نواں کٹا اور گورنر پنجاب جودھری سرور کا مشورہ

 نواں کٹا اور گورنر پنجاب جودھری سرور کا مشورہ
 نواں کٹا اور گورنر پنجاب جودھری سرور کا مشورہ

  

پنجاب کے گورنر چودھری سرور سچ مچ سادہ اور عوامی شخصیت ہیں۔ سیاسی اور سماجی دوستوں سے لے کر عام لوگوں تک سادگی اختیار کئے رکھتے ہیں۔ یوں تو وہ عموماً سادہ انداز گفتگو اختیار کرتے ہیں لیکن ان کا تازہ ترین انداز قابلِ توجہ ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کو کچھ عرصے سے جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان کی وجہ سے حکومتی حلقوں میں کافی بے چینی اور تشویش پائی جاتی ہے۔ بعض پارٹی رہنما اور کارکن اپنی اپنی سمجھ اور ادراک کے مطابق اس بے چینی اور تشویش کو کم کرنے کے لئے ٹوٹکے اور نسخے تجویز کرتے رہتے ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ کون سے حلقوں نے جمہوریت کو درپیش مسائل اور چیلنجز کے حوالے سے یہ تجویز پیش کی کہ موجودہ پارلیمانی نظام کو صدارتی نطام سے تبدیل کر دینا چاہیے، تاہم صدارتی نظام بارے حکومتی حلقے بھی بحث میں الجھ کر رہ گئے ہیں کہ انہیں نظام حکومت میں تبدیلی قبول نہیں۔مختلف حلقوں کی جانب سے تبصروں اور آراء میں گورنر پنجاب چودھری سرور کا ”جواں سال“ تبصرہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں کیا خوب کہا ہے کہ ملک میں صدارتی نظام لانے کی بات کرکے ”نواں کٹا“ نہ کھولا جائے۔ظاہر ہے، ایسے خوبصورت اور قابلِ توجہ تبصرے کو ردعمل کے بغیر تو نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ویسے بھی ”نواں کٹا“ جیسے منفرد الفاظ کی تعریف تو ہونی چاہیے۔

ہر نظام حکومت کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جو لوگ محض ”شغل میلے“ کے لئے صدارتی نظام لانے کی بات کیا کرتے ہیں، انہیں گورنر چودھری سرور نے حکمت سے بھرپور اور قابلِ توجہ جواب دیا ہے۔ فرض کریں کہ صدارتی نظام لانے کی تجویز کسی دور میں قابلِ قبول ہو جائے تو مسندِ صدارت پر متمکن ہونے والے ”خوش نصیب“ کو ہمارے ملک کے عالمی شہرت یافتہ فنکار، اداکار مصطفے قریشی کچھ اس طرح مخاطب ہوں گے۔ ”نواں آیا ایں سوہنیا!“ صدارتی نظام حکومت کے حوالے سے کئی واقعات یاد آ جائیں گے۔ خصوصاً صدر جنرل محمد ایوب خان کا دور بھرپور انداز میں یاد آئے گا۔ ان کے مارشل لاء دور میں پہلی بار سارے ملک میں دکانداروں نے بھی صحت و صفائی اور ناپ تول کے حوالے سے خصوصی انتظامات کئے تھے جبکہ سول دورِ حکومت میں جمہوری جدوجہد تاریخی انداز میں دیکھنے کو ملی تھی۔ خاص طور پر بانیء پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کی الیکشن مہم اور عوامی جلسوں کو یاد کیا جائے گا۔ صدر ایوب خان کے دور میں آٹا اور چینی مہنگی ہونے پر سیاسی اور عوامی حلقوں کی طرف سے نعرہ بازی اور نامور عوامی شاعر حبیب جالب کی شاعری کے پُرجوش ٹکڑے یاد آتے ہیں۔

چینی مہنگی ہونے پر ایک واقعہ خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ صدر ایوب کی کنونشن لیگ کے سرگرم عہدیدار (اس وقت کے صوبہ سرحد) کی معروف شخصیت عبدالغفور ہوتی ماشاء اللہ وزیر بھی تھے، کا تاریخی کارنامہ بھی یاد آتا ہے کہ انہوں نے خصوصی تقریب منعقد کرکے صدر ایوب خان کو پشاور میں ایک روپے کے چاندی کے سکوں (تعداد ایک لاکھ پچس ہزار بتائی گئی تھی) میں تول کر رقم کنونشن لیگ کے فنڈ میں دے دی تھی۔ اس کے فوراً بعد ملک میں چینی مہنگی ہو گئی تھی۔ یہ بات مشہور ہو گئی کہ نوابزادہ عبدالغفور ہوتی کی شوگر مل کو فائدہ پہنچانے کے لئے صدر ایوب خان کو ایک روپے کے سکوں میں تول کر اپنی عقیدت اور محبت کا اظہا رکیا گیا تھا۔ صدارتی نظام کے حوالے سے صدر ایوب خان کا وہ سینہ گزٹ فیصلہ بھی یاد آتا ہے کہ ایوب خان کے خلاف عوامی سطح پر تو جلوس وغیرہ نکلتے رہتے تھے، ایک روز ایوب خان نے دیکھا کہ ان کے خاندان اور ملازمین کے دس بارہ بچے بھی جلوس نکال کر ”ایوب خان ہائے ہائے“ کے نعرے لگا رہے تھے۔ بچوں کے اس کھیل کو ایوب خان نے بڑی سنجیدگی سے لیا۔ ان بچوں میں ٹافیاں اور بسکٹ تقسیم کرکے انہوں نے دل ہی دل میں عہدۂ صدارت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

صدارتی دورِ حکومت کے حوالے سے گورنر نواب امیر ملک محمد خان بھی یاد آتے ہیں کہ وہ مغربی پاکستان کے گورنر رہے۔ اس وقت موجودہ پاکستان کے چاروں صوبے، مغربی پاکستان میں شامل تھے۔ گورنر ملک امیر محمد خان اپنی مونچھوں کے تاؤ کے حوالے سے بہت مشہور ہوئے۔ انتظامی اور سیاسی معاملات میں ان کا رویہ بہت سخت ہوتا تھا۔ گندم اور آٹا مہنگا ہوا تو نوائے وقت اور ڈان مین تین چار سطروں کی خبر شائع ہوئی۔ جسے پڑھ کر گورنر صاحب نے لاہور ڈویژن کے بڑے بڑے آڑھتیوں سٹاکٹس کو شام چائے کے وقت گورنر ہاؤس میں بلا کر کہا کہ گندم اور آٹا مہنگا ہونے کی خبر میری سمجھ میں نہیں آئی۔ عوام پر مالی بوجھ برداشت نہیں۔ آپ کل شام تک میرے سیکرٹری کو اس کی وجہ بتا دیں، یہ کہہ کر وہ تیزی سے اٹھ کر چلے گئے۔ ہوا یہ تھا کہ گندم کا ریٹ سترہ روپے 37پیسے من مقرر تھا لیکن ذخیرہ اندوزی کے باعث گندم اٹھارہ اور انیس روپے من بیچی جانے لگی تھی۔ گورنر صاحب کی بات سن کر تقریباً تمام سٹاکٹس اور آڑھتی بھاگتے ہوئے گورنر ہاؤس سے باہر نکل کر گاڑیوں میں بیٹھے اور اپنے کارندوں کو چیختے ہوئے ہدایت کی کہ گندم منڈیوں میں ڈھیر لگا دی جائے۔ ایسا نہ ہو گورنر صاحب انہیں ذخیرہ اندوزی میں جیل  بھیج دیں۔ اگلے روز حالت یہ تھی کہ عام لوگوں کو انیس روپے من کی بجائے سترہ روپے من گندم دستیاب تھی یعنی سرکاری ریٹ سے بھی 37 پیسے کم نرخوں پر گندم فروخت کی جا رہی تھی اور یہ سلسلہ کئی ہفتے تک جاری رہا۔ یہ ان کے رعب کا عالم تھا۔

صدارتی نظام کی بات ہو تو جنرل یحییٰ خان کا صدارتی دور ہی نہیں صدر جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کا دور بھی یاد آتا ہے۔ ان ادوار میں جو تاریخ مرتب ہوئی اس سے صدارتی نظام حکومت کے بارے میں ایک واضح سوچ جنم لیتی ہے۔ صدارتی نظام اچھا ہے یا بُرا ہے، یہ لمبی بحث ہے مگر ہوتا یہ ہے کہ یار لوگ ”شغل میلے“ کے لئے صدارتی نظام کے نفاذ کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ ستم یہ ہے کہ جو لوگ صدارتی نظام نہیں چاہتے، وہ بھی اس بحث میں حصہ لے کر اس شغل میلے کو بارونق بناتے رہتے ہیں۔ اس وقت ہمیں معیشت اور جمہوریت کی مضبوطی کے مسائل کے ساتھ ساتھ مہنگائی کا سنگین بحران بھی درپیش ہے۔ اس سلسلے میں صدارتی نظام حکومت کو بھی یاد کیا جانے لگا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ضروری تو نہیں صدارتی نظام کو اپنانے پر زور دیا جائے، دوسرے لفظوں میں ”نواں کٹا“ کھولنے کا رسک لیا جائے۔ 

مزید :

رائے -کالم -