کورونا کی نئی لہر اور ہماری ذمہ داریاں 

کورونا کی نئی لہر اور ہماری ذمہ داریاں 

  

ساڑھے پانچ ماہ قابو میں رہنے کے بعد کورونا نے ایک بار پھر سر ابھارا ہے، پاکستان میں اومی کرون ویرینٹ پھیلاؤ کے باعث پہلی مرتبہ پانچ ہزار سے زائد کیسز ایک ہی دن میں رپورٹ ہوئے ہیں، این سی او سی کے مطابق گذشتہ روز53ہزار سے زائد ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے  پانچ ہزار 34 افراد میں اس وائرس کی تصدیق کی گئی ہے، یومیہ مثبت شرح9.95 فیصد رہی، کورونا کی وجہ سے مزید 10افراد جان کی بازی ہار گئے۔یوں اس موذی مرض کے ہاتھوں ہلاکتوں کی تعداد 29ہزار29 ہو گئی ہے۔گذشتہ شب ایک جعلی ٹویٹر اکاؤنٹ سے سکولوں کی بندش کی خبر سوشل میڈیا پرگردش کرتی رہی تاہم این سی او سی نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کے مطابق پنجاب میں 980کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں سے759 کا تعلق لاہور سے ہے۔ بھارت میں کورونا کی تازہ لہر کے اثرات پاکستان کی نسبت کہیں زیادہ ہیں۔ اسلام آباد میں نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے ایک اجلاس میں ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں سرگرمیاں تین روز تک محدود کرنے کی تجویز پر غور کیا گیا۔ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والے تعلیمی اداروں کو سیل کر دیا جائے گا۔ تاہم  یہ بھی کہا گیا کہ تمام فیصلے صوبوں کی مشاورت سے ہوں گے۔وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے خصوصی گفتگو میں بتایا ہے کہ حکومت اس بات کا بھرپور ادراک رکھتی ہے کہ کورونا کی وجہ سے پچھلے تین سال میں بچوں کا خاصہ نقصان ہو چکا ہے،لہٰذا تعلیمی اداروں کے حوالے سے کسی قسم کے بھی فیصلے سے قبل ہم اس امر کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ماہرین کے مطابق اومی کرون ویرینٹ کی شدت ماضی میں کورونا کی آنے والی لہروں سے کسی حد تک کم ہے اور اس کے متاثرین نزلے،زکام جیسی کیفیت کا شکار ہوتے نظر آتے ہیں، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ متاثرین میں اضافے کی وجہ سے کاروبارِ زندگی متاثر ہوتا ہے۔ ایک بھی شخص اس کا شکار ہو کر گھر بیٹھ جائے تو پورے گھر پر اس کے اثرات پڑتے ہیں،اس وقت تک  ماضی کی نسبت ہسپتالوں پر دباؤ کم ہے، تاہم کسی غیر متوقع صورت حال سے نمٹنے کے لئے تیاری لازم ہے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد سمیت بڑے شہروں میں بیماروں کی تعداد دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق ابھی حالات  خدانخواستہ اس حد تک خراب نہیں ہوئے کہ ملک میں لاک ڈاؤن کا سوچا جائے جب ان سے تعلیمی اداروں کی بندش کے بارے میں استفسار کیا گیا تو ان کا کہنا تھا پاکستان میں ویکسی نیشن اور بوسٹر  لگانے کا عمل مثالی انداز میں آگے بڑھا ہے،لیکن کم عمر بچوں کی  ویکسی نیشن ابھی شروع نہیں،اس لیے ان میں اس وائرس کے پھیلنے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔طبی ماہرین مسلسل اس بات سے خبردار کر رہے ہیں آنے والے دو تین ہفتے سے زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں، ان کے مطابق اومی کرون اپنی ہیئت بھی تبدیل کر سکتا ہے۔

حکومت ِ پاکستان کے اقدامات کی پوری دنیا میں تعریف کی گئی۔اب تک پاکستان میں 102,107,155 افراد کو ویکسی نیشن کی ایک خوراک دی جا چکی ہے،جبکہ این سی او سی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 17جنوری تک مکمل طور پر ویکسی نیشن کرا لینے والے پاکستانیوں کی تعداد 77,162,1649، یعنی تقریباً پونے آٹھ کروڑ تک پہنچ گئی ہے،تاہم ابھی عشق کے امتحاں، اور بھی ہیں۔کوشش ہونی چاہیے کہ بچوں کا کم سے کم تعلیمی نقصان ہو،انہیں ایک محفوظ ماحول میں تعلیم جاری رکھنے کے مواقع فراہم ہوں،اساتذہ  کے لیے ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ رکھنا لازم قرار دیا جائے، نیز تعلیمی اداروں سے وابستہ تمام کارکنوں کی ویکسی نیشن یقینی بنائی جائے۔ایس او پیز پر عمل درآمد کرنے سے ہم اس وبا کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکتے ہیں، ماسک کا مسلسل استعمال، ہاتھوں کی صفائی، سماجی فاصلہ اگر ہم اپنا لائف سٹائل بنا لیں تو اس نئی لہر کا بھی بہتر انداز میں مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔یہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بطور شہری یہ ہم سب کا فرض ہے کہ ان پر عمل کریں۔ بازاروں، ہوٹلوں اور شاپنگ مالز میں ان ضابطوں کی پاسداری کریں۔معاشی صورت حال مزید کسی لاک ڈاؤن یا کاروباری خلل کی متحمل نہیں،بطور پاکستانی ہمیں اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -