کیا پاکستان میں مائنس ون فارمولہ ممکن ہے؟ 

کیا پاکستان میں مائنس ون فارمولہ ممکن ہے؟ 
کیا پاکستان میں مائنس ون فارمولہ ممکن ہے؟ 

  

کیا مسلم لیگ (ن) میں نوازشریف کی کوئی جگہ لے سکتا ہے، کیا تحریک انصاف میں عمران خان کا کوئی متبادل ہے، کیا پیپلزپارٹی میں آصف زرداری کی مرضی کے بغیر کسی کا چراغ جل سکتا ہے، کیا جمعیت العلمائے اسلام (ف) سے مولانا فضل الرحمن کو مائنس کیا جا سکتا ہے؟ اے این پی اسفند یار ولی کی مرضی و منشاء کے بغیر چلائی جا سکتی ہے؟ مجھے یقین ہے ان سوالوں کا جواب ایک عام آدمی بھی نفی میں دے گا۔ پھر یہ وفاقی وزراء کیا چورن بیچ رہے ہیں؟ کیوں یہ کہانی گھڑ رہے ہیں کہ شریف خاندان سے ہٹ کر چار ایسے رہنما ہیں جو نوازشریف کی جگہ خود کو پیش کر رہے ہیں، کیا ایسے رہنما کسی غیر مرئی طاقت کے سہارے پوری جماعت کو اپنے پیچھے لگا لیں گے؟ کیا مسلم لیگ (ن) کے کارکن اور دیگر رہنما انہیں قبول کریں گے؟ جب مشرف دور میں شریف فیملی پر کڑا وقت آیا تھا، تب بھی ان کی جماعت میں دوسری قیادت نہیں اُبھر رہی تھی بلکہ مسلم لیگ (ق) بنا کر ایک نئی جماعت کھڑی کی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جماعت مسلم لیگ (ن) کا بدل ثابت نہ ہو سکی اور مسلم لیگ (ن) شریف برادران کے آتے ہی دوبارہ زندہ و مقبول ہو گئی۔ کئی رہنماؤں کی خواہش تو ہوتی ہے اور یہ فطری بات ہے کہ وہ نمبر ون بن جائیں مگر ایسا عملاً ممکن نہیں ہوتا، خاص طور پر پاکستان میں جہاں سیاسی جماعتیں خاندانوں سے پہچانی جاتی ہیں پیپلزپارٹی پر آج بھی زرداری خاندان کا قبضہ ہے مگر نعرہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو بھی جئے بھٹو کا لگاتے ہیں، یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی خاندان کو مائنس کر کے ایک نیا فرقہئ سیاست کھڑا کر سکے۔

پاکستان میں سیاست کا چلن کچھ ایسا ہی رہا ہے سیاست میں گرم بازاری اس لئے پیدا کی جاتی ہے کہ لوگوں کی توجہ ان مسائل سے ہٹائی جا سکے جن میں وہ گھرے ہوئے ہیں ایک زمانہ تھا کہ پیپلزپارٹی مسلم لیگ (ن) کی مخالفت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھی اور مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی کو آڑے ہاتھوں لے کر حساب برابر کر دیتی تھی۔ اب یہ دور ہے کہ تحریک انصاف کے وزراء صبح و شام مسلم لیگ (ن) بلکہ شریف خاندان کا ورد کرتے ہیں۔ شیخ رشید احمد چاروں شریفوں کو سیاست سے آؤٹ کر دیتے ہیں اور فواد چودھری یہ دور کی کوڑی لاتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے اندر شریف خاندان کے خلاف بغاوت ہو چکی ہے۔ نام نہیں لیتے مگر اشارہ خواجہ آصف، شاہد خاقان عباسی، ایاز صادق کی طرف ہوتا ہے کہ وہ وزیر اعظم بننے کے لئے اپنا اپنا کندھا پیش کر رہے ہیں جن وزراء کو خفیہ ہاتھ کے اشارے کی عادت پڑ چکی ہے وہ اسی خبط میں مبتلا ہیں کہ کوئی بھی اپنا کندھا پیش کر کے وزارتِ عظمیٰ حاصل کر سکتا ہے۔ اگر یہ کام اتنا ہی آسان ہوتا تو اس وقت بڑا اچھا موقع تھا جب وزارتِ عظمیٰ سے نوازشریف کو نکالا گیا اور وہ ووٹ کو عزت دو کی مہم چلا رہے تھے۔

اس وقت کسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر شریف خاندان کو دیس نکالا دینے کی کوشش کی جا سکتی تھی، پھر یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ نوازشریف نے از خود شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم کے لئے نامزد کیا تھا۔ کیا شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم بن کر مسلم لیگ (ن) کو ہائی جیک کرنے میں کامیاب رہے؟ اس سے بھی پیچھے چلے جائیں، پیپلزپارٹی نے سید یوسف رضا گیلانی کو وزیر اعظم بنوایا، کیا وزیر اعظم بننے کے باوجود وہ آصف علی زرداری کی جگہ لے سکے۔ جن کے ہاتھ میں بھٹو خاندان کا کارڈ تھا۔ پس ثابت ہوا اس طرح سیاسی جماعتیں ختم نہیں ہوتیں البتہ ان کے خلاف کام کرنے والے قصہئ پارینہ بن جاتے ہیں، چودھری نثار علی خان کی مثال سامنے ہے۔ وہ نوازشریف کے خلاف کھل کر سامنے آئے تو اپنی جماعت کی حمایت اور عہدے سے بھی محروم ہو گئے۔ ان حالات میں کہ جب مسلم لیگ (ن) نے چار سال تک سختیاں برداشت کی ہیں پھر بھی ٹوٹی نہیں یہ کیسے ممکن ہے ایک غیر مقبول ہوتی حکومت کے سامنے اس کا شیرازہ بکھر جائے یا تھوڑے وقت کے لئے کوئی اقتدار ملنے کی خواہش پر اپنی وفاداری تبدیل کرے؟

ابھی حال ہی میں ایک واقعہ ایسا ہوا جس نے پھر ثابت کر دیا کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں میں لیڈر کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔ جب کابینہ کے اجلاس میں پرویز خٹک کی وزیر اعظم عمران خان سے مبینہ تلخ کلامی کی خبریں سامنے آئیں تو ان میں یہ خبر بھی تھی کہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے اگر وہ پسند نہیں تو کوئی دوسرا وزیر اعظم بنا لیں، ظاہر ہے اس پر کابینہ اجلاس میں سناٹا چھا گیا ہوگا۔ کیونکہ تحریک انصاف میں عمران خان کا بدل کون ہو سکتا ہے۔ ایک شخص جس نے اپنی جماعت کو بنانے اور اقتدار تک لانے کے لئے بائیس سال تک محنت کی ہو اسے اچانک کوئی دوسرا شخص کیسے اپنی ذات سے تبدیل کر سکتا ہے، اسے قبول کون کرے گا اور پارٹی کا شیرازہ کیسے محفوظ رہ سکے گا۔ سب دیکھ چکے ہیں تحریک انصاف سے کتنے لوگ گئے، کتنوں نے کیا کچھ نہیں کیا لیکن وہ عمران خان کی پارٹی پر گرفت کو کمزور نہیں کر سکے۔ یہ ایک سچائی ہے جسے تسلیم کئے بنا چارہ نہیں کیا عجب ماجرا ہے کہ انہی وزراء کو جب یہ کہا جائے کہ تحریک انصاف کے اندر عمران خان کے خلاف لاوا پک رہا ہے تو وہ ایسے لوگوں کو دھتکارے ہوئے اور ناکام لوگ کہہ کر مسترد کر دیتے ہیں، مگر مسلم لیگ (ن) کے حوالے سے انہیں ایسے لوگ بڑے کامیاب نظر آتے ہیں جو بقول ان کے نوازشریف کے خلاف اسٹیبلشمنٹ سے ملاقاتیں کر کے اپنا کندھا پیش کرتے ہیں، اس میں کوئی منطق کیونکر تلاش کی جا سکتی ہے۔

مریم نواز نے بڑے پتے کی بات کہی ہے ان کا کہنا ہے عمران خان ابھی وزیر اعظم ہیں لیکن ان کے خلاف کابینہ کے اندر اور اسمبلی میں ان کے ہی ارکان باتیں کر رہے ہیں۔

نوازشریف تو چار سال سے اقتدار میں نہیں لیکن پھر بھی ان کی جماعت متحد ہے، اسے توڑنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔ ن میں سے ش نکالنے کی باتیں بھی بہت ہوئیں اور فارورڈ بلاک بنانے کے دعوے بھی بہت کئے گئے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ایک صوبائی رکن اسمبلی نشاط احمد خان ڈاہا نے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر منتخب ہو کر اپنی جماعت سے بے وفائی کی تھی، ان کی وفات کے بعد خانیوال میں ضمنی انتخاب ہوا تو عوام نے ان کی اہلیہ کو ووٹ نہیں دیئے اور تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے کے باوجود وہ شکست کھا گئیں۔ گویا ایک عوامی دباؤ بھی موجود ہے جو مسلم لیگ (ن) کے ارکانِ اسمبلی کو ادھر سے اُدھر نہیں جانے دیتا۔ سوال یہ ہے آج کل صبح و شام وفاقی وزراء نوازشریف کا ورد کیوں کر رہے ہیں۔ کبھی انہیں واپس لانے کی باتیں کی جاتی ہیں، کبھی ان کی میڈیکل رپورٹ منگوائی جاتی ہے۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے ان کے خلاف پارٹی میں بغاوت ہو گئی ہے۔ کبھی شہباز شریف کو ان کے مقابل کھڑا کیا جاتا ہے اور کبھی ڈیل کی کوششوں کا تذکرہ کر کے مظلوم بننے کی کہانی گھڑی جاتی ہے۔ یہ سب باتیں عوام کو سیاسی کھیل تماشوں میں الجھانے کی ایک کوشش نظر آتی ہے، تاکہ مہنگائی نے ان کا جو برا حال کر رکھا ہے اس سے ان کی توجہ ہٹائی جا سکے کیونکہ نوازشریف کی مخالفت کا چورن آج بھی اچھے باؤ بک جاتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -