کورونا وائرس کھانسی سے زیادہ گپیں لگانے سے پھیلتا ہے، تازہ تحقیق میں حیران کن انکشاف

کورونا وائرس کھانسی سے زیادہ گپیں لگانے سے پھیلتا ہے، تازہ تحقیق میں حیران ...
کورونا وائرس کھانسی سے زیادہ گپیں لگانے سے پھیلتا ہے، تازہ تحقیق میں حیران کن انکشاف

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس متاثرہ افراد کے کھانسنے اور چھینکنے سے پھیلتا ہے مگر نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے یہ حیران کن انکشاف کر ڈالا ہے کہ کورونا وائرس متاثرہ افراد کے کھانسنے یا چھینکنے سے بھی زیادہ ان کے گپیں لگانے سے پھیلتا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق یونیورسٹی آف کیمبرج اور امپیرئیل کالج لندن کے سائنسدانوں نے اپنی اس مشترکہ تحقیق میں بتایا ہے کہ وائرس سے متاثرہ افراد اگر فیس ماسک کے بغیر صرف 30سیکنڈ تک گفتگو کرے تو اس سے دوسروں کو وائرس منتقل ہونے کا خطرہ اس کے کھانسنے اور چھینکنے کی نسبت کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر پیڈرو ڈی اولیویرا کا کہنا تھا کہ ”کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کے حوالے سے لوگ متاثرہ افراد کے کھانسنے کے نقصانات سے بخوبی آگاہ ہیں، چنانچہ وباءکے ان دنوں میں لوگ کھانستے ہوئے احتیاطاً اپنے منہ کو ٹشو یا اپنے بازو سے ڈھانپ لیتے ہیں لیکن بات کرتے ہوئے لوگ ایسا نہیں کرتے جس کی وجہ سے وائرس باتیں کرنے کی وجہ سے زیادہ پھیلتا ہے۔ لہٰذا لوگوں کو کورونا وائرس کا پھیلاﺅ روکنے کے لیے باتیں کرتے وقت بھی احتیاط برتنی چاہیے اور فیس ماسک اتارے بغیر اور مناسب فاصلہ رکھ کر دوسروں سے بات کرنی چاہیے۔“

مزید :

کورونا وائرس -