لوگوں کے علاج معالجے کیلئے صحت کارڈ اور کورونا سے بچنے کی اپیل 

لوگوں کے علاج معالجے کیلئے صحت کارڈ اور کورونا سے بچنے کی اپیل 
لوگوں کے علاج معالجے کیلئے صحت کارڈ اور کورونا سے بچنے کی اپیل 

  

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدارنے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد سے ملاقات میں کورونا کی پانچویں لہرسے عوام کو محفوظ بنانے کیلئے اقدامات پر تبادلہ خیال اور نیا پاکستان قومی صحت کارڈ پروگرام پر پیش رفت پر بھی بات چیت کی۔  وزیر اعلیٰ نے کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت بوسٹر ڈوذ لگانے کے حوالے سے بھرپور آگاہی مہم جاری رکھے۔ ایس او پیز پر عمل کرکے شہری کورونا سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔موجودہ لہر کے پیش نظر شہریوں کو مزید احتیاط کرنا ہوگی مزید یہ کہ شہریوں کو بوسٹر ڈوذ لگانے کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔پنجاب حکومت نے شہریوں کوان کے گھر جاکرویکسی نیشن کی سہولت فراہم کی ہے۔ عثمان بزدار نے کورونا وائرس کے اومی کرون ویرئینٹ سے بچاؤ کے حوالے سے محکمہ صحت کے حکام کو ہمہ وقت چوکس رہنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ بھر میں عوام کو اومی کرون سے محفوظ رکھنے کیلئے موثر اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی فول پروف اسکریننگ کی جائے۔ عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے کیونکہ کورونا کے نئے وائرس سے بچاؤ کیلئے احتیاطی اقدامات ضروری ہیں۔ اومی کرون کی شدت پہلے ویرینٹ سے کم، پھیلاؤ تیزی سے ہوتا ہے اسی لئے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذکردی ہے۔ پنجاب کی 51 فیصد آبادی مکمل طور پر ویکسی نیٹڈ ہے۔ لیکن افسوس کہ لوگ کورونا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیراختیار نہیں کر رہے۔ پبلک مقامات پر لوگ ماسک کا استعمال نہیں کررہے۔

 ”نیا پاکستان قومی صحت کارڈ“ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا فلیگ شپ پروگرام ہے۔ صحت کارڈ کے ذریعے ہرخاندان سالانہ 10لاکھ روپے کامفت علاج کراسکے گا۔ عوام کی سہولت کیلئے یونیورسل ہیلتھ کیئر پروگرام کے تحت بیڈز کی تعداد 10ہزار سے بڑھا کر30ہزارکردی گئی ہے جبکہ پینل پر موجودسرکاری اورنجی ہسپتالوں کی تعداد43 سے بڑھا کر150کردی گئی ہے۔اس کارڈ کے ذریعے کینسرسمیت مہلک بیماریوں کا علاج ہوسکے گا۔ امراض قلب، ہیپاٹائٹس، امراض جگر، ٹی بی، ایڈز، ایمرجنسی، فریکچر کی صورت میں صوبہ بھر کے معیاری نجی ہسپتالوں سے مفت علاج کرایا جاسکے گا۔ مارچ تک 3کروڑ خاندان اور ساڑھے گیارہ کروڑ افراد کو علاج معالجے کی مفت سہولتیں میسر ہوں گی۔

پنجاب میں ہر خاندان کو ہیلتھ کارڈ فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ 31 مارچ تک پنجاب کی تمام ڈویژنزمیں صحت کارڈ فراہم کر دیا جائیگا۔ صحت کارڈ سب کیلئے ہے مگر گھر کے سربراہ کو ملے گا۔ نجی ہسپتالوں کی صحت کارڈ میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ لاہورڈویژن میں 133 ہسپتال صحت کارڈ کے پینل پرہیں۔ نیا پاکستان صحت کارڈ پروگرام ملکی تاریخ کا سب سے بڑا فلاحی پروگرام ہے۔ جس سے پنجاب کے 3 کروڑ خاندان مستفید ہوں گے۔ یہی وہ حقیقی تبدیلی ہے جو تحریک انصاف لائی ہے اور یہی وہ نیا پاکستان ہے جس کا وعدہ عوام سے کیا تھا۔ موجودہ حکومت نمائشی منصوبوں کی بجائے دور رس نتائج کے حامل منصوبے متعارف کروا رہی ہے۔ حکومت کے عوامی پروگرام فلاحی ریاست اور ریاست مدینہ کے خواب کی عملی تعبیر ثابت ہوں گے۔ کیونکہ عثمان بزدار کام کرتے ہیں، ڈھنڈورا نہیں پیٹتے۔  صحت کارڈ کا اجرا یقینا ایک اچھا اقدام ہے۔خیبرپختونخوا کے ہر گھرانے کو یہ سہولت فراہم کی جا چکی ہے۔اب پنجاب کی صوبائی حکومت نے اس کا بیڑا اٹھایا ہے۔

اب تک ملک بھر میں برطانوی حکومت کا رائج کردہ صحت کا نظام ہی کام کرتا رہا ہے۔اس کے تحت سرکاری ہسپتال قائم کئے جاتے، اور ان کے ذریعے لوگوں کو علاج معالجے کی فری سہولتیں فراہم کی جاتی رہی ہیں،یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔پنجاب میں تحصیل کی سطح تک سرکاری ہسپتال قائم ہیں۔ موجودہ حکومت نے اپنا فرض بخوبی نبھایا ہے۔ اور کورونا جیسی وبا کا سامنا کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔آج بھی پنجاب بھر میں سرکاری ہسپتال اور ان کے ڈاکٹر بڑھتی ہوئی آبادی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں،اور اسے علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کر رہے ہیں۔

ماضی میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس حوالے سے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ یوں کیاہے کہ ان کو وسائل کی فراہمی ممکن نہیں بنائی۔صحت کے شعبے کا بجٹ کم ہوتا چلا گیا ہے۔کچھ ہی عرصے پہلے تک پاکستان میں 45 ڈالر فی کس سالانہ صحت پر خرچ کیے جا رہے تھے، جبکہ ایران میں یہ اخراجات484 ڈالر اور قطر میں 1716 ڈالر تھے۔ اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں اس انتہائی اہم شعبے کو کس طرح نظر انداز کیا گیا ہے۔ صحت کارڈ کی جو سکیم شروع کی گئی ہے، اس کے تحت نجی ہسپتالوں سے کم آمدنی والے لوگ بھی استفادہ کر سکیں گے۔ اگر انہیں ہسپتال میں داخل ہونا پڑتا ہے تو یہ کارڈ ان کے کام آئے گا۔دِل اور گردے کی بیماریوں کا علاج اس کے ذریعے ممکن ہو سکے گا۔

اس انقلابی پروگرام سے لوگوں کی صحت کے اخراجات اب ان کے بجٹ کا حصہ نہیں رہے اور یہ خرچ مکمل طور پر حکومت اٹھارہی ہے۔صحت کارڈ کے لاہور ڈویژن میں اجرا کے پہلے 2 ہفتوں میں 5 ہزار سے زائد مریضوں کا مفت علاج ممکن ہوگیا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -