سانحہ مری، 15انتظامی افسر عہدوں سے فارغ، انضباطی کارروائی بھی ہو گی: وزیراعلٰی پنجاب 

      سانحہ مری، 15انتظامی افسر عہدوں سے فارغ، انضباطی کارروائی بھی ہو گی: ...

  

 لاہور (نمائندہ خصوصی، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سانحہ مری کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اے سی مری سی پی او ڈپٹی کمشنر اورسی ٹی او راولپنڈی سمیت 15انتظامی افسروں ان کے عہدوں سے ہٹا دیا۔خیال رہے 9  جنوری کو سیاحتی مقام مری میں شدید برف باری کے باعث ہزاروں افراد سڑکوں پر پھنس کر رہ گئے تھے اور اس دوران شدید سردی اور گاڑیوں میں دم گھٹنے سے 23 سیاح زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔ واقعے کے بعد پنجاب حکومت نے تحقیقات کیلئے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی جس کی رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کی گئی ہے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے کہا سانحہ مری بہت بڑا واقعہ ہے، انکوائری رپورٹ کے مطابق غفلت، کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی۔ قوم سے سانحہ مری کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا وعدہ کیا تھا۔ قوم سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کردیا۔وزیر اعلی پنجاب کا کہنا تھاکہ کمشنر را و لپنڈی ڈویڑن کو عہدے سے ہٹاکر وفاقی حکومت بھیج دیاگیا ہے اور معطل کرنے کی سفارش بھی کی گئی ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو عہدے سے ہٹا کر خدمات وفاقی حکومت کے سپرد،معطل کرنے اورانضباطی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے اے سی مری کوبھی معطل کردیاگیا اورانضباطی کارروائی بھی کی جائیگی۔ سی پی او راولپنڈی اوراے ایس پی مری کو عہدے سے ہٹا کرخدمات وفاقی حکومت کے سپرد، معطلی اورانضباطی کارروائی کی سفارشات کی گئی ہیں سی ٹی او راولپنڈی،ڈی ایس پی ٹریفک اورایس ای ہائی ویز سرکل ٹو راولپنڈی معطل، انضبا طی کارروائی بھی ہوگی ایکسین ہائی راولپنڈی،ایکسین ہائی وے میکینکل،ایس ڈی او ہائی وے میکینکل کو بھی معطل کردیاگیا۔وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدارکا مزید کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر مری،انچار ج مری ریسکیو 1122،ڈویڑنل فارسٹ آفیسر بھی معطل،انضباطی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگاڈائریکٹر پی ڈی ایم اے پنجاب کو معطل کر کے انضباطی کارروائی کا حکم دے دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی نے پس پردہ حقائق کا جائزہ لیا، متعلقہ افسران اپنے فرائض انجام دینے سے قاصر رہے، افسران کوہٹا کر ان کے خلاف انضباطی کارروائی کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ اس کمیٹی نے بڑی عرق ریزی سے اس سانحہ کی رپورٹ مرتب کی اور پس پردہ حقائق کا جائزہ لیا۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق غفلت اور کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی۔ متعلقہ حکام اپنے فرائض اور رسک کا ادراک کرنے سے قاصر رہے۔۔سانحہ مری کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ افسران واٹس ایپ پر چلتے رہے اور صورتحال کو سمجھ ہی نہ سکے۔سانحہ مری کی تحقیقاتی ٹیم نے رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو پیش کر دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تمام متعلقہ محکمو ں کی غفلت ثابت ہوئی ہے۔تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ افسران واٹس ایپ پر چلتے رہے اور صورتحال کو سمجھ ہی نہ سکے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افسران نے صورتحال کوسنجیدہ لیا نہ کسی پلان پرعمل کیا جبکہ کئی افسران نے واٹس ایپ میسج بھی تاخیر سے دیکھے۔ سی پی او، سی ٹی او بھی ذمے داری پوری کرنے میں ناکام رہے جبکہ محکمہ جنگلات اور ریسکیو 1122 کا مقامی آفس بھی ڈلیور نہ کرسکا اور ہائی وے محکمہ بھی ذمیداری ادا کرنے میں ناکام رہا۔

سانحہ مری

  لاہور(آئی این پی، مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارکی زیرصدارت وزیراعلیٰ آفس میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی گورننگ باڈی کا اجلاس منعقد ہوا،جس میں مین گلبرگ سے موٹروے ٹو ایلیویٹڈ ایکسپریس وے پراجیکٹ کے پی سی ون کی اصولی منظوری دی گئی۔ بدھ کو وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ایلیویٹڈ ایکسپریس وے پراجیکٹ کی فنانسگ کا طریقہ کار طے کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایلیویٹڈ ایکسپریس وے پراجیکٹ لاہور کے شہریو ں کی ضرورت ہے لہذا اس  پراجیکٹ کو تیز رفتاری سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔اجلاس میں لاہور ڈویژن کے ماسٹر پلان 2050 پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔کنسلٹنٹ نے ماسٹر پلان 2050 کے اہم خد و خال کے حوالے سے بریفنگ دی۔اجلاس میں لاہور کے ماسٹر پلان کیلئے سپروائزری کمیٹی تشکیل دینے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے لاہو رکے ماسٹر پلان کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرکے قابل قبول ماسٹر پلان پیش کیا جائے۔اجلاس میں نیا پاکستان اپارٹمنٹس کے تعمیر کے حوالے سے ایل ڈی اے اور بینک آف پنجاب کے مابین مختلف معاہدوں کا جائزہ لیاگیا۔وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے نیا پاکستان اپارٹمنٹس پراجیکٹ پر کام تیز کرنے کا حکم دیا۔اجلاس میں ایمپلائز کوٹہ کیس کا معاملہ قانونی مشاور ت کیلئے لاء ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کرنے کی منظوری دی گئی جبکہ جوہر ٹاؤن میں فنانس اینڈ ٹریڈ سینٹر کی 325 کنال اراضی نیلام کرنے کی اصولی منظوری دی گئی۔اجلاس میں لے آؤٹ پلان، بلڈنگ ریگولیشن اور دیگر امو رکی مشروط اجازت دے دی گئی۔اجلاس میں مینجمنٹ آف پراپرٹیز آف ایل ڈی اے جوائنٹ وینچر ریگولیشن 2022 کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں ایل ڈی اے کی گورننگ باڈی کے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔ ڈی جی ایل ڈی اے احمد عزیز تارڑ نے اجلاس کو بریفنگ دی۔رکن پنجاب اسمبلی سعدیہ سہیل، وائس چیئرمین ایل ڈی اے نعیم الحق، وائس چیئرمین واسا شیخ امتیاز محمود، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ، سیکرٹری ہاؤسنگ، کمشنر لاہور ڈویژن اور گورننگ باڈی کے اراکین نے اجلاس میں شرکت کی۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارسے  صوبائی وزیر بلدیات میاں محمودالرشید نے ملاقات کی جس میں بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔ بدھ کو وزیراعلیٰ  پنجاب عثمان بزدار نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کیلئے یکسو ہے،نیا لوکل گورنمنٹ ایکٹ پنجاب میں ترقی کی نویدثابت ہوگا،نئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے نفاذ سے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوسکیں گے۔براہ راست الیکشن سے بلدیات کی سیاست میں حقیقی تبدیلی رونما ہوگی۔انہوں نے کہا کہ نیا لوکل گورنمنٹ ایکٹ شب و روزمحنت اورعرق ریزی سے تیار کیا گیاہے۔ویلج کونسل اورنیبر ہڈ کونسل کے ذریعے مقامی سطح پر مسائل کا فوری ادراک ممکن ہوگا۔ میاں محمود الرشید نے کہا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا بلدیات کے ذریعے تبدیلی لانے کا ویژن قابل تحسین ہے اور بلدیاتی الیکشن کے جلد انعقادپرمتفق ہیں۔

وزہر اعلیٰ پنجاب

مزید :

صفحہ اول -