پنجاب کے 5شہروں میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ، کورونا کی نئی لہر میں معیشت، کاروبار بند نہیں کرینگے: عمران خان 

  پنجاب کے 5شہروں میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ، ...

  

       اسلام آباد(آئی این پی)وزیراعظم نے کہا ہے کہ پنجاب کے 5 شہروں میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ بدھ کووزیراعظم کی زیرصدارت شہروں کی ماسٹر پلاننگ سے متعلق اجلاس ہوا جس میں پنجاب کے 5 شہروں میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ لاہور، راولپنڈی،فیصل آباد، گوجرانوالہ اور ملتان کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈز جاری ہوں گے۔ وزیراعظم نے پارٹی سے پانچوں شہروں کے ممکنہ میئرز کی تفصیلات طلب کر لیں۔پنجاب میں لوکل گورنمنٹ انتخابات 15 مئی سے شروع ہو رہے ہیں جن کا سلسلہ مئی سے جون تک جاری رہے گا۔ پی ٹی آئی مربوط پلان سے بلدیاتی انتخابات میں اترے گی اور پنجاب حکومت 5 شہروں کی ماسٹر پلاننگ کی منصوبہ بندی کرے گی۔ وفاقی حکومت فنڈز کے اجرا میں پنجاب حکومت سے تعاون کرے گی۔وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ ہم بڑے شہروں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، بڑے شہرقومی معیشت کی ترقی کے حقیقی انجن ہیں، دیہی سے شہری علاقوں کی نقل مکانی کی وجہ سے شہروں کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، بڑے شہروں میں رہائش، ملازمت کے مواقع اور شہری سہولیات کی کمی ہے، ان کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکجز پر کام کو تیز کیا جائے اور مختلف ترقیاتی اسکیموں کی تکمیل کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے۔

ترقیاتی منصوبے

 اسلام آباد (آئی این پی) وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ  پوری دنیا میں کورونا کی ایک اور لہر آ رہی ہے  تاہم حکومت معیشت، کاروبار کو بند نہیں کرے گی  بلکہ حکمت عملی کو مزید بہتر بنا کر کورونا کے چیلنج کا سامنا کریں گے، حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جومعیشت اور بر آمدات  میں رکاوٹ ڈالے گا اس کے خلاف ایکشن لیں گے، ہمیں شرم آتی ہے کہ چھوٹا سا 50لاکھ کی آبادی والے ملک سنگاپور کی  بر آمد ات  300ارب ڈالر سے زیادہ ہیں جبکہ 22کروڑ کی آبادی والے ہمارے  ملک کی ایکسپورٹس صرف  24ارب ڈالرز ہیں، بیورو کریسی نے کام کرنا چھوڑ دیا جس کی وجہ سے ہم آہستہ آہستہ نیچے جانے لگے ہیں،سب سے قابل بیورو کریسی میں سیاسی مداخلت اور دیگر خرابیاں ہو گئیں،60کی دہائی میں خطے میں تیزی سے ترقی کرنے والا ملک تھا اور باہر ملکوں سے شہزادے ہماری درس گاہوں میں آئے تھے لیکن بدقسمتی سے ہم اپنا راستہ بھول گئے، ہماری حکومت ریکارڈ ٹیکس اکٹھا کیا ہے، 6ہزار ارب ٹیکس اکٹھا کرلیا ہے اور 8ہزار ارب کے ٹارگٹ کو پورا کریں گے۔ وہ بدھ کو یہاں  اسلام آباد میں سمال میڈیم انٹر پرائز ز پالیسی 2021کے اجراء کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ سمال اینڈ میڈیم انڈسٹری معیشت کی ترقی کیلئے بہت اہم ہے، لیکن آج تک ملک میں ایس ایم ایز سیکٹر کو اہمیت نہیں دی گئی، ایس ایم ای سیکٹر ہی ملک میں سب سے زیادہ روزگار فراہم کرتا ہے، جی ڈی پی میں بھی بہت بڑا حصہ اس سیکٹر کا ہے اور بدقسمتی سے اس سیکٹر کا ملکی معیشت میں وہ شیئر نہیں ہے جو ہونا چاہیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں سمال انڈسٹریز کو فروغ نہ دینے کی وجہ بینکوں سے قرضہ نہ ملنا ہے اور اگر ملتا بھی تھا تو وہ بہت مشکل مرحلہ ہوتا تھا، ہماری حکومت نے سمال اینڈ میڈیم انڈسٹری کیلئے پالیسی کا اجراء کر کے قرضوں کے حصول میں آسانیاں پیدا کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ جنون اور کاروباری سوچ نوجوانوں اور خواتین میں ہوتی ہے لیکن پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے اپنی مثبت سوچ کو آگے بڑھانے سے قاصر رہ جاتے ہیں، امریکہ میں بھی معاشی انقلاب سیلیکون ویلی سے آیا تھا وہاں کی حکومت نے نوجوانوں کو سہارا دیا تھا اور ان کے آئیڈیاز کو استعمال کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر ہم نے دنیا کی دوسری نوجوان آبادی ہونے کا فائدہ اٹھانا ہے تو انہیں مکمل مدد فراہم کرنا ہو گی اور ریاست کو آگے آنا ہو گا۔وزیراعظم نے کہا کہ ایس ایم ای پالیسی کے اجراء سے ملک کو آنے والے دنوں میں فائدہ ہو گا اور روزگار کی فراہمی کیلئے اہم ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں کورونا کی ایک اور لہر آ رہی ہے لیکن حکومت معیشت کو بند نہیں کرے گی، حکمت عملی کو مزید بہتر بنا کر کورونا کے چیلنج کا سامنا کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت ریکارڈ ٹیکس اکٹھا کیا ہے، 6ہزار ارب ٹیکس اکٹھا کرلیا ہے اور 8ہزار ارب کے ٹارگٹ کو پورا کریں گے، کسانوں کو مدد فراہم کر رہے ہیں، جس سے ملک میں گندم، گنا، مکئی اور چاول میں ریکارڈ فصل ہوگئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مانتا ہوں کہ مشکل وقت ہے لیکن دنیا میں دیکھیں کہ وہاں معاشی کیا حالات ہیں اور ہمیں دیکھیں جو برے حالات سے شروع ہوئے تھے اور آج کیا حالات ہیں،آنے والے دنوں میں لوگ دیکھیں گے کہ ہم نے جو تین سالوں میں محنت کی ہے اور جو اقدامات کئے ہیں اس کے اثرات نظر آئیں گے، آج میں حکومتی پالیسی اور اصلاحات کی وجہ سے دولت میں اضافہ ہو رہا ہے۔دریں اثنا وزیراعظم عمران خان سے گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ملاقات کی جس میں سندھ کی ترقی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔بدھ کو ملاقات میں وزیراعظم کو سندھ کی صوبائی حکومت کی 3 سالہ کارکردگی پرتفصیلی بریفنگ دی گئی۔وزیر اعظم  عمران خان نے اسد عمر کے ساتھ مل کر صوبے میں جاری تمام ترقیاتی اسکیموں پر کام کی رفتار کو تیز کرنے کی ہدایت دی۔واضح رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران  خان نے کہا تھا کہ چھوٹے کاروباری افراد کیلئے قرضوں کی سہولت پیدا کی ہے جب کہ ماضی میں چھوٹے سرمایہ کاروں کوبینک قرضے نہیں دیتا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ ریاست کو نوجوانوں کی مدد کرنا ہو گی، نوجوانوں کے اندر زیادہ جنون ہوتا ہے، نوجوانوں کے پاس بہت آئیڈیاز ہوتے ہیں، ہم کاروبار کرنے والوں  کیلئے آسانیاں پیدا کررہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا ماضی کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ملک نیچے گیا، ہمیں شرم آتی ہے اتنی آبادی کے باوجود برآمدات چھوٹے ممالک سے کم ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے چھوٹے ممالک برآمدات میں ہم سے آگے نکل گئے،اب ہمیں برآمدات بڑھانے پر توجہ دینا ہو گی، رکاوٹیں ڈالنے والوں کے خلاف ایکشن لیں گے،کورونا کی ایک اور لہر آرہی ہے لیکن ہم اپنی معیشت بند نہیں کریں گے، 22کروڑ کے ملک میں صرف 20لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں، بہت سارے لوگ ہیں جو ٹیکس ہی نہیں دیتے۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -