مردہ خاتون کی مدعیت میں اندراج مقدمہ کیس،پولیس سے جواب طلب

مردہ خاتون کی مدعیت میں اندراج مقدمہ کیس،پولیس سے جواب طلب

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ کے مسٹرجسٹس ملک شہزاد احمد خان نے پولیس کی جانب سے 16 سال قبل وفات پانیوالی خاتون کی مدعیت میں درج مقدمہ کے اخراج کیلئے دائر درخواست پرمردہ خاتون کی مدعیت میں مقدمہ کے اندراج پر حیرانی کااظہار کرتے ہوئے پولیس سے 15 فروری کو جواب طلب کرلیاہے،درخواست گزار محمد اکبر کی طرف سے عاصم شہزاد بھٹی ایڈووکیٹ نے موقف اختیارکیا کہ تھانہ موترا پولیس نے 30 دسمبر 2021ء کو فہمیدہ ارشد کی درخواست پر چوری کا بے بنیاد مقدمہ درج کیا، مقدمہ میں کھاد کی بوریاں چوری کرنے اور جائیداد پر قبضہ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے، مقدمہ کی مدعیہ فہمیدہ ارشد 2005ء میں وفات پا چکی ہے، فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک خاتون 2005ء میں وفات پا چکی ہو اور 2021ء میں اس کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا جائے،دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مدعیہ فہمیدہ ارشد کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی عدالت میں پیش کر دیا،وکیل نے کہا کہ درخواستگزار محمد اکبر مدعیہ کا حقیقی بھائی ہے،اس کا موقف ہے کہ بہنوئی ارشد نے جائیداد پر قبضہ کرنے کیلئے جھوٹا مقدمہ درج کروایا، عدالت سے استدعاہے کہ مردہ خاتون کی مدعیت میں درج مقدمہ بے بنیاد قرار دے کر خارج کیا جائے۔

مردہ خاتون

مزید :

صفحہ آخر -