر کرتے تھے۔ پھر نظام میں بہتری کیسے آئے گی سب سے اہم بات یہ ہے کہ سکریٹری فنانس اور اکاؤنٹنٹ جنرل کی پوسٹیں جب تک مکمل اختیارات کے تحت جنوبی پنجاب کو نہیں دی جاتیں، یہاں کے عہدے ایک شوپیس کے سوا کچھ بھی نہیں ہوں گے۔

صاف نظر آ رہا ہے کہ تحریک انصاف نے اپنے اس دعوے پر مٹی ڈال دی ہے کہ جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنایا جائے گا۔ اب تو تحریک انصاف کے ذمہ داران تو بھولے سے بھی جنوبی پنجاب صوبے کا نام نہیں لیتے۔ یہ کام اب پیپلزپارٹی زیادہ شدت سے کر رہی ہے۔ ملتان جلسے اور بہاولپور کی ریلی میں سید یوسف رضا گیلانی نے جنوبی پنجاب صوبے کے لئے آواز اٹھائی انہوں نے کہا یہ علیحدہ سکریٹریٹ کا ڈرامہ صرف صوبے کی تحریک اور مطالبے کو نقصان پہنچانے کے لئے رچایا گیا ہے۔ ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اپنا ایک گھر تو ملتان میں بنا لیا ہے اور اس میں گاہے بہ گاہے آکر قیام بھی کرتے ہیں، تاہم انہوں نے ملتان کو کبھی اپنا گھر سمجھا نہیں، وہ آج بھی اپنا سرکاری گھر لاہور اور آبائی گھر ڈیرہ غازیخان کو سمجھتے ہیں انہوں نے ڈیرہ غازیخان ڈویژن کو اربوں روپے کے منصوبے دیئے ہیں جبکہ ملتان کا حال یہ ہے کہ چند کروڑ روپے کا منصوبہ بھی ہو تو شاہ محمود قریشی اس کا کریڈٹ لینے کے لئے بنفس نفیس موجود ہوتے ہیں پچھلے دنوں نیو ملتان کے علاقے میں ایک چھوٹا سا فلائی اوور منظور کرا کے انہوں نے افتتاح کیا تو ساتھ ہی یہ فرمان بھی سنایا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے یہاں جنوبی پنجاب سکریٹریٹ بنا کر بہت بڑا کام کیا ہے۔

حالانکہ ایک زمانے میں شاہ محمود قریشی صوبہ جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے داعی تھے۔ ان کی صبح و شام یہی ورد کرتے زبان خشک ہو جاتی تھی کہ علیحدہ صوبہ ہمارا حق ہے لے کر رہیں گے۔ ملتان میں جس طرح آبادی کا دباؤ بڑھ رہا ہے اس کی وجہ سے ضروری ہو گیا ہے کہ شہر کے نواح میں اسی طرح کا منصوبہ شروع کیا جائے، جیسے لاہور میں نیا شہر بسانے کے لئے کیا گیا ہے۔ اب سنا ہے کہ اس ماہ کے آخر میں وزیر اعظم عمران خان ملتان کے دورے پر آ رہے ہیں چاہئے تو یہ کہ ان کی آمد سے فائدہ اٹھا کر ملتان میں میگا پراجیکٹس کی منظوری لی جائے، سیف سٹی کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے مگر خبریں گرم ہیں کہ نیو بس اڈا پر مسافروں کے لئے بنائی گئی پناہ گاہ کا وزیر اعظم سے افتتاح کرایا جائے گا۔ گویا ملتان کے حصے میں صرف خیراتی منصوبے ہی آئیں گے باقی سب کچھ لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور راولپنڈی کو دیا جائے گا۔

 ملتان اب بہت پھیل گیا ہے بعض علاقے تو جرائم کے حوالے سے سہراب گوٹھ بنے ہوئے ہیں، چور، لٹیرے، ڈاکو اور قاتل وارداتیں کر کے بآسانی فرار ہو جاتے ہیں آئے روز کی وارداتوں پر تاجر بھی سراپا احتجاج رہتے ہیں اس منصوبے پر اتنی زیادہ لاگت بھی نہیں آتی کہ اسے پایہ تکمیل تک نہ پہنچایا جائے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے لئے یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے وہ ثابت کریں کہ صرف لاہور کے وزیر اعلیٰ نہیں ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -