جماعتی فنڈز کی تفصیل، عوام کو جاننے کا حق ہے!

 جماعتی فنڈز کی تفصیل، عوام کو جاننے کا حق ہے!
 جماعتی فنڈز کی تفصیل، عوام کو جاننے کا حق ہے!

  

الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے وکیل کی وہ درخواست مسترد کر دی ہے، جس میں استدعا کی گئی تھی کہ جماعتی فنڈز کے حوالے سے سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ عام نہ کی جائے اور اسے خفیہ رکھا جائے۔ کمیشن نے سکروٹنی کمیٹی کی بھی ایک سفارش کو درخور اعتنا نہیں جانا، جس میں سٹیٹ بنک کی رپورٹ کے کچھ حصوں کو خفیہ رکھنے کے لئے کہا گیا تھا۔ چیف الیکشن کمشنر کے مطابق یہ رپورٹ اب عوامی ملکیت (پبلک پراپرٹی) ہے۔ اسے خفیہ رکھنے یا چھپانے کا کوئی جواز نہیں۔ الیکشن کمیشن نے سکروٹنی کمیٹی کی تشکیل نو بھی کی اور ہدائت کی کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے فنڈز کی چھان بین بھی دس روز کے اندر کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔ اس سلسلے میں یہ بات قابل غور ہے کہ تحریک انصاف کے فنڈز کے حوالے سے اسی جماعت کے ایک بنیادی رکن اکبر ایس بابر نے درخواست دی تھی، اس حوالے سے تحقیقات یا سماعت کو پورے سات سال لگ گئے اور اتنے طویل عرصہ کے بعد سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ مرتب ہوئی، جس کے بعض حصے اشاعت پذیر بھی ہوئے۔اس پر تحریک انصاف نے خود کو بری الذمہ قرار دینے کا دعویٰ کر دیا، جبکہ حزب اختلاف نے الزام لگایا کہ رپورٹ سے ’بددیانتی‘ ثابت ہو گئی کہ فنڈز میں گڑ بڑ ہوئی اور 35کروڑ روپے کا حساب ہی نہیں ملتا۔

یہ دعویٰ اور جواب دعویٰ چل رہا تھا کہ وفاقی وزیر امور مملکت فرخ حبیب نے خود بھی پیش ہو کر رپورٹ شائع نہ کرنے کی استدعا کی۔ الیکشن کمیشن کا جواب تھا کہ وہ فریق نہیں ہیں، بہرحال انہوں نے اس بات پر زور دینا شروع کیا کہ تحریک انصاف نے تو حساب دے دیا اب دوسری دونوں جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے فنڈز کی تلاشی بھی لی جائے اور یہ کام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

جہاں تک جماعتی فنڈز کا تعلق ہے تو میں اس حوالے سے الزام اور جواب الزام کی طرف نہیں جاتا لیکن اس امر پر حیرت ضرور ہے کہ جب جماعتیں فنڈز لیتی ہیں تو عوام کو بتایاکیوں نہیں جاتا، کیونکہ یہ بات آج سے نہیں، ایک عرصے سے کہی جاتی ہے کہ ملک کے سرمایہ دار پس پشت رہ کر جماعتوں کی مالی اعانت کرتے اور ان کے اقتدار میں آنے کے بعد مفاد حاصل کرتے ہیں اور یہ بھی کرپشن کا ایک دروازہ ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا کہ مفاد پرست حلقے صرف ایک ہی جماعت کو نہیں، خفیہ طور پر دوسری جماعت یا جماعتوں کو بھی رقوم دیتے ہیں کہ وہ اسی میں اپنی بھلائی بھی جانتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ الزام بھی سننے میں آتا رہا ہے کہ ان مالی مفادات اور اعانت کو چھپایا بھی اسی لئے جاتا ہے کہ کسی کو علم ہی نہ ہو۔ اس سلسلے میں یہ بھی قابل ذکر بات ہے کہ بھارت میں تواس موضوع پر کئی فلمیں بن چکی ہوئی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان مافیاز کا ذکر کرنے اور ان کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہیں، کیا ان کو معلوم نہیں کہ یہ مافیاز کون ہیں، انہوں نے چینی، کھاد اور آٹے تک کی قلت اور قیمتوں کو آسماں تک پہنچانے کے حوالے سے مافیاز ہی کا ذکر کیا، لیکن خود انہوں نے بھی شاید اپنی جماعت کے فنڈنگ ذرائع پر غور نہیں کیا میں خود اللہ اور قانون سے ڈرتے ہوئے عرض کرتا ہوں کہ تحریک انصاف کے محترم جہانگیر ترین کا جہاز بھی تو پرواز کرتا رہا ہے۔ بہرحال کپتان نے اپنے اس بڑے کھلاڑی سے فاصلہ کر لیا ہے، لیکن کھلاڑی کے کھیل والے حصے سے انکار کیسے کیا جا سکتا ہے۔

ہم صحافی لوگ بھی عجیب مخلوق ہیں کہ بہت کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش رہنے پر مجبور ہوتے ہیں اور ہم تو پرانے لوگ ہیں جو ”آف دی ریکارڈ“ الفاظ کا اتنا احترام کرتے ہیں کہ وقت کے بعد بھی منہ نہیں کھولتے۔ اس سلسلے میں عرض کروں، میں نام لئے بغیر بتاتا ہوں کہ ایک قومی اور بڑی جماعت کے صوبائی دفاتر کی حالت خراب تھی۔ ایک انتخابی مہم کے دوران سربراہ جماعت کی توجہ جب میں نے اس طرف دلائی اور دریافت کیا کہ اس دفتر کے ملازمین کو تنخواہ تک ادا نہیں کی گئی تو جواب ملا، ہماری جماعت میں جماعتی دفاتر والے اپنے اخراجات خود پورے کرتے ہیں۔ جب میں نے عرض کیا کہ ٹکٹوں کی فیس کے حوالے سے جو کروڑوں روپے جمع ہوتے ہیں، وہ کیوں خرچ نہیں کئے جاتے تو جواب ملا: الیکشن کے یہی اخراجات تو نہیں، ہم جو دورے کرتے ان کے اخراجات یہیں سے پورے ہوتے ہیں، لیکن اب جب الیکشن کمیشن کے روبرو جماعتی فنڈز کا حساب شروع ہوا تو انکشافات حیرت انگیز ہیں، جن کے مطابق فنڈز تو کروڑوں اور اربوں میں جمع ہوتے اور بیرون ملک سے بھی لئے جاتے ہیں، جبکہ ان فنڈز کا باقاعدہ حساب عام نہیں کیا جاتا،سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق جو آڈٹ کرائے گئے وہ بھی مشکوک ہیں۔ مزید یہ کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی سمیت پی ڈی ایم بھی الزام لگاتی ہے تو جوابی الزام بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس کا حل یہ ہے کہ یہ سیاسی جماعتیں از خود اپنے جماعتی حسابات بھی عام کریں، کیوں نہیں باقاعدہ آڈٹ کراکے ووٹروں کو بتایا جاتا کہ کون سے اخراجات کہاں سے پورے ہوئے۔

میں ایک اور ذاتی تجربے اور گفتگو کی بات بتاؤں، دور غالباً اے آر ڈی کا تھا، جنرل ضیاء الحق کے خلاف تحریک کا سلسلہ تھا، باغ بیرون موچی دروازہ میں جلسہ عام ہونا تھا۔ جہانگیر بدر مرحوم پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر تھے۔ ایک روز معمول کے مطابق میں صبح نوابزادہ نصراللہ کی خدمت میں حاضر تھا، تو بات جلسے کی شروع ہو گئی۔ نوابزادہ صاحب نے برجستہ کہا ”ہنیر پے گیا، جہانگیر بدر کہتے ہیں، جلسہ کے لئے 8لاکھ خرچ ہوں گے، ہم تو چند کرسیاں اور چند دریاں بچھا کر جلسہ کر لیا کرتے تھے“ یہ تو اس دور کی بات ہے، لیکن دھرنا اور تمام جماعتوں کے بڑے جلسوں کے اخراجات تو اب کروڑوں تک جا پہنچتے ہیں، یہ بھی تو کہیں سے ہوتے ہیں اور جو اخراجات برداشت کرتے ہیں، ان کی بھی تو کچھ خواہشات ہوتی ہوں گی۔قصہ مختصر اب بات چل نکلی ہے تو آگے بڑھنا بھی چاہیے۔ ہر جماعت کی فنڈنگ کے معاملات کھل کر عوام کے سامنے آنا ضروری ہیں، یہ کون سا قومی سلامتی کا خفیہ راز ہے کہ قوم کو علم نہ ہو، قوم کو مکمل طور پر آگاہ ہونا ہوگا کہ فنڈز کہاں سے آئے اور کہاں خرچ کئے اور ایک دوسرے کے خلاف جو الزام عائد ہوتے ہیں، ان کی حقیقت کیا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -