نیا پاکستان صحت کارڈ……ایک انقلابی قدم

 نیا پاکستان صحت کارڈ……ایک انقلابی قدم

  

پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں صحت کے مسائل ہمیشہ سے گھمبیررہے ہیں۔بدقسمتی سے ماضی کی حکومتوں کے دوران صحت کے مسائل کو ترجیحاً حل کرنے کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی نہ ہو سکی۔ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں کی باعث عوام کو درپیش مسائل میں مسلسل اضافہ ہوا۔آبادی کے مسلسل بڑھنے سے صورت حال اور بھی خراب ہوئی چنانچہ جب موجودہ حکومت برسراقتدار آئی تو دوسرے شعبوں کی طرح صحت کا شعبہ بھی بری طرح درہم برہم ہو چکا تھا۔وزیراعظم عمران خان کے وڑن کے تحت وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے شعبہ صحت کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کرنے اور شہروں سے دیہات تک اور ترقی یافتہ مراکز سے جنوبی پنجاب سمیت پنجاب کے دور دراز کے علاقوں تک عوام کو صحت کی زیادہ سے زیادہ سہولتیں پہنچانے کا چیلنج قبول کیا۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران پنجاب میں صحت کے شعبہ میں جس جانفشانی سے کام کیا گیا اس کے نتائج بھی سب کے سامنے ہیں۔نیشنل ہیلتھ سروسز کے تحت سرکاری ہسپتالوں میں بہت سے بیماریوں کے علاج کو ممکن بنانے پر خاص توجہ دی گئی۔

علاج معالجہ کی بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔بدقسمتی سے ماضی میں حکومتیں اپنی یہ ذمہ داری احسن طریقے سے پوری نہیں کر سکیں۔علاج معالجہ کی جدید سہولت صرف اشرافیہ کا حق رہ گیاتھا۔ کسی بھی مہلک مرض کا علاج عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوتا جارہا ہے۔مہنگائی کے اس دور میں علاج کی بات تو دور آدمی کے لئے دو وقت کی روٹی مشکل ہوتی جارہی ہے۔جب کسی خاندان کا کوئی فرد کینسر،امرض قلب،گردوں کی بیماری وتھیلیسیمیا جیسی موذی مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے تو پورے خاندان کی زندگی متاثر ہوتی ہے اور علاج معالجے پر اتنے اخراجات آجاتے ہیں کہ گھر میں فاقوں کی نوبت آ جاتی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے عام آدمی کی تکالیف اور پریشانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے علاج معالجہ کی جدید اور بین الاقوامی معیار کی سہولیات کی فراہمی کیلئے ایک جامع اور انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے ”نیا پاکستان صحت کارڈ“پروگرام کا آغاز کیا ہے۔اب عام آدمی پرائیویٹ ہسپتالوں میں اپنی بیماری کا علاج کرا سکے گا۔ جنوری سے2022باضابطہ اجراء کاآغاز ہو گا۔اگلے ماہ سے نیا پاکستان صحت کارڈ کا اجراء پہلے مرحلے میں لاہور ڈویڑن سے کیاجائے گا اور لاہور ڈویڑن کے بعد پنجاب کے دیگر 6ڈویڑن میں کارڈ کا اجراء کیا جائے گا۔ 31مارچ تک پنجاب کے ہر خاندان کے پاس نیا پاکستان صحت کارڈ ہوگا۔پنجاب کے مستقل رہائشی تمام خاندانوں کو 10لاکھ روپے تک کا کسی بھی منتخب سرکاری ونجی ہسپتال سے مفت علاج کروا سکیں گے۔نیاپاکستان صحت کارڈ440ارب روپے کا تاریخ ساز فلاحی منصوبہ ہے جس سے پنجاب کے 3کروڑ خاندان اور ساڑھے 11 کروڑ عوام اس پروگرام سے مستفید ہوں گے۔ بزدار حکومت کا یہ سب سے بڑا انقلابی قدم ہے جس کی جتنی ستائش کی جائے کم ہے۔ ساہیوال اور ڈی جی خان ڈویڑن میں اس بے مثل پروگرام کا آغاز ہوچکا ہے۔اس ضمن میں حکومت پنجاب نے سٹیٹ لائف انشورنس سے معاہدہ کیا ہے۔نیا پاکستان صحت کارڈ سے مکمل طور پر مستفید ہونے کے لئے5ضروری اقدامات کرنا ہوں گے۔نادرا کے ریکارڈ کے مطابق ایک شادی شدہ مرد اس کی بیوی اور اس کے غیر شادی شدہ بچے ایک خاندان ہیں۔بیوہ کی صورت میں اسے اپنے کوائف کی نادرا ریکارڈ میں تجدید کروانا لازمی ہے۔شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنا اور اپنی زوجہ کی ازدواجی حیثیت کا اندراج نادرا سے کروائیں اور 18سال سے کم عمر کے بچوں کا ”ب“ فارم اور 18سال سے زائد عمر کے افراد اپنا شناختی کارڈ بنوائیں۔ نیا پاکستان صحت کارڈ کے ذریعے امرض قلب،ذیابیطس سے متعلق پیچیدگیاں جن میں ہسپتال داخل ہونا ضروری ہو،حادثاتی چوٹیں، اعصابی نظام کا علاج، گردوں کی بیماری کا علاج اور پیوندکاری،سرطان کے امرض، دائمی بیماریوں کا علاج جیسے یرقان وکا لا یرقان،تھیلسیمیا، حمل وزچگی اور دیگر امرض کا علاج ہو گا۔علاج کے بارے میں مزید رہنمائی اور اپنے اضلاع کے منتخب سرکاری وپرائیویٹ ہسپتالوں کے بارے میں معلومات کیلئے ٹول فری نمبر0800-09009پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم پاکستان نے گورنر ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں نیا پاکستان صحت کارڈ دینے کا افتتاح کیا۔وزیراعظم پاکستان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صحت کارڈ کے اجراء پر وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اور صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال مارچ تک پنجاب میں ہر خاندان کو صحت کارڈ میسر ہوگا جس سے سالانہ 10لاکھ روپے تک علاج کروایا جا سکے گا۔اس حوالے سے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ ہماری حکومت نے صحت کے بجٹ کو بڑھا کر 399 ارب روپے کر دیا ہے -”نیا پاکستان صحت کارڈ“ پنجاب کے ہر شہری کو ملے گا- اس کارڈ کے ذریعے ہر خاندان کو 10 لاکھ روپے سالانہ مفت علاج کی سہولت میسر ہو گی- جنوری سے اس کارڈ کو پورے پنجاب میں لانچ کر دیا جائے گا-ڈیرہ غازی خان ڈویڑن اور ساہیوال ڈویڑن میں یہ کارڈ پہلے ہی دیا جا چکا ہے- دیگر 7 ڈویڑن میں ”نیا پاکستان صحت کارڈ“جنوری سے دیا جائیگا-

٭٭٭

پنجاب کے تین کروڑ خاندانوں کو علاج معالجہ کی جدید سہولیات دستیاب ہوں گی

مزید :

ایڈیشن 1 -