ڈاکٹر داؤد شہباز کے اعزاز میں تقریب 

ڈاکٹر داؤد شہباز کے اعزاز میں تقریب 

  

ترکی اور پاکستان کی دوستی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ان دونوں ملکوں کے درمیان محبت اور یگانگت مثالی نوعیت کی ہے۔اسی لیے وہاں اردو زبان وادب کی تدریس کا شعبہ جات بڑی فعالیت سے کام کررہے ہیں۔ گزشتہ دنوں نئے سال کے آغاز میں شعبہ اردو الحمد اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں ڈاکٹر داؤد شہباز کے اعزاز میں ایک پروگرام ترتیب دیا گیا جس میں ان کی اردو کے حوالے سے خدمات پر زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔کہ وہ ترک ہوتے ہوئے بھی شعبہ اردو انقرہ یونیورسٹی میں اردو کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔

ڈاکٹر شیر علی صدر شعبہ اردو نے اس پروگرام کا تعارف کرایا اور مہمان خاص جناب ڈاکٹر داؤد شہباز کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ترکی کا اور پاکستان کا لسانی حوالے سے ملکی حوالے سے بین الاقواامی حوالے سے گہرا تعلق ہے۔ ڈاکٹر داؤد شہباز اور ان کا پورا شعبہ اردو انقرہ یونیورسٹی بہت ہی شاندار شعبہ ہے۔ ان کی چیر پرسن آسمان بیلن نے اردو کے حوالے سے بڑا کام کیا ہے۔آپ نے جو نظریہ پاکستان کے اس کے حوالے سے پی ایچ ڈی کا موضوع لیا۔ وہ ترکی سے پاکستان تشریف لائے تو انھوں نے کمالِ محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شعبہ اردو الحمد اسلامک یونیورسٹی کے ایم فل اور پی ایچ ڈی اسکالر سے ایک مکالمے کے ہامی بھری۔ڈاکٹر داؤد شہباد ترکی میں اردو کی سفارت کاری کا فریضہ سرانجام دے ر ہے ہیں۔ اس سے پہلے بھی کئی ترکی سے تعلق رکھنے والی شخصیت نے اردو کے فروغ اور ترویج کا کام کیا۔ ڈاکٹر داؤد شہباز بھی ترکی میں اردو کی تدریس اور فروغ کے حوالے سے اہمیت کے حامل ہیں کہ انھوں نے اردو کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔خراج تحسین کا مقصد ہے کہ پوری دنیا سے اردو کے لیے کام کرنے والے یہاں تشریف لاتے ہیں اور ہم انھیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور آج کا یہ پروگرام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔الحمد یونیورسٹی کا جو ریسرچ جرنل ہے آٹھ یونیورسٹیوں کے وائی کیٹیگری ریسرچ جرنلز میں اس کا شمار ہوتا ہے۔

راقم الحروف نے کہا کہ میں جناب ڈاکٹر داؤد شہباز کو الحمد اسلامک یونیورسٹی میں شعبہ اردو کی طرف سے اسکالرز کی طرف سے خوش آمدید کہوں گا،اور میں ڈاکٹر شیر علی صدر شعبہ اردو الحمد اسلامک یونیورسٹی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے آج ہمیں یہ موقع فراہم کیا کہ ہم ایک ایسے شخص سے مل رہے ہیں جس کا تعلق ترکی سے ہے۔ ترکی صرف ایک ملک نہیں ہے ترکی ہمارے لیے محبت کا ایک استعارہ ہے۔ترکی ہر برے و قت اور آزمائش میں ہمارے کام آیا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ چین کی دوستی اپنی جگہ ہے لیکن یہ سچ ہے کہ ہمارے لیے جو محبت اور اپنائیت ترکی والوں کے دل میں ہے وہ کسی اور ملک کے باشندوں کے دل میں نہیں ہے۔ میں نے ترکی جا کر اس کا عملی مظاہرہ دیکھا ہے میں جس دکان میں گیا اور انھیں بتلایا کہ میں پاکستانی ہوں انھوں نے مسکراتے ہوئے مجھے ویلکم کیا اور مجھے مٹھائی پیش کی، انھیں محبت کے حوالوں میں بہت سے نام ہمارے دوستوں میں شامل ہیں۔بہت سے وہ لوگ ہیں جو پاکستان سے ترکی گئے اور وہاں اردو کے لیے کام کیا جیسا کہ ڈاکٹر غلام حسین زوالفقار،ڈاکٹر اے بی اشرف، ڈاکٹر سعادت سعید، ڈاکٹر انوار احمد، ڈاکٹر عقیلہ جاوید وغیرہ۔ اور کچھ وہ لوگ ہیں جو ترک ہیں اور انھوں نے اردو سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے اوڑھنا بچھونا اردو کو بنایا ہوا ہے۔ان میں سے نوجوانوں میں ایک اہم نام ڈاکٹر داؤد شہباز کا ہے جنھوں نے اردو کے لیے ترکی میں بیٹھ کر اتنا اچھا کام کیا ہے کہ جس کی جتنی بھی قدر کی جائے کم ہے۔میری ان سے پہلے ملاقات لاہور میں ایک کانفرنس میں ہوئی جہاں میں نے انھیں اپنا لکھا ترکی کا سفرنامہ بھی پیش کیا۔ 

اردو شعبہ سے وابستہ ہونے کے بعد ڈاکٹر داؤد شہبازاردو زبان وادب کے لیے نمایاں اورقابلِ قدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کا شمار موجودہ دور کے نوجوان،انرجیٹک اور اردو کے لیے ایک واضح نصب العین رکھنے والے اساتذہ، محققین اور ناقدین میں ہوتا ہے۔انھوں نے جہاں اردو تدریس کے لیے کام کیا ہے وہاں انھوں نے پروین شاکر اور مظہر الاسلام جیسے ادبی شخصیات پر بھی تحقیق وتنقید کا فریضہ سرانجام دیا۔

انھیں پروین شاکر ٹرسٹ نے اس حوالے سے ایوارڈ بھی پیش کیا ہے۔ ان کا کام اپنی نوعیت کے اعتبارط سے اس وجہ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ انھیں رومانوی شاعری سے خصوصی دلچسپی رہی۔مظہرالاسلام پہ کیے گئے کام میں انھوں نے ان کی شخصیت، فکرو فن اور ان کے اسلوب کے حوالے سے جائزہ لیا۔ 

ڈاکٹر داؤد شہباز نے نہ صرف تحقیقی وتنقیدی کام کیا بلکہ اردو سے ترکی میں ترجمے بھی کیے ہیں۔ انھوں نے مظہرالاسلام کے نظموں اور افسانوں کا ترکی میں ترجمہ کیا تاکہ ترک طالب علم جن کی کہانیوں اور شاعری سے واقف ہوسکیں۔اور لطف اندوز ہوسکیں اور انھیں اردو زبان کو سمجھنے میں بھی آسانی ہو۔ ترجموں سے جہاں مختلف ز بانوں کا آپس میں ربط پیدا ہوتا ہے وہاں ایک زبان کے نظریات اور خیالات وافکار کو دوسری زبان میں سمجھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ان کے تراجم سے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ انھیں دونوں زبانوں پر مہارت حاصل ہے۔ وہ دونوں زبانوں میں تخلیق کیے جانے والے ادب پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر داؤد شہباز نے اپنی گفتگو میں کہا کہ سب سے پہلے میں ڈاکٹر شیر علی اور ڈاکٹر اشرف کمال کام کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے مجھے یہاں بلایا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے ابتدائی تعلیم انقرہ میں حاصل کی۔ انقرہ یونیورسٹی ترکی سے گریجویشن کیا۔ اردو ادب میں رومانوی تحریک کے حوالے سے بھی انھوں نے کام کیا ہے۔میں ترکی اور پاکستان کے بارے میں کچھ معلومات دینا چاہتا ہوں۔ ہم ترکی میں ایسا سمجھتے ہیں کہ وہ اگر اسلام آباد ہوتا تو وہاں دکھ ہوتا۔

ڈاکٹر داؤد شہباز نے جواب میں کہا کہ استنبول یونیورسٹی میں سعادت حسن منٹو، اورا قبال، غالب کے تراجم ہوئے ہیں۔ آسمان بیلن نے بھی پروین شاکر کی شاعری کا ترجمہ کیا۔میں نے بھی مظہر الاسلام کی کہانیوں اور نظموں کا ترجمہ کیا۔اس کے علاوہ بھی اردو سے تراجم ہوئے ہیں۔اداس نسلیں کا بھی ترجمہ ہوا، انتظار حسین کے ناول بستی کا بھی ترجمہ ہوا۔

ہمارے یہاں ترکی میں بھی افسانوں میں علامتی افسانے لکھے جاتے ہیں۔ 

اس تقریب کا اختتام پاکستان ترک دوستی اور خیر سگالی کے جذبات میں مزید استحکام کی دعا کے ساتھ کیا گیا۔

٭٭٭

 انقرہ یونیورسٹی ترکی کے استاد 

ممتاز ادیبوں،شاعروں، دانشوروں سمیت اہم شخصیات کا اظہار خیال

مزید :

ایڈیشن 1 -