شاہراہِ قراقرم کا متبادل (1)

شاہراہِ قراقرم کا متبادل (1)
شاہراہِ قراقرم کا متبادل (1)

  

قراقرم ہائی وے (KKH) چین اور پاکستان کو زمینی راستے سے ملاتی ہے۔ اس کی کل لمبائی 1300کلومیٹر ہے جس میں 900کلومیٹر کا حصہ پاکستان میں ہے اور 400کلومیٹر کا ٹکڑا چین میں ہے۔ یہ چینی ٹکڑا کاشغر سے شروع ہوتا ہے اور درۂ خنجراب تک آتا ہے جہاں سے پاکستانی حصہ شروع ہو کر حسن ابدال تک جاتا ہے۔ اس شاہراہ کی تعمیر کا آغاز 1966ء میں ہوا تھا اور اختتام 13برس بعد 1979ء میں ہوا۔ تکمیل کے بعد بھی یہ سڑک سات برس تک عام پبلک کے لئے نہ کھولی گئی۔ وجہ راستے کی مشکلات تھیں۔ دورانِ تعمیر پاکستان کے 800اور چین کے 200انجینئر اور کاریگر مارے گئے۔1986ء میں اسے سویلین ٹریفک کے لئے کھولا گیا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اسے دنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہا گیا۔ درۂ خنجراب سال میں 5ماہ شدید برفباری کی وجہ سے بند رہتا ہے۔ اکتوبر سے فروری تک پاکستان اور چین کے مابین زمینی رابطہ کٹا رہتا ہے۔ اگر حسن ابدال سے شروع کریں تو درۂ خنجراب تک جاتے جاتے جو مشہور مقامات راستے میں آتے ہیں ان کے نام ہری پور، ایبٹ آباد، مانسہرہ، داسو، چلاس، بونجی، گلگت، سوست، نگر اور گل میت ہیں۔

مجھے اس شاہراہ پر دو بار سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ ایک بار حسن ابدال سے گلگت تک اپنی کار میں اور دوسری دفعہ گلگت سے نگر اور خنجراب تک فوجی گاڑی میں۔ میں جن ایام میں ’ناردرن لائٹ انفنٹری رجمنٹ‘ کی تاریخ لکھ رہا تھا تو گلگت بلتستان میں کئی بار ایسے مقامات پر بھی جانا پڑا۔جو مشہور تو نہیں تھے لیکن ان میں NLI رجمنٹ کے وہ جے سی اوز اور سولجرز مقیم تھے جن کے انٹرویوز اس تصنیف کے لئے مطلوب تھے۔ان ایام میں بھی میں نے کئی بار اپنے فوجی دوستوں اور مقامی لوگوں سے سوال کیا تھا کہ کیا اس خطرناک شاہراہ کی بجائے کوئی اور متبادل راستہ ایسا نہ تھا جو پاکستان اور چین کو ملا سکتا تھا؟…… مجھے بتایا گیا کہ راستے اور بھی تھے جو پرانے زمانے میں استور کو کاشغر سے ملاتے تھے۔ اس دور کے تجارتی قافلے ان راستوں کو استعمال کیا کرتے تھے لیکن پاکستان کے قیام کے بعد ان میں سیکیورٹی رسک انوالو تھے اور بھارت کی طرف سے حملے کا خطرہ تھا۔ پھر مارچ  1984ء میں جب ہندوستانی ٹروپس نے سیاچن گلیشیئر میں سایالا اور بیلا فونڈالا دروں پر قبضہ کر لیا تو یہ خدشات درست نکلے۔ شاہراہ قراقرم اگر نہ ہوتی تو انڈین ٹروپس استور۔ بونجی۔ گلگت روڈ کو کاٹ سکتے تھے۔ 

پاکستان کی مشرقی سرحد شمال میں آزادکشمیر سے شروع ہو کر سیالکوٹ، لاہور، سلیمانکی، رحیم یارخان اور سندھ سے ہوتی ہوئی کراچی تک چلی جاتی ہے۔1947-48ء،1965ء اور 1971ء کی جنگیں اسی سرحد پر ہو چکی ہیں۔ 1999ء میں کارگل وار وہ واحد وار تھی جو پاکستان نے انڈیا کی طرف سے سیاچن کی راہ پاکستان کے اس وقت کے شمالی علاقہ جات (اور آج کے گلگت۔ بلتستان) پر حملے کی پیش بندی کے لئے لڑی۔ ہماری سویلین پبلک کو جیوسٹرٹیجک معاملات کا شعور کم کم ہوتا ہے اس لئے کارگل کی جنگ کو ہمارے سیاستدانوں نے جنرل مشرف کی بلنڈر قرار دیا۔ لیکن اس کے برعکس 15سال پہلے انڈیا نے جب 1984ء میں سیاچن گلیشیئر کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا تو انڈیا کے عوام نے اس پر خوشی کے شادیانے بجائے تھے، ویسے بھی ہم پاکستانی  انڈیا اور پاکستان کو برابر کے دو حریف ممالک سمجھتے ہیں۔ یہ نہیں جانتے کہ انڈیا ہر لحاظ سے پاکستان کے مقابلے میں ایک بڑا ملک ہے۔ اگر پاکستان نے آج تک اپنے سے 5گنا بڑے حریف کو روک رکھا ہے تو جس قوت نے روک رکھا ہے ہم اس کی قدر و قیمت اور اہمیت کا احساس نہیں کرتے اور یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے کہ پاکستان کی عوامی قوت نے بھارت کو روک رکھا ہے۔

ہرچند کہ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ ہر ملک کی فوج اس کے عوام کی نمائندہ ہوتی ہے اور عوام ہی کے بجٹ سے تشکیل پاتی ہے لیکن جنگ مرنے اور مارنے کا کھیل ہے۔ کوئی بھی امیر کبیر آدمی اس غریب و نادار آدمی کے سامنے بے بس ہو گا جس کے ہاتھ میں فائرنگ ویپن ہے۔ یہی فائرنگ ویپن ہے جس کو فوج کا نام دیا جاتا ہے ہر چند کہ امیر کبیر آدمی ہی اس ویپن کی خریداری اور ٹریننگ کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ عوام اور فوج دونوں مل کر اپنے دشمن کو روکتے ہیں۔ فوج کے پروفیشنل تقاضوں، اس کے اسلحہ جات کی خریداری اور پھر اس کی ٹریننگ کی موشگافیوں کو عوام کچھ زیادہ نہیں جانتے۔ جس ملک کے عوام زیادہ لکھے پڑھے اور باشعور ہوں گے وہ اس فرق کو بخوبی جانتے ہوں گے اور جو اس شعور سے عاری ہوتے ہیں وہ یہی کہتے ہیں کہ فوج چونکہ عوام کے ’ٹکڑوں پر‘ پلتی ہے اس لئے ہمیں اس پر ’سواری کرنے‘ اور حکمرانی جتانے کا ہر طرح کا استحقاق حاصل ہے۔

آج کل سینیٹ کا اجلاس جاری ہے۔ اس میں اگلے روز ایک سینیٹر (پرویز رشید) نے تقریر کرتے ہوئے گلگت۔ بلتستان کے حالیہ انتخابات پر جو تبصرہ کیا وہ ان کے سٹرٹیجک امور کے ادراک کے فقدان کا غماز تھا۔موصوف فرما رہے تھے کہ گلگت۔ بلتستان میں جو صوبائی حکومت تشکیل دی گئی ہے وہ الیکٹڈ نہیں سلیکٹڈ ہے!…… اس کی تشریح کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ انتخابات میں جتنے آزاد امیدوار تھے ان کو ورغلا کر پی ٹی آئی کی حکومت میں شامل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ آزاد امیدواروں کی ’آزادی‘ پر ڈاکہ زنی تھی۔ ان کو  ڈرا دھمکا کر یا رشوت دے کر یا کوئی اور طرح کا لالچ دے کر تحریک انصاف کا ساتھ دینے پر مجبور کیا گیا…… کیا موصوف کو معلوم نہ تھا کہ ان انتخابات سے کئی روز پہلے بی بی مریم صفدر اور بلاول بھٹو گلگت بلتستان میں جا کر جگہ جگہ جلسے کرتے اور تحریک انصاف کے خلاف صبح و شام و شب ’قصیدے‘ پڑھتے نہیں تھکتے تھے۔ ان دونوں کی تقاریر کا ریکارڈ نکال کر دیکھیں اور سنیں کہ انہوں نے کس کس طرح ایڑی چوٹی کا زور لگایا، اپنی پارٹی کے ماضی کے کیا کیا کارنامے یاد دلائے، آپے سے باہر ہوہو گئے، ضرورت سے زیادہ گلے پھاڑے اور شعلہ نوائی کے دوران آنکھیں نکال نکال کر اپنا بُرا حال کر لیا لیکن پھر بھی عوامی ووٹ ان کے نصیب میں نہیں لکھا تھا…… سب شکست کھا گئے اور جیتے وہ لوگ جو آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدانِ انتخابات میں اترے تھے…… ان آزاد امیدوار کو بتایا گیا کہ ان کا صوبہ انڈین یلغار کی زد میں ہے۔

جس طرح پنجاب اور سندھ کا مشرقی بارڈر انڈین یلغار سے معرضِ خطر (Vulnerable) میں ہے اس طرح گلگت بلتستان بھی شمال سے بھارتی حملے کی زد میں ہے اور یہ دونوں پارٹیاں (مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی) ماضی میں جس طرح بھارت نوازی کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں، اسی طرح کا چلن اگر یہاں GB میں بھی اپنایا گیا تو یہاں کے عوام کو کن خطرات کا سامنا ہوگا تو GBکے آزاد امیدواروں نے اس پارٹی کے حق میں فیصلہ کیا جس کے دامن پر بھارت نوازی اور دشمن کی ’مہمان نوازی“ کا کوئی داغ نہ تھا۔ ہم پاکستانیوں کو اپنے GB کے بھائیوں اور بہنوں کی سٹرٹیجک فکر کی داد دینی چاہیے کہ انہوں نے بھارتی حملے کا احساس کیا اور چین کی ہمسائگی کی وجہ سے اس خطے کی غربت کے تعجیلی (Rapid) منصوبوں کی تکمیل کا احساس کیا۔ اس تناظر میں پرویز رشید کا یہ واویلا کہ GB الیکشنوں میں آزاد امیدواروں کو خریدا گیا یا ڈرا دھمکا کر ان کی عزتِ نفس مجروح کی گئی، صدالبصحرا کے علاوہ کچھ نہ تھا۔

ہم نے قراقرم ہائی وے سے بات شروع کی تھی اور اثنائے تحریر یہ سوال بھی کیا تھا کہ آیا اس شاہراہ کے علاوہ اور بھی کوئی ایسا ممکن زمینی راستہ تھا جو چین اور پاکستان کے ’باہمی ملاپ‘ کا سبب بن سکتا تھا؟…… قارئین کو معلوم ہوگا کہ چین کے ساتھ پاکستان کے دفاعی ساز و سامان کی تجارت دو راستوں کے ذریعے ممکن ہے۔ ایک بحری راستہ ہے جو ساؤتھ چائنا سی (South China Sea)سے ہوتا ہوا آبنائے ملاکا سے گزرتا اور پھر پورے بحرہند کو عبور کرکے کراچی کی بندرگاہ تک آتا ہے۔ (اور اب گوادر تک بھی آتا ہے) کراچی یا گوادر سے یہ دفاعی ساز وسامان (طیارے، ٹینک، توپیں، بکتر بند گاڑیاں، میزائل وغیرہ) سڑک کے ذریعے پاکستان کی ان چھاؤنیوں میں بھیجا جاتا ہے جو پاکستان کا دفاع کرنے والوں کو اپنی گود میں پالتی ہیں …… دوسرا راستہ وہی ہے جو KKH کہلاتا ہے۔

.

لیکن یہ راستہ موسم سرما میں بند ہو جاتا ہے۔ اگر کل کلاں انڈوپاک جنگ چھڑ جائے اور سردیوں کا موسم ہو تو جنگی ضائعات (Losses) پوری کرنے کے لئے صرف بحری راستے پر انحصار کرنا پڑے گا۔ انڈیا اس بحری راستے کو آبنائے ملاکا پر بلاک کر سکتا ہے۔(اس کی تفصیل ہم آگے چل کر آپ کے سامنے رکھیں گے) ایسی صورتِ حال میں پاکستان کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ وہ مشرق کی بجائے مغرب کی طرف دیکھے یا دوسرے لفظوں میں مغربی ممالک کا محتاج بنے اور ان کے سامنے دستِ سوال دراز کرے۔ یہ مغربی ممالک (برطانیہ، فرانس، جرمنی اور دوسرے) اپنے آقا و مولا (امریکہ) کی طرف دیکھتے ہیں۔ اگر وہ دائیں بائیں سر ہلا دے تو پاکستان صرف اقوام متحدہ سے جنگ بندی کی درخواست ہی کر سکے گا اور بس!……

پاکستان کی یہی وہ محدودیت یا مجبوری ہے جو شاہراہ قراقرم کے علاوہ کسی دوسرے پاک۔ چین زمینی روٹ کی تعمیر کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ تقاضا پہلے بھی موجود تھا لیکن 1966ء میں جب KKH کی تعمیر شروع کی گئی تھی تو اس وقت  جنوبی ایشیا کی جیوسٹرٹیجک صورتِ حال ایسی نہ تھی کہ کسی دوسرے روٹ کی طرف لے جاتی…… لیکن اب یہ صورتِ حال تبدیل ہو چکی ہے اور پاکستان چین سے ایک نیا زمینی روٹ تعمیر کرنے کی پوزیشن میں آ چکا ہے۔اس روٹ کے خدوخال ایک عرصے سے زیرِ بحث تھے لیکن اب اس امکان کو مجسم شکل میں ڈھالنے کی طرف پیشرفت کا آغاز ہونے والا ہے…… اس کے کنٹووز (Contours)انشاء اللہ اگلی قسط میں …… (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -