جان بچانے والی ادویات بھی ملاوٹ سے پاک نہیں!

جان بچانے والی ادویات بھی ملاوٹ سے پاک نہیں!

  

پاکستان کے ہر شعبہ زندگی میں ملاوٹ کرنے کا دھندہ عروج پر ہے، کولڈ ڈرنکس۔ گھی۔ کوکنگ آئل چائے کی پتی،سرخ مرچ ہلدی گرم۔مصالحہ جات۔ڈیزل۔پٹرول زرعی کھادیں اور انسانوں کے استعمال میں ہونے والی ادویات میں تو دو نمبر اور ملاوٹ کا دھندہ بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ متعلقہ ادارے اس بااثرمافیا کے سامنے بے بسی کی تصویر بنے کھڑے ہیں قانون میں لچک کے باعث اس سرگرم مافیا کے کارندے پکڑے جانے کے کچھ دنوں بعد ضمانت پر باہر آ کر دوبارہ یہ ملاوٹی دھندا پھر شروع کر دیتے ہیں ملاوٹی اور جعلی ادویات استعمال کرنے سے اس وقت ہزاروں لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں باقی جو بچے ہیں وہ شوگر ٹائیفائیڈ بخار جگر کے امراض بلڈ پریشر اور معدہ کئی بیماریوں میں مبتلا ہو کر ہسپتالوں میں اپنی زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں یہ بااثر مافیا خوف خدا اور انسانیت سے عاری ہوتے ہیں کسی بھی ملٹی نیشنل کمپنی کے مشہور برانڈ انجیکشن۔سیرپ گولیوں کی ہو بہو نقل اور بہترین پیکنگ میں پیک کر کے ادویات کی ہول سیل مارکیٹ میں ملاوٹ کی ادویات سپلائی کر کے راتوں رات کروڑوں روپے کا منافع حاصل کر لیتے ہیں ان ملاوٹی اور جلی ادویات کی پیکنگ ہو بہو اصل دوائی سے اتنی مشاہبت ہوتی ہے کہ پہلی نظر میں دیکھنے سے اس پر دو نمبر دوا کا گمان ہی نہیں ہوتا لیکن اس کی افادیت بہت کم ہوگئی ملاوٹ شدہ اور دو نمبر ادویات بنانے میں لاہور اور فیصل آباد میں کام کرنے والی فیکٹریاں ملک گیر شہرت رکھتی ہیں، ملاوٹ شدہ ادویات استعمال کرنے سے مریضوں کوشفا کی بجائے ان کے مرض میں اضافہ ہو جاتا ہے اور مریض کے ورثہ پریشان ہوجاتے ہیں کہ اتنی مہنگی ادویات استعمال کرنے کے باوجود بھی مریض کو افاقہ کیوں نہیں ہو رہا ان معصوم اور سادہ لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ یہ جو دوائی ہم اپنے پیاروں کو کھلا رہے ہیں وہ اصل نہیں بلکہ ملاوٹ شدہ اور دو نمبر ہے ملاوٹی اور دو نمبر دوائی استعمال کرنے میں غریب اور متوسط طبقہ کے افراد کے علاوہ حکومتی اہلکار بھی اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔یہ اطلاع کس قدر افسوسناک ہے کہ سابق گورنر پنجاب چودھری الطاف حسین کی جب طبیعت خراب ہوئی تو ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی ہائی پوٹنسی اینٹی بائیوٹک گولیاں ان کو استعمال کرنے کیلئے دی گئیں جس کو استعمال کرنے سے ان کی طبیعت اور زیادہ خراب ہو گئی اور ان کی جان بچانے کے لیے انھیں۔ فوری طور پر لندن کے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا ہے وہاں کے ڈاکٹروں وہ مشہور کمپنی کے اینٹی بائیوٹک دو کو لیباٹری میں چیک کروایا تو یہ ملاوٹ شدہ اور دو نمبر دوائی ثابت ہوئی یہ بااثر مافیا اس قدر بے خوف ہے کہ یہ کسی وقت بھی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مشہور برانڈ کی نقل تیار کروا کے اور بہت کم وقت میں لاکھوں روپے کا منافع حاصل کر لیتے ہیں پچھلے دنوں پاکستان کی مشہور کمپنی کا ون ملی گرام OXidil اینٹی بائیوٹک انجکشن دو نمبر تیار کرکے ہو بہو پیکنگ میں پیک کر کے لاہور کی لوہاری مارکیٹ میں فروخت کرتے ہوئے اس مافیا کا ایک کارندہ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر اس کی تصویریں اخبارات میں شائع بھی ہو چکی ہیں، اسی طرح ایک اور ملٹی نیشنل کمپنی نے مخصوص امراض کی دواء۔ ڈوفاسٹن کی ہو بہو نقل تیار کرکے مارکیٹ میں فروخت کرنا شروع کر دی کمپنی کے اطلاع دینے پر ایف آئی اے کی ٹیم ڈویڑن ڈرگ انسپکٹر۔ ضلع قصور ڈرگ انسپکٹر مقامی پولیس کے ہمراہ تحصیل پتوکی میں متعلقہ فارمیسی پر چھاپہ مارا گیا تو فارمیسی سے سینکڑوں کی تعداد میں اس جعلی دوائی کی پیکنگ کے علاوہ ممنوعہ ادویات برآمد ہونے پر فارمیسی کو سیل کر دیا گیا مگر اس بااثر مافیا نے متعلقہ حکام سے مک مکا کر کے لاکھوں روپے کی رشوت دے کر دوبارہ بند فارمیسی کو کھلوا لیا اسی طرح ملک بھر سے ملاوٹ شدہ اور دو نمبر دوائی فروخت کرتے ہوئے کئی کارندے کئی بار پکڑے جاتے ہیں اور ان کی خبریں تصاویر میڈیا پر چلتی بھی ہیں مگر متعلقہ محکمے فرضی اور نمائشی کاروائیاں ڈال کر ان سے لاکھوں روپے رشوت لے کر ان کودوبارہ عوام کی زندگی ختم کرنے کا لائسنس دے دیتے ہیں اور یہ ملاوٹ اور جعلی ادویات بنانے والا مافیا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔دو سال قبل جب پاکستان میں کرونا وبا کی وجہ سے ہزاروں مریضوں سے ہسپتال بھر گئے تو اس کرونا وبا میں استعمال ہونے والا ملٹی نیشنل کمپنی انجکشن Actemra.200mg./10mL جس کی قیمت پچیس ہزار روپے تھی اس مافیا کی رینج میں آتے ھی اس کی قیمت پچاس ہزار تک پہنچ کر مارکیٹ سے غائب کر لئے گئے۔ پھر یہ بلیک میں ایک لاکھ دس ہزار روپے تک فروخت ہونے لگا کرونا وبا میں مبتلا مریضوں کے ورثاء نے اپنے پیاروں کی جان بچانے کے لیے انتہائی مہنگا انجکشن اپنے مریضوں کے لیے خریدا اور کئی غریب مریضوں کے ورثا انجکشن لینے کی سکت نہ رکھنے پر ہزاروں کی تعداد میں لوگ موت کے منہ میں چلے گئے اس سنگین صورتحال کے پیش نظر ملٹی نیشنل کمپنی نے اس انجکشن کی کمپنی ریٹ پر دستیابی کے پیش نظر اخبارات میں اشتہار شائع کرایا کہ یہ انجکشن ہمارے کمپنی کے مقرر کردہ ڈیلر سے مقرر کردہ قیمت پر ہی خریدیں مگر اس وقت تک یہ سنگدل مافیا غریب اور لاچار لوگوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لاکھوں روپے کا ناجائز منافع اپنی تجوریوں میں بھر چکا تھا۔ ایک نوجوان علی رضا نے بڑے غمگین لہجے میں بتایا کہ میرے والد کو کرو نا ہوا تو میں ان کو فوری طور پر میو ہاسپٹل لاہور میں ایڈمٹ کروایا تو ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے مجھے۔ کمپنی کا ACtemra.2OOmg/10mL فوری طور پرانجکشن لانے کا کہا جب میں متعلقہ فارمیسی پر پہنچا تو انہوں نے مجھے انجیکشن کی قیمت 38 ہزار روپے بتائی میرے پاس اتنی رقم نہ ہونے پر میں فوری طور پر اپنے گاؤں واپس آیا اور اپنی موٹر سائیکل بیچ کر مطلوبہ رقم اکٹھی کرکے متعلقہ فارمیسی سے انجکشن لے کر جب ہاسپٹل میں داخل ہوا تو میرا والد کرونا کی شدت کی وجہ سے اگلے جہان سدھار چکا تھا نوجوان علی رضا نے حکومتی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت اس مافیا پر کنٹرول کرتی تو شاید کم قیمت میں انجکشن خرید کر میں اپنے والد کو بچا سکتا ایک ملٹی نیشنل کمپنی کا ہائی پوٹینسی اینٹی بائیوٹک انجکشن ROCephjn.1gm ٹائیفائیڈ بخار میں استعمال ہوتا ہے اس کو بھی مارکیٹ سے غائب کر کے ٹائیفائیڈ بخار کے کے مریضوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا گیا اور یہ سلسلہ کم ہونے کی بجائے دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ جس کے وجہ سے پاکستانی عوام مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر اذیت ناک تکلیف کا سامنا کرتے ہوئے دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں۔ اس حوالے سے ممتاز قانون دان ناصر اے ملک ایڈووکیٹ نے کو بتایا کہ اگر حکومت چاہتی ہے کہ عوام صحت مندانہ زندگی گزاریں اور ان کو ملاوٹ اور دو نمبر دوائیوں سے نجات ملے تو جعلی اور دو نمبر ملاوٹ شدہ ادویات بنانے والے مافیا جنکی ادویات استعمال کرنے سے ہزاروں مریض زندہ درگور ہو چکے ہیں اور لاکھوں۔ مریض موت کی وادی میں اتر چکے ہیں ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نبٹنا ہوگا ان کے خلاف قتل کی دفہ 302 کے تحت مقدمات درج کیے جائیں اور ان کے خلاف جرم ثابت ہونے پر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلا کر ان کو سزائے موت دینا ہوگی تو پھر عوام کو پرفیکٹ ادویات ملنے کی صورت میں وہ جلد صحت یاب ہونگے اور ہسپتالوں میں مریضوں کا رش بھی کم ہوگا۔

٭٭٭

 اشیائے صرف میں ملاوٹ کے بعد میڈیسن میں مکروہ دھنداجاری ہے

مزید :

ایڈیشن 1 -