حکومت کے جانے اور صدارتی نظام کی باتیں محض قیاس آرائیاں ہیں: شاہ محمود قریشی

حکومت کے جانے اور صدارتی نظام کی باتیں محض قیاس آرائیاں ہیں: شاہ محمود قریشی

  

       اسلام آباد(این این آئی)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے وزیراعظم عمران خان کے وژن کے تحت ملک کی خارجہ پالیسی کو نئی سمت دی اور ہم نے قومی سلامتی پالیسی میں جیوپولیٹکس کی بجائے جیو اکنامک پالیسی کو مرکز بنایا، مالی آزادی اور معاشی خودمختاری کے بغیر پاکستان خوشحال اور مستحکم نہیں ہو سکتا، پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط بنانا وزیراعظم عمران خان کا خواب ہے، اس سلسلے میں معاشی استحکام کیلئے برآمدات میں اضافہ اور علاقائی تجارت کو فروغ دینا ہو گا، حکومت جانے اور صدارتی نظام کی باتیں محض قیاس آرائیاں ہیں ان پر توجہ نہیں دیتا، اپوزیشن صرف اپنے ورکرز کو امید دلا رہی ہے کہ حکومت جا رہی ہے اور ہم آ رہے ہیں جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں، تحریک انصاف حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔ بدھ کو نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام سے نہ صرف وفاق مضبوط ہو گا بلکہ گورننس اور سروس ڈلیوری کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی، سابقہ ادوار میں بھی اس حوالے سے بات چیت ہوتی رہی لیکن تحریک انصاف پہلی حکومت ہے جس نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کیلئے صرف سیاسی نعرہ نہیں لگایا بلکہ سنجیدہ کوشش کی، ہم اکیلے کریڈٹ نہیں لینا چاہتے، چاہتے ہیں کہ تمام سیاسی جماعتیں نیک مقصد میں سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں آئینی ترمیم کیلئے ساتھ دیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کی آبادی کئی یورپین ممالک سے بھی زیادہ ہے، 70 کی دہائی سے جنوبی پنجاب کے لوگوں کی الگ صوبے کی خواہش ہے، اپوزیشن جماعتیں بھی صوبے کی مخالفت نہیں کر رہیں اسلئے ہم نے اتفاق رائے کیلئے اپوزیشن کو دعوت دی ہے، اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ وہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کی خواہش کو مقدم رکھے اور صوبے کے قیام کیلئے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کرے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب نے عام انتخابات میں تحریک انصاف کو قومی اسمبلی کی 46 میں سے 34 سیٹیں جتوا کر بھاری مینڈیٹ دیا، واضح مینڈیٹ کے بعد ہمارا اخلاقی اور سیاسی فرض بنتا ہے کہ ہم لوگوں کی خواہش کا احترام کریں، 

شاہ محمود

اسلام آباد(آئی این پی)  پی ٹی آئی نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کو دعوت دے دی، وزیر  خاجہ  شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں مل کر جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے آئینی ترمیم کی منظوری پر اتفاق رائے کو یقینی بنانا چاہیے۔  بدھ کو  پی ٹی آئی کے نائب چیئرمین و وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ پی ٹی آئی کے منشور میں جنوبی پنجاب کے عوام کے لیے الگ صوبہ بنانے کا وعدہ کیا گیا، سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں آئینی ترمیم پر اتحاد ضروری ہے، پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین کے طور پر اپوزیشن رہنماں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اس کو حقیقت بنانے میں ہمارا ساتھ دیں، اصلاحات کے ذریعے، ہماری توجہ جنوبی پنجاب کی سماجی و اقتصادی ترقی کی جانب مرکوز ہے۔  شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے ماتحت جنوبی پنجاب سول سیکرٹریٹ انہی کاوشوں کا مظہر ہے، جنوبی پنجاب کے عوام کی آسانی، سہولت اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے ضلعی ترقیاتی رابطہ کمیٹیاں قائم کی جا چکی ہیں، بحیثیت جماعت ہم جنوبی پنجاب کو ایک الگ صوبے کے طور پر تسلیم کرانے کے لیے مسلسل کام جاری رکھے ہوئے ہیں، ہم نے جنوبی پنجاب اور رِنگ فینسنگ کے لیے 35 فیصد سے زیادہ ترقیاتی بجٹ کے ساتھ، علیحدہ، نوکریاں اور انتظامی ڈھانچہ قائم کیا ہے تاکہ دوبارہ اس رقم کی مالی تخصیص کو روکا جا سکے۔ وزیر خاجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپوزیشن رہنماں کو دعوت دیتا ہوں وہ جنوبی پنجاب کے عوام کی دیرینہ خواہش کی تکمیل کیلئے آگے بڑھیں، ہمیں مل کر جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے آئینی ترمیم کی منظوری پر اتفاق رائے کو یقینی بنانا چاہیے۔

شاہ محمود

مزید :

صفحہ اول -