”ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا“ 

”ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا“ 

  

عزمتوں اور بلندیوں کا سفر،محبتوں اور عقیدتوں کی لازوال داستان،قربانیوں اور سرفرشیوں کا ایک تابناک باب،بے داغ ماضی اور روشن مستقبل،خوف خدا اور عشق رسولﷺسے سرشار نوجوانوں کا قافلہ عشق ومستی انجمن طلبہ اسلام کا آج 20جنوری 2022 کو 54واں یوم تشکیل انجمن ہے۔ کارکنان کے لئے جشن تشکیل انجمن در حقیقت تجدید عہد وفا کا دن ہوتا ہے جہاں ہمیں کچھ لمحات کیلئے روک کر اپنی جہدوجہد اور رفتار کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔54سالہا جہدوجہد میں کیا کھویا اورکیا پایا ہے۔انجمن طلبہ اسلام کا قیام 20جنوری 1968کو کراچی میں عمل میں لایا گیا تھا اور اسکی بنیاد نظریہ محبت رسولﷺ کے تحت رکھی گی تھی۔بلاشبہ انجمن طلبہ اسلام ملک کی سب سے بڑی تحریک اور تنظیم کا نام ہے جس کی دلیل طلبہ یونینز کے آخری انتخابات 09مارچ 1989کا ریکارڈ ہے جس کی فاتح انجمن طلبہ اسلام ٹھہری تھی۔

انجمن طلبہ اسلام مخص طلبہ تنظیم ہی نہیں بلکہ ملک کی سب سے بڑی فکری نظریاتی طاقت اور تعلیم و تربیت کے خوب صورت گہوارے کانام ہے۔ میری انجمن طلبہ اسلام سے وابستگی 2007 سے 2020تک رہی ہے میں ایک کارکن سے مرکزی سیکریڑی جنرل اور دیگر اہم کلیدی ذمہ داریوں پر رہا ہوں۔تمام طلبہ تنظیموں کے اتحاد متحدہ طلباء محاذ کا بھی مرکزی ترجمان رہا ہوں۔مگر میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ انجمن طلبہ اسلا م میں گزرے ہوئے ایام میری زندگی کا بہترین اثاثہ ہیں۔ نظریاتی فکری اساس کی پختگی،عشق مصطفے ﷺ کا محبت بھرا پیغام، عزیمیت کی تربیت، ذہن اور کردارسازی،عزم وحوصلے کی لازوال داستانیں،ریاستی جبر کا مقابلہ اور جہد مسلسل کا ایسا درس ملا جو عملی زندگی میں بھی قدم قدم پر رہنمائی کرتا ہے۔بہترین رفقاء اور حلقہ احباب میسر آئے جنہوں نے قومی دھارے میں انتہائی اہم اور جرات مندانہ کردار ادا کیا۔ انجمن طلبہ اسلام میری اور میرے جیسے لاکھوں نوجوانوں کی عظیم محسن ہے جو اس شجر سایہ دار کی گھنی چھاؤں سے مستفید ہوئے ہیں۔

یہ خاصہ بھی ہمیشہ انجمن طلبہ اسلام کا رہا ہے کہ جب بھی وطن عزیز میں کسی تحریک نے سر اٹھایاتو اسکی بنیادوں میں میری تحریک انجمن طلبہ اسلام کا پاکیزہ اور مقدس خون شامل تھا۔ تحریک نظام مصطفےﷺ،تحریک ختم نبوت ﷺ، بنگلہ دیش نامنظور تحریک، گستاخانہ خاکوں کیخلاف احتجاج،کشمیر کاز، دور آمریت ہویا ملک میں قدرتی آفات (سیلاب، زلزلہ) کی زد میں ہو۔ انجمن طلبہ اسلام کے تربیت یافتہ شاہین صفت نوجوانوں نے اپنے لہو سے اس کی چمن کی حفاظت کے چراغ روشن کیے ہیں۔دکھی انسانیت کی فلاح وبہبود کیلئے بھی سابقین انجمن کے فلاحی اداروں مصطفائی تحریک پاکستان، المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کی خدمات اور سرگرمیاں قابل ستائش ہیں۔

انجمن طلبہ اسلام کے بانی اراکین سے لیکر دیگر ذمہ داران جنکی زمانہ طالب علمی میں انجمن طلبہ اسلام سے وابستگی رہی ہے۔وفاقی وزراء سے لے کر بلدیاتی اداروں کے نمائندوں تک کسی کے دامن پر کرپشن کا داغ نہیں۔انکے صاف شفاف اجلے دامن انجمن طلبہ اسلام کی تربیت کی بدولت ممکن ہوئے ورنہ وہ لوگ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں جس کے اہل سیاست ملکی قومی خزانے کو باپ کی جاگیر سمجھ کر دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔انجمن طلبہ اسلام کے سابقین جب پاکستان کی قومی وصوبائی اسمبلیوں میں منتخب ہوکر گئے تو زمانہ طالب علمی کے سبق کو بھی خوب یاد رکھا۔ قومی اسمبلی میں صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم نے آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں صاحبزادہ حافظ حامد رضا سیالکوٹی نے جبکہ پنجاب اسمبلی میں ممبران پنجاب اسمبلی چوہدری طاہر محمود ہندلی،چوہدری احسن رضا خاں، ملک نو شہر خاں لنگڑیال، امجدعلی میو،چودھری شوکت محمود بسراکی جہدوجہد سے پاکستان کی تاریخ میں بھی پہلی مرتبہ تلاوت کے بعد نعت رسول ِ مقبول کی روایت کا آغاز ہوا ہے۔

آج 20جنوری کو انجمن طلباء اسلام عشق رسولﷺ کے فروغ نظام مصطفے ﷺ کے نفاذ،مقام مصطفےﷺکے تحفظ اور طلباء حقوق کی بحالی کیلئے اپنی جہدوجہد کے 54 سال مکمل کرچکی ہے۔اپنا 54واں یوم تشکیل انجمن کے طور منایا رہی ہے۔ ملک بھر میں تقاریب کا انعقاد کیا جارہا ہے 20تا 30جنوری عشرہ سماجی خدمات کے طور پر منایا جائے گا۔

٭٭٭

 انجمن طلبہ اسلام کے جشن تشکیل انجمن کے موقع پر خصوصی تحریر

مزید :

ایڈیشن 1 -