منی بجٹ سے کاروبار متاثر، مسائل بڑھیں گے، خواجہ محمد حسین 

منی بجٹ سے کاروبار متاثر، مسائل بڑھیں گے، خواجہ محمد حسین 

  

ملتان (نیوز رپورٹر)ایوان تجارت و صنعت ملتان کے صدر خواجہ محمد حسین نے کہا ہے کہ کاروباری سیکٹر ٹیکسوں کی ادائیگی میں ہمیشہ سرِفہرست رہا ہے۔ تاہم حالیہ منی بجٹ میں ریٹیلرز اور مینوفیکچررز سمیت تمام فروخت کنندگان پر ایک مرتبہ پھر نان رجسٹرڈ خریدار کو مال فروخت کرتے وقت شناختی کارڈ کے اندراج کی سخت شرط لاگو کر دی گئی ہے جو کہ کاروباری برادری کیلئے ہراسمنٹ کا سبب بنے گی۔ کاروباری (بقیہ نمبر32صفحہ6پر)

برادری اسکی شدید مذمت کرتی ہے اور اس شرط کو مسترد کرتی ہے۔ ماضی میں کاروباری برادری کی پر زور اپیل پر حکومت نے نان رجسٹرڈ خریدار کو مال فروخت کرنے کی صورت میں شناختی کارڈ کی تصدیق نہ ہونے پر فروخت کنندگان کی ذمہ داری کو ختم کر دیا تھا۔ جبکہ حالیہ منی بجٹ میں نان رجسٹرڈ خریدار کے شناختی کارڈ کی تصدیق نہ ہونے کی صورت میں تمام تر ذمہ داری فروخت کنندگان پر ڈال دی گئی ہے اور اس صورت میں فروخت کنندگان کو جرمانہ اور قانونی کاروائی کا بھی سامنا کرنا پڑے گا جو کہ سراسر ناانصافی کے مترادف ہے کیونکہ ایسی صورت میں کاروباری برادری پر مزید بوجھ پڑے گا لوگ ہراساں ہونگے اور کاروبار کی بندش میں اضافہ ہوگا جس کے نتیجہ میں ملکی معیشت مزید دباؤ کا شکار ہو گی۔ ماضی میں اس شرط کے اطلاق کی وجہ سے بہت سے کاروبار بند ہوئے اور ملک گیر ہڑتالیں ہوئیں اور معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ ملک کی موجودہ معاشی و کاروباری صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر اس شرط کو ختم نہ کیا گیا تو وہی صورتحال دوبارہ رونما ہو سکتی ہے جس کاہمارا ملک متحمل نہیں ہو سکتا۔صدر ایوان نے مزید کہا کہ ملک کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کی جانب سے پہلے ہی نان رجسٹرڈ خریدار کو مال فروخت کرنے کی صورت میں 20 فیصد سیلز ٹیکس کی ادائیگی ہو رہی ہے جبکہ رجسٹرڈ خریدار کی صورت میں 17 فیصد سیلزٹیکس کی ادائیگی ہوتی ہے۔ لہذا فروخت کنندگان کی جانب سے نان رجسٹرڈ خریدار کو مال فروخت کرنے کی صورت میں حکومت کو ٹیکس محاصل میں کوئی نقصان نہیں ہو رہا ہے جبکہ مینوفیکچرنگ سیکٹر سے حکومت کو 17% کے علاوہ مزید 3% سیلز ٹیکس کی ادائیگی کی جا رہی ہے جو کہ اس سیکٹر پر ایک الگ اضافی بوجھ ہے۔ ملک کی موجودہ کاروباری صورتحال، مہنگائی، توانائی کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ اور بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروباری برادری حکومت سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ منی بجٹ میں فروخت کنندگان پر ڈالی گئی بے جا ذمہ داری کو فوری طور پرختم کیاجائے۔ اس ذمہ داری کے عائد کرنے سے مصنوعات کی پیداواری لاگت اور قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ کاروباری حلقوں میں بدامنی بڑھے گی جس سے ملکی معیشت مزید شدید بحران کا شکار ہو گی۔

صدر

مزید :

ملتان صفحہ آخر -