راجن پور، یونیورسٹی کیمپس کی عمارت کھنڈر میں تبدیل

راجن پور، یونیورسٹی کیمپس کی عمارت کھنڈر میں تبدیل

  

  راجن پور (تحصیل رپورٹر، نامہ نگار)ضلع راجن پور تعلیم کی بنیادی سہولیات سے محروم یونیورسٹی کے قیام میں تاخیر  ہوگئی گزشتہ سال قبل کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر ھونے والے یونیورسٹی کیمپس کی عمارت کھنڈر بن گئی  ضلع بھر کے کالجز میں تدریسی سٹاف برائے نام، ضلعی ہیڈ کوارٹر راجن پور شہر میں کوئی بھی سرکاری بوائز پرائمری سکول نہ ہے غریب طلبہ بیرون شہر(بقیہ نمبر37صفحہ6پر)

 بھاری اخراجات پر  تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں جبکہ انتہائی غریب والدین کے بچے تعلیم چھوڑ کر محنت مزدوری کرنے بڑے صنعتی شہروں میں جانے پر مجبور ھیں  ضلع بھر کے تقریبا ایک لاکھ بیس ہزار بچے اسکول جانے سے محروم ہیں 1992 سے ضلع بھر میں ایک بھی نیا پرائمری سکول قائم نہ کیا گیا جبکہ ضلع راجن پور کی آبادی 21- لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے  یہاں منتخب ممبران اسمبلی کے پاس درجن بھر وزارتیں حاصل ھیں   انسانی حقوق کی وفاقی وزیر کا تعلق بھی ضلع راجن پور سے ہے لیکن اندھیر نگری چوپٹ راج بدستور قائم ہییہ انکشافات سماجی رہنما اور"آوازدوست پاکستان" کے سیکرٹری جنرل مشتاق رضوی نے اپنی ایک تعلیمی بریفنگ میں کیا کہ راجن پور پنجاب کا وہ سرفہرست ضلع ہے جہاں شرح خواندگی اور شرح پیدائش میں پنجاب بھر میں سب سے زیادہ ہے لیکن یہاں کے غریب عوام بنیادی حقوق سے محروم چلے آ رہے ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان خان بزدار راجن پور میں یونیورسٹی کے قیام کا وعدہ جلد پورا فرمائیں کیونکہ یونیورسٹی کے قیام میں تاخیر سے یہاں کے نوجوان بے چینی کا شکار ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ کوٹ مٹھن میں خواجہ فرید انجینئرنگ یونیورسٹی کیمپس قائم کیا جائے اور جام پور میں ایک میڈیکل کالج بنایا جائے تاکہ یہاں کے نوجوانوں کو ہائر ایجوکیشن کی سہولیات حاصل ہو سکی انہوں نے وزیر اعلی پنجاب اور بالخصوص صوبائی وزیر تعلیم مراد راس سے پرزور مطالبہ کیا کہ راجن پور شہر کے بند کیے جانے والے قدیمی بوائز پرائمری سکولز فوری بحال کیے جائیں جب کہ ضلع راجن پور کے مردانہ اور زنانہ کالجز میں تدریسی سٹاف کی کمی پوری کی جائے  اور ضلع بھر کے کالجز میں مستقل بنیادوں پر تدریس اسٹاف تعینات کیا جائے یہاں کالجز میں بی ایس کی زیادہ سے زیادہ  سائنس فیکلٹیز کا اجرا کیا جائے یہاں کے لوگ غریب نوجوانوں کو ٹیکنیکل اور وکیشنل ایجوکیشن کے مواقع فراہم کیا جائے تاکہ یہاں غربت میں کمی لانے کے لیے روزگار کے مواقع حاصل ہوسکیں 

تبدیل

-

مزید :

ملتان صفحہ آخر -